برائے نام تھانے، نامکمل سٹرکچر اور تنظیمی ڈھانچے کا فقدان محکمہ اینٹی کرپشن کی پہچان

برائے نام تھانے، نامکمل سٹرکچر اور تنظیمی ڈھانچے کا فقدان محکمہ اینٹی کرپشن ...

لاہور(عامر بٹ سے)محکمہ اینٹی کرپشن کے صوبے بھر میں صرف نام کے تھانے موجود،نامکمل سٹرکچر ، تنظیمی ڈھانچے اور سٹاف کی شدید کمی کی وجہ سے گرفتا ر ملزمان کو مقامی پولیس کے تھانو ں میں بند کیاجانے لگا۔60سال گزر جانے کے باوجود محکمہ اینٹی کرپشن ملزمان کو اپنے تھانوں میں رکھنے کی بجائے بذات خود کرپشن میں ملوث محکمہ پولیس کی منت سماجت کرتے ہوئے نظر آتاہے ،کرپشن اور رشوت وصولی کے الزمات کا سامنا کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے نرم گوشہ رکھنا مجبوری بن گیا ،ترجمان محکمہ اینٹی کرپشن کی بہت جلد محکمہ اینٹی کرپشن کے تمام تھانوں کو فعال کرنے کی نوید۔تفصیلات کے مطابق کرپشن ،رشوت وصولی میں ملوث کرپٹ افراد کے لئے دہشت کی علامت محکمہ اینٹی کرپشن بذات خود مجبوریوں کا شکار ہو چکا ہے ،محکمہ اینٹی کرپشن کے تمام دفاتر میں جہاں انوسٹی گیشن افسران کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے سائلین کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں اور کیسز کی سماعت متاثر ہونے کے ساتھ انصاف کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے تو دوسری جانب پنجاب کے 36اضلاع میں محکمہ اینٹی کرپشن کے ذاتی تھانے صرف علامتی حد تک قائم ہیں اور عملی طور پر بالکل فعال نہ ہیں ان تھانوں میں نہ تو سٹاف پورا ہے اور نہ ہی محکمہ کی جانب سے گرفتار ملزمان کو رکھنے کے لئے کوئی مناسب انتظامات کئے گئے ہیں ،محکمہ اینٹی کرپشن کو قائم ہوئے 60سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے ،شروع کے چند سال محکمہ اینٹی کرپشن کے تنظیمی ڈھانچے میں محکمہ کے اپنے تھانے قائم کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس پر اگلے دو سال میں عمل درآمد کرتے ہوئے پورے پنجاب میں اضلاع کی سطح پر اینٹی کرپشن تھانے قائم کئے تھے تاکہ جو بھی ملزم گرفتا کیا جائے اس کو اسی تھانے میں رکھا جاسکے لیکن 6دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ تھانے صرف علامتی سطح تک ہی قائم ہیں جن میں نہ تو سٹاف پورا ہے اور نہ ملزمان کو رکھنے کے لئے حوالات کے انتظامات ہیں ،اس حوالے سے محکمہ اینٹی کرپشن گرفتا ر ملزمان کو رکھنے کے لئے مقامی پولیس کا مرحون منت ہے اور انہی تھانوں میں گرفتا ر ملزمان کورکھا جاتا ہے ،مقام حیر ت یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں دائر درخواستوں اور مقدمات کا جائز ہ لیا جائے تو محکمہ پولیس کے ملازمین اور افسران کے خلاف اختیارات کے ناجائز اور رشوت وصولی کی سب سے زیادہ شکایات درج ہیں۔ کرپشن کا سد باب کرنے والا محکمہ خود اسی محکمہ کا محتاج ہے جو اس کی فائلوں میں کرپشن میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسی حوالے سے محکمہ پولیس کے تعاون کی وجہ سے پولیس کے ملازمین اور افسران کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن میں ہمدردی اور رحم دلی کے جذبات پیدا ہونا قدرتی امرہے جو بذات خود محکمہ اینٹی کرپشن کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے ۔محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ نئے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب مظفر علی رانجھا کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن کے تمام تھانوں کو فعال کرنے کی خصوصی ہدایات اور کاوشیں سامنے آئیں ہیں ،بہت جلد سٹاف کی کمی کو پورا کرکے تمام تھانوں کو فعال کر دیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ آخر