بھارتی عدالت نے بم دھماکوں کے الزام میں3کشمیری مجاہدین کو سزائے موت سنادی

بھارتی عدالت نے بم دھماکوں کے الزام میں3کشمیری مجاہدین کو سزائے موت سنادی

سری نگر / کولکتہ ( اے این این ) بھارتی عدالت نے 2007 بم دھماکوں کے الزام میں تین کشمیری مجاہدین کو سزائے موت سنا دی ٗبی ایس ایف نے تینوں کشمیریوں کو 2007ء میں سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کرلیا تھا ٗعدالت میں کیس کا ٹرائل 10 سال تک چلتا رہا ٗ سانحہ گا ؤکدل کی27ویں برسی ٗلالچوک اور گردونواح میں ہڑتال اور بندشیں ٗمشترکہ حریت قیادت کی جانب سے تقریب کا انعقاد ٗسید علی گیلانی مسلسل گھر میں نظر بند ٗمیر واعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ کو بھی ممکنہ طور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی پاداش میں نظر بند کردیاگیا ۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس بیجے کمار پٹنائیک نے 10سالہ ٹرائل کے بعد گزشتہ ہفتے تین کشمیری شہریوں کو قصور وار قرار دیا تھا۔کل عدالت نے محمد یونس ٗ محمد عبداللہ اور مظفر احمد کو سزائے موت سنائی ۔اس کیس میں شیخ سمیر چھتیس گڑھ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔سمیر مہاراشٹر کا رہنے والا ہے ۔اسے بھی محمد عبداللہ ، مظفر احمد اور محمد یونس کے ساتھ بی ایس ایف نے 4اپریل 2007کو گرفتار کیا تھا۔مظفر احمد اننت ناگ کا رہنے والا ہے ۔ پولیس نے دعوی کیا تھا کہ سمیر نے 11جولائی 2006میں ممبئی سیریل بم دھماکے میں کلیدی کردار اداکیا تھا۔بی ایس ایف نے یہ گرفتاریاں خفیہ محکمہ کی اطلاع پر کی تھیں ۔ دوسری جانب شہر کے سیول لائنز علاقے میں کچھ جگہوں پر ناکہ بندی کے باوجود مزاحمتی خیمے نے شہدائے گاؤ کدل کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے تقریب منعقد کی ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لالچوک اور اس کے گر دونواح علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ لالچوک،آبی گزر،کورٹ روڈ ،ریگل چوک،مائسمہ،پولو ویو،حبہ کدل،سرائے بالا،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،مہاراج بازار،گونی کھن سمیت دیگر علاقوں میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند تھے ۔شہدائے گاؤ کدل کی27ویں برسی کے موقعہ پر انتظامیہ نے لالچوک اور ملحقہ علاقوں میں قدغنیں عائد کی تھیں جس کے دوران لوگوں کے عبور و مرور میں رکاوٹیں پیش آئیں۔ مزاحمتی خیمے کی طرف سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ٹورسٹ سینٹر سے ریذیڈنسی روڑ پر گاڑیوں کی نقل وحمل بند کی گئی تھی تاہم پیدل چلنے کی اجازت دی جا رہی تھی۔ ریگل چوک کے نزدیک بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور لالچوک کی طرف گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ گاؤ کدل پل پر خار دار تار نصب کی گئی تھی تاکہ ممکنہ احتجاجی مظاہرین کو جائے وقوع کی طرف جانے سے روکا جائے۔ لالچوک کے علاوہ آبی گزر،ریگل چوک،مائسمہ،کورٹ روڑ،نئی سڑک،حبہ کدل،گاؤ کدل،مدینہ چوک،ریڈ کراس روڑ،کوکر بازار سمیت دیگر نواحی علاقوں میں فورسز اور پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا۔اس دوران سید علی شاہ گیلانی مسلسل گھر میں نظر بند رہے جبکہ میر واعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ کو بھی ممکنہ طور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی پاداش میں نظر بند رکھا گیا۔

سری نگر

مزید : علاقائی