مسلم ممالک مشترکہ منڈی اور متفقہ تعلیمی نصاب بنائیں : مذہبی سیاسی جماعتیں

مسلم ممالک مشترکہ منڈی اور متفقہ تعلیمی نصاب بنائیں : مذہبی سیاسی جماعتیں

 اسلام آباد(آئی این پی) رابطہ عالم اسلامی اور وزارت مذہبی امور کے تعاون سے منعقدہ پیغام امن و اعتدال کانفرنس میں دینی و سیاسی جماعتوں نے سعودی عرب سے مسلم عسکری اتحاد کی طرح مسلمان ممالک کی مشترکہ منڈی، متفقہ تعلیمی نصاب کامطالبہ کردیا ،عسکری اتحاد کی قیادت کی پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف کو پیشکش کرنے کا خیرمقدم،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کیلئے دیئے گئے حالیہ بیان پر آرمی چیف کو خراج تحسین پیش ،مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے عزم کیا ہے کہ اتحاد امت ہی موثر ہتھیار ہے،جس کے ذریعہ مسلم امہ کے سماجی معاشی اور اقتصادی حالات کو تبدیل کیاجاسکتا ہے،مسلم ممالک میں دوریاں دور کرنے اور ایران و سعودی عرب میں ثالثی کیلئے کوششوں کو تیز ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کے چیئرمین و سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ وجے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری،وفاقی وزراء لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ،سردار محمد یوسف،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے صدر سینیٹر پروفیسر ساجدمیر،جمعیت علماء پاکستان کے رہنما مولانا انس نورانی،دیگر رہنماؤں نے پاک چائنہ دوستی مرکز میں منعقدہ پیغام امن و اعتدال کانفرنس میں خطاب کے دوران کیا۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کانفرنس میں کلیدی خطاب کیا۔سعودی عرب سمیت مختلف اسلامی ملکوں کے سفیر بھی کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں شریک ہوئے،کانفرنس کے دوران پاک عرب دوستی کے نعرے لگتے رہے۔عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مسلمان ملکوں کو اپنے مسائل اور اختلافات دورکرنے کیلئے روس چین اور امریکہ کی طرف دیکھنے کی بجائے باہمی روابط کو فروغ دیں دوسرے ملک ان پر اپنی مرضی کا حل مسلط کرکے مسلمان ملکوں کو لڑاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ملکوں کے تمام جیدعلماء کرام کو متفقہ طور پر فتویٰ دینا چاہیے کہ کسی کی ناجائز جان لینا اسلامی تعلیمات نہیں ہیں،مسلک کی بنیاد پر کسی کی جان نہیں لیجاسکتی،مسلمان ملکوں کو اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ دہشتگردی کا تعلق اسلام سے ہے،انتہاپسندی اور شدت پسندی کی واضح طور پر ناصرف مذمت کرنی ہوگی بلکہ اصلاح احوال کیلئے اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست ہی کرسکتی ہے،عالم اسلام کو اپنے مسائل اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے اور اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتوں کی طرف نہ دیکھیں،ان مسائل کے حل کیلئے سعودی عرب قائدانہ کردار اداکرسکتاہے،اسلام ہر قسم کی انتہاپسندی کی نفی کرتاہے،مسلک کے درمیان ٹکراؤ کی اسلام ہرگزاجازت نہیں دیتا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اتحاد ہی طاقت کی علامت ہے،اسلام نے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اب ہر مسلمان کافرض ہے کہ وہ اسلام کا دفاع کرے،دنیا کو امن وانصاف کی ضرورت ہے،بے انصافی کی وجہ سے امن نہیں ہے،انہوں نے کہاکہ دنیا کو اگر انصاف اور امن چاہیے تو کلمہ طیبہ کا نظام لانا ہوگا اس کے علاوہ انسانیت کو چین مل سکتا ہے نہ امن قائم ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیائے اسلام پر دہشتگردی مسلط کی گئی ہے،مسلمان نوجوانوں کی رہنمائی کرنی ہو گی جس طرح مسلم عسکری اتحاد بنا ہے اس طرح عالم اسلام کیلئے مشترکہ تعلیمی نظام ہونا چاہیے مشترکہ منڈی ہونی چاہیے،تجارت اور معیشت کا مشترکہ ایجنڈا جاری کیا جائے۔دفاع کیلئے مشترکہ حکمت عملی بن سکتی ہے تو نظام انصاف کیلئے بھی آگے بڑھنا ہوگا یہی نظام ہمارا دفاعی حصار ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاک فوج کے سربراہ نے سعودی عرب کے دفاع کے بارے میں انتہائی حوصلہ افزا بیان دیا ہے جس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف نے واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کا دفاع ہے۔چیف آف آرمی سٹاف نے پاکستان کے22کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے،ہر مسلمان اپناگھرخاندان زندگی حرمین شریفین اور سعودی عرب کیلئے قربان کرسکتاہے،سارا عالم اسلام سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔چیئرمین پاکستان مسلم لیگ ن راجہ ظفرالحق نے کہاکہ عالم اسلام کے تحفظ کیلئے سعودی عرب اپنے قائدانہ کردار کو پری جرت اور دلیل سے ادا کررہاہے،امریکہ اور بڑی طاقتیں تیزی سے اسلام کے فروغ سے خائف ہیں اور وہ اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا چاہتے ہیں مگر اسلام کے اس سیلاب کے سامنے ان کے عزائم نہیں ٹھہر سکیں گے سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان کا بچہ بچہ کٹ مرنے کیلئے تیار ہوگا اور اس کیلئے انہیں کچھ بھی نہیں چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب سارے مسلمانوں کی حفاظت کیلئے کردار ادا کررہاہے،سعودی عرب سے مسلمانوں کا مستقبل وابستہ ہے،اگر کوئی معاشرے میں منافرت پھیلاتا ہے تو درحقیقت وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انحراف کرتا ہے اور تشدد کا راستہ اپنا کر اسلام کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔پروفیسر ساجد میر نے کہاکہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دہشتگردی کہاں سے آئی،درحقیقت یہ حالات کشمیر فلسطین،افریقہ، بوسنیا اور دیگر ممالک میں سامراج کے مظالم اور زیادیتوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔اتحاد امت کے ہتھیار کی طاقت سے کوئی بڑی طاقت نہیں ہوسکتی،ہم اس ہتھیار سے دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں انہوں نے بھی مسلم عسکری اتحاد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کو اس کی پیشکش پاکستان کیلئے بہت بڑے فخر کی بات ہے اس پر احتجاج کی بجائے خوشی منانی چاہیے،باہمی تنازعات کے حل کیلئے مسلم ملکوں کا اپنا پلیٹ فارم ہونا چاہیے اور اپنے مسلم کے حل کیلئے خود یکجا ہونا چاہیے۔وزیرمذہبی امور سردار یوسف نے کہاکہ مسلک کے درمیان تعاون کے سازگار فضاء کیلئے علماء مشائخ کونسل قائم کردی گئی ہے جسے وقت کے ساتھ ذمہ دار ادارہ بنادیاجائے گا اس قسم کی کانفرنسیں تمام مسلم ملکوں میں ہونی چاہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ بھی اس قسم کی تقریبات کیلئے دینی طبقہ سے اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مغرب اسلام کو کمزور کرنے کے در پے ہے اور دہشتگردی کی اصطلاح گھڑ کر مسلمان ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی گئیں اور بعض آلہ کار بھی انہیں دستیاب ہوگئے،ہمیں دفاعی پوزیشن نہیں اختیار کرنی چاہیے اسلام تیزی سے بڑھ رہا ہے،جان بوجھ کر اسلام کے چہرہ کے مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے بھی مسلم عسکری اتحاد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بہادر پاک فوج دفاع وطن کیلئے جانیں نچھاور کرنے کا بھرپور جذبہ رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت کو ہمت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف میلی آنکھ سے دیکھ سکے،سعودی عرب ہمارا روحانی مرکز ہے،حرمین شریفین سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنی جان قربان کردیں گے۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اسلام اقدار،اعتدال اور وسعت کا نام ہے،مسلم معاشروں میں اخلاق اور برداشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شدت پسندی کو اختیار نہ کریں متعدد مسلمان ملک خون سے رنگین ہیں،ہمیں باہمی احترام کے ذریعے آگے بڑھنا ہے اسلام کے تشخص کا دفاع کرنا ہے اور نبی پاکؐ کو مشعل راہ بناتے ہوئے پرامن معاشرے کی تشکیل کے اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی،شدت پسندی اور انتہا پسندی سے کام لیا تو یہ انتشار کا باعث بنے گا ہمارے درمیان دستور حیات موجود ہے جو کہ امن و سلامتی پرمبنی ہے۔

مزید : صفحہ اول