مقبوضہ کشمیر ، حریت قیادت کا سانحہ گاؤ کدل میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت

مقبوضہ کشمیر ، حریت قیادت کا سانحہ گاؤ کدل میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے سانحہ گاؤکدل میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں یہ واقعہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیئرمین حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے ان سرفروشوں کو کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کرتی ہیں، جو ان کے شاندار مستقبل کیلئے اپنی عزیز جانوں کی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے گاؤکدل اور اس نوعیت کے دوسرے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا اپنا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے جموں کشمیر میں سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور جب تک ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا ہے اس خطے میں معصوم انسانی زندگیوں کا اتلاف جاری رہے گا اور غیر یقینی صورتحال میں برابر اضافہ ہوتا رہے گا۔انہوں نے کہا ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان قربانیوں کی ہر سطح پر حفاظت کریں اور ان عظیم لوگوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہ کریں، جنہوں نے ہمارے آنے والے کل کیلئے اپنے آج کو قربان کیا ہے۔ گیلانی نے دانشوروں، مورخوں، مصنفوں اور ادیبوں سے اپیل کی کہ وہ گاوکدل سانحہ اور اس نوعیت کے تمام دوسرے واقعات دستاویزی صورت میں مجتمع کریں۔انہوں نے مزید کہا یہ ایک قومی فیصلہ ہے، جس کی ادائیگی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حریت چیئرمین نے اس بات کیلئے عالمی برادری کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ گاوکدل سانحہ اور جموں کشمیر میں پیش آئے قتل عام کے دوسرے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کے لیے کوئی موثر رول ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور وہ خطے کی سنگین صورتحال کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ گیلانی نے اقوامِ متحدہ کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کی نسل کشی میں ملوث بھارتی فوج کے افسروں اور اہلکاروں کے خلاف اس نوعیت کے مقدمات چلائیں، جس طرح انہوں نے بوسنیا اور ہرزی گوینا میں سرب فوج کے افسروں کے خلاف چلائے تھے۔دختران ملت نے سانحہ گاوکدل کے شہداکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو ان شہداکو زوردار خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے تاکہ دنیا پر باور کیا جائے کہ ہم اپنے شہداکو کبھی نہیں بھول سکتے۔ تحریک کشمیر کے صدر جنرل محمد موسی نے کہا ہے کہ بھارت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ طاقت کا استعمال نہ تو مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنی منزل حاصل کرنے کے لئے جدوجہد سے روک سکتا ہے۔ جنرل موسی تنظیم کے ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم نے اپنی قربانیوں سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ آزادی کے حوالے سے نہ تو کسی مصلحت سے کام لے گی اور نہ ہی اپنے موقف سے دستبردار!۔ ڈیمو کریٹک پو لٹیکل مونٹ کے ایک دھڑے کے چیئرمین ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی،جنرل سکریٹری خواجہ فردوس کے علاوہ شکیل احمد بٹ، یار محمد خان اور محمد عمران گاکدل سرینگر جائے وقوع پر گئے جہاں انہوں نے شہداکی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے اجتماعی دعا میں شرکت کی ۔

ڈی پی ایم کے دوسرے دھڑے کے چیئرمین فردوس احمد شاہ نے گاکدل جاکر اس سانحہ میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اقوام عالم کے سامنے ضرورجواب دینا پڑے گا۔ ماس مومنٹ نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ میں یہ واقعہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ترجمان کے مطابق ماس مومنٹ چیئرمین مولوی بشیر عرفانی اور جنرل سیکریٹری پرنس سلیم سمیت کئی دیگر مزاحمتی کارکن گا کدل پہنچے تاہم فورسز اور پولیس نے دعائیہ تقریب کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔اس دوران تنظیم کی سربراہ فریدہ بہن جی نے کہا کہ21جنوری1990کے روز سرینگر میں جو واقعہ رونما ہوا وہ جمہوریت کے دعویداروں کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے جس کو وہ روز قیامت تک نہیں دھو سکتے۔ اسلامک پولیٹکل پارٹی کے سربراہ محمد یوسف نقاش نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دلخراش سانحات نے پوری قوم کو جنجھوڑ کر رکھ دیا اور جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو ایک نئی جلا بخشی ۔انہوں نے گاو4156دل میں شہداکی یاد میں بلائے گئے اجتماع میں شرکت کی۔مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کے چیئرمین شبیر احمد ڈار،انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے سربراہ محمد احسن انتو اورینگ مینز لیگ چیئرمین امتیاز احمد ریشی کے مشترکہ بیان کے مطابق جونہی وہ گا کدل پہنچے تو وہاں پر موجود پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے بنا کسی وجہ کے ان پر حملہ کیا،جس کے نتیجے میں محمد احسن اونتو زخمی ہوگئے ۔بیان کے مطابق انتو کے بائیں ہاتھ میں فریکچر ہوا اور اس کے چہرے کو زخموں سے چور چور کر دیا اور بعد میں انہیں تھانے پہنچایا گیااور وہاں پر درجنوں پولیس اہلکاروں نے ایک بار پھر اونتو کی پٹائی کی جس سے وہ شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ بیان میں اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ محاذآزادی کے ایک دھڑے کے صدر محمداقبال میر ،نائب صدر قطب عالم اور جنرل سیکریٹری جمشید عادل نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ گاکدل سانحہ تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جسکا جواب ہندوستان کو ایک نہ ایک دن ضروردینا پڑے گا۔ پیپلز لیگ کے سربراہ غلام محمد خان سوپوری نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گاکدل تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے جب بھارتی فوج نے ایسی بھیانک داستان رقم کی جسے آج تک حریت پسند کشمیری عوام فراموش نہیں کرسکتے۔

مزید : عالمی منظر