غلبہ حق کیلئے دینی ووٹرز کو منظم کرنا وقت کی ضرورت ہے، سراج الحق

غلبہ حق کیلئے دینی ووٹرز کو منظم کرنا وقت کی ضرورت ہے، سراج الحق

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اسلامی پاکستان وخوشحال پاکستان کیلئے مارچ میں سندھ سمیت ملک بھر میں رابطہ عوام مہم کا اعلان کرتے ہوئے ذمہ داران کو الیکشن فنڈ قائم کرکے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے بھرپور تیاریوں کی ہدایات جاری کردیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے قباء آڈیٹوریم میں جماعت اسلامی سندھ کے دوروزہ صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے آخری روز وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی نے پانامہ لیکس پر جماعت اسلامی کے مقدمہ اور ارکان شوریٰ کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے،صوبائی امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سمیت دیگر صوبائی ذمہ داران بھی موجود تھے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے سب سے پہلے کرپشن کیخلاف آواز بلند کی، کرپشن فری پاکستان مہم کے ساتھ ٹرین مارچ کرکے عوام کو بیدار کیا تو کرپشن فری پاکستان کا نعرہ پاکستان کا قومی نعرہ بن گیا، جماعت اسلامی نے اس حوالے سے اسمبلی میں بھی تین بل پیش کئے جو قابل قبول نہ ہوئے جس پر جماعت اسلامی کو انصاف کیلئے بالآخرعدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکٹانا پڑا ہے، ہم ابتدا حکمرانوں سے مگر احتساب سب کا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ غلبہ حق کیلئے دینی ووٹرز کو منظم کرکے فیصلہ کن مرحلہ کیلئے تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ آج بھی حق وباطل کی کشمکش جاری ہے، غیروں کا آلہ کار ٹولہ اور کرپٹ لوگ دیگر اسلامی دفعات کی طرح 62,63کو بھی آئین سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ انتخابات سمیت دینی ونظریاتی اشوز پر دینی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی اور دینی ووٹرز کو اکٹھا رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے، پانامہ لیکس کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ عدالت اعظمیٰ ہمیں انصاف دیکر ملک وقوم کو کرپٹ قیادت سے نجات دلائے گی۔ صوبائی امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ دینی اقدار سمیت توہین رسالت قانون کیخلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔تحفظ ناموس رسالت ؐ قانون ہمارے ایمان وعقیدے کا حصہ ہے۔جماعت اسلامی دینی اقدار کی حفاظت اور حقیقی تبدیلی کیلئے آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔قبل ازیں اجلاس میں سیاسی صورتحال، تنظیمی کام کے جائزہ سمیت آئندہ سال کا منصوبہ اور بجٹ بھی منظور جبکہ سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل پربھی متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول