پر امن احتجاج جمہوریت کاحسن ہے : ڈونلڈ ٹرمپ

پر امن احتجاج جمہوریت کاحسن ہے : ڈونلڈ ٹرمپ

 واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک روز قبل ملک کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد نے اْن کی نئی انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔وائٹ ہاؤس سے ایک ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’کل احتجاجی مظاہرے دیکھے، لیکن میرا تاثر یہی تھا کہ ابھی تو انتخاب ہوا ہے۔ اِن لوگوں نے ووٹ کیوں نہیں دیا؟ مشہور شخصیات مقصد کو بْری طرح سے نقصان پہنچاتی ہیں‘‘۔حقوق نسواں کی مشہور حامی، گلوریا اسٹائنم، پاپ گلوکارہ میڈونا،ایکٹریس اسکارلیٹ جانسن اور دیگر معروف شخصیات نے ہفتے کے روز واشنگٹن میں خواتین کی ریلی کی قیادت کی، جس کا مقصد جمعے کے روز ٹرمپ کی جانب سے عہدہ صدارت کا حلف لینے پر برہمی کا اظہار تھا۔دو گھنٹے بعدٹرمپ نے ایک اور ٹوئیٹ میں کہا کہ’’پْرامن مظاہرے ہماری جمہوریت کا حسن ہے۔ اگر میں اِس سے اتفاق نہ بھی کروں، تو بھی میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہے‘‘۔دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رینس پریبس نے چند امریکی میڈیا ہاؤسز پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف کی جانب سے یہ الزامات ایسے وقت لگائے گئے ہیں جب میڈیا نے صدر ٹرمپ کی جانب سے حلف برداری کی تقریب میں کم لوگ آنے کے حوالے سے کہا ۔صدر کے بیان کے جواب میں میڈیا نے ان تصاویر کا تذکرہ کیا جو فضا سے لی گئی ہیں جن میں صاف ظاہر ہے کہ 2009 میں براک اوباما کی تقریب میں کہیں زیادہ لوگ تھے۔تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں کم از کم دس لاکھ افراد نے تقریب میں شرکت کی۔صدر کے پریس سیکریٹری شون سپائسر کا کہنا ہے کہ تاریخ میں سب سے بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چند تصاویر میں جان بوجھ کر زاویہ ایسا رکھا گیا ہے کہ لوگوں کی تعداد کم لگے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا پر غلط رپورٹنگ کا الزام لگایا تھا۔ انھوں نے یہ الزام اپنے افتتاحی پروگرام کے دوران شریک ہونے والے لوگوں کی تعداد کے حوالے سے لگایا۔انھوں نے کہا کہ تصاویری شواہد کے برخلاف جب وہ امریکی کیپیٹل ہل سے خطاب کر رہے تھے تو بھیڑ واشنگٹن کی یادگار عمارت تک پہنچ چکی تھی۔انھوں نے میڈیا کی جانب سے اس موقعے پر ڈھائی لاکھ افراد کی موجودگی کی رپورٹنگ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعے کو وہاں تقریبا ساڑھے سات لاکھ افراد تھے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھیڑ واشنگٹن کی یادگار عمارت تک پہنچ چکی تھی لیکن اس دن کے فضائی نظارے سے ان کے اس دعوے کی تردید ہوتی ہے۔بعد میں وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرریٹری شان سپائسر نے میڈیا کے نمائندوں کو تقریب کے دوران وسیع خالی سیٹیں دکھانے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا۔

جمہوریت کا حسن

مزید : صفحہ اول