باچا خان اور ولی خان کی برسی کی جھلکیاں

باچا خان اور ولی خان کی برسی کی جھلکیاں

چارسدہ (بیورو رپورٹ) جلسہ گاہ اور ملحقہ شاہراہوں کو اے این پی قائدین کے رنگ برنگے فلیکس اور جھنڈوں سے سجایا گیا تھا۔ جلسہ کیلئے چارسدہ شوگر ملز کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ہزاروں کرسیاں لگائی گئی ۔ پارٹی قائدین کیلئے 80فٹ سٹیج تیار کیا گیا تھاجبکہ دیگر صوبوں اور اضلاع کے قائدین کے بیٹھنے کیلئے بھی حصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔

جلسہ گاہ اور ارد گرد کے سڑکوں پر صبح ہی سے پولیس کے دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

حساس اداروں اور سپیشل برانچ کے اہلکار جلسہ کے حوالے سے وقتاً فوقتاً صوبائی حکومت اور افسران کو آگاہ کرتے رہے ۔

مردان سے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور ضلعی ناظم حمایت اللہ مایار ،پشاور سے خوشدل خان ، ملک مصطفی ، نوشہرہ سے جمعہ خان صافی ، صوابی سے ضلعی ناظم اعلیٰ امیر رحمان اور ملاکنڈ سے شفیع اللہ کی قیادت میں بڑے بڑے جلوس جلسہ گاہ میں داخل ہوئے ۔

ضلع چارسدہ کے مختلف علاقوں سے سابق صوبائی وزیر قانون و ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ، جنرل سیکرٹری محمد احمد خان ، سابق ایم پی اے شکیل بشیر خان عمرزئی ، قاسم علی خان محمد زئی، تحصیل ناظم خلیل بشیر خان ، خادم شاہ صافی ، ہمایون خٹک ، یاسر امین ، میاں معراج اور ایمل ولی خان کی قیادت میں بڑے بڑے جلوس جلسہ گاہ میں داخل ہوئے ۔

، شبقدر ، درگئی ، اے این پی کے کارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا اور کارکن مسلسل پارٹی قیادت کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے ۔

جلسہ ٹھیک 2:30 بجے شروع ہوااور4:00بجے اختتام پذیر ہوا۔

اسفندیار ولی خان کی آمد پر کارکن جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور فلک شگاف نعروں سے پارٹی قائد کا استقبال کیا ۔

اے این پی کے ضلعی تنظیم نے تاریخی جلسہ عام کیلئے بہترین انتظامات کئے تھے ۔

سٹیج کے اوپر اور اردگرد سیکورٹی کی ذمہ داری پختون زلمے کے کمانڈروں نے سنبھال رکھی تھی ۔

جلسہ شروع ہونے سے پہلے بم ڈسپوزل سکواڈ نے جلسہ گاہ کو اچھی طرح چیک کرکے کلیئر کر دیا تھا۔

تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آ غاز کیا گیا جس کے بعد اے این پی کا قومی ترانہ سنایا گیا جس کے احترام میں پارٹی قائدین اور شرکاء احتراماً کھڑے ہوگئے ۔

سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری سلیم شاہ ، محمد احمد خان اور ایمل ولی خان نے بحوبی سرانجام دیئے ۔

پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین، سابق وزیر اعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی اور دیگر قائدین کا جلسہ گاہ پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ۔

اسفندیار ولی خان اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کو جوں ہی تقریر کیلئے بلایا گیا تو جلسہ گاہ نعروں اور تالیوں سے گونج اُٹھا۔

حیدر ہوتی کے خطاب کے بعد ساؤنڈ سسٹم خراب ہوگیا جس پر منتظمین کافی پریشان ہوگئے اور ایمل ولی خان نے خود بھاگ دوڑ شروع کی ۔

جلسہ کی صدارت ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ نے کی اور اُنہوں نے خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر شہروں سے آئے ہوئے پارٹی تنظیموں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ چارسدہ پولیس اور ٹی ایم اے چارسدہ کو بھرپور تعاون کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ۔

میڈیا کیلئے مختص کنٹینر پر پارٹی کارکنوں نے قبضہ جما رکھا تھا جس کی وجہ سے میڈیا کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر