گلو کارعاطف اسلم کے لائیو کنسرٹ میں بے گناہ نوجوان پیٹا گیا ’’پاکستان‘‘ حقائق سامنے لے آیا

گلو کارعاطف اسلم کے لائیو کنسرٹ میں بے گناہ نوجوان پیٹا گیا ’’پاکستان‘‘ ...

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں لائیو کنسرٹ میں عاطف اسلم نے دو لڑکیوں کو ایک لڑکے سے بچایا جو کہ انہیں مبینہ طور پر حراساں کر رہا تھا اور عاطف اسلم کے اس اقدام کے باعث یہ خبر شہ سرخیوں میں رہی تاہم اب وہ انجان لڑکا بھی اچانک میدان میں آ گیاہے اور اس نے اپنے ساتھ ہونے والے ’ظلم ‘کی درد بھری کہانی سنا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق اس لڑکے کا کہناہے کہ وہ کراچی آئی بے اے یونیورسٹی کا طالبعلم ہے ، اس کا کہناہے کہ اس لائیو کنسرٹ کے دوران اس کی ڈیوٹی تھی کہ کوئی بھی شخص بغیر ٹکٹ یا پاس کے عام نشستوں سے خصوصی نشستوں والے سیکشن میں داخل نہ ہو پائے۔روزنامہ پاکستان کی جانب سے اس کی کہانی کی تصدیق کی گئی ہے یہ لڑکا دراصل کنسرٹ کی سیکیورٹی کا ممبر تھا۔اس کا کہناہے کہ میں نے دیکھا کہ دو لڑکیاں حدود کو پار کرتی ہوئی عام نشستوں سے خصوصی نشستوں کی جانب بڑھ رہی اور انہیں ایک لڑکا مدد فراہم کررہاہے۔میں آگے بڑھا اور انہیں انتہائی نرم لہجے سے جگہ تبدیل کرنے کی وجہ پوچھی اور ان سے وی آئی پی پاسز کے بارے میں دریافت کیا۔اور انہیں کہاکہ اگر ان کے پا س وی آئی پی پاسز ہیں تو اندر آسکتے ہیں ورنہ وہ واپس اپنی نشستوں پر چلے جائیں۔جس پر انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور اسی دوران لڑکیاں بھڑک اٹھیں اور انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا ،انہوں نے اپنے بڑے بڑے ناخن میرے منہ اور گردن پر مارے جبکہ انہوں نے میرے منہ پر تھپڑوں کی برسات بھی کی۔یہی وہ وقت تھا جب وہ لوگ مجھ پر ظلم ڈھا رہے تھے تو عاطف اسلم کی نظر ہم پر پڑی۔’ولن‘کا کہناتھا کہ عاطف اسلم نے اصل کہانی جاننے کے بجائے اسے ذمہ دار ٹھہرایا۔اس کا کہناتھا کہ لڑکے کی اس وقت کوئی نہیں سنتا جب ایک لڑکی اس کیخلاف بول رہی ہو اور یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ سچ بول رہی ہے یا جھوٹ۔اسی وقت عاطف اسلم آئے اور انہوں نے لڑکیوں کی مدد کی اور ہر کسی نے سمجھا میں انہیں حراساں کر رہاتھا۔اسی دوران لوگوں کا بڑا ہجوم میرے پر ٹوٹ پڑا اور میری پٹائی شروع کر دی۔اس کا کہناتھا کہ مجھے میرا کام کرتے ہوئے پوری زندگی میں کبھی اس طرح نہیں پیٹا گیا۔اس لڑکے کا کہناتھا کہ وہ لڑکیاں مظلوم نہیں تھیں بلکہ وہ شیطان اور انتہائی بدتمیز تھیں ،صرف ان کے ناخنوں کے باعث میرے منہ اور گردن پر زخم آئے ہیں جو کہ پوری زندگی میرے ساتھ رہیں گے جن کے نشانات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔میں اس وقت سکتے میں آ گیا تھا جب ہر کسی نے میری بات سننے سے انکار کر دیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ یہ زخم میرے چہرے پر ساری زندگی نظر آتے رہیں گے لیکن جو زخم میرے جذبات کو پہنچے ہیں وہ نظر نہیں آئیں گے لیکن اور پوری زندگی میرے ساتھ رہیں گے۔

مزید : صفحہ آخر