جس نے جو برا بھلا کہنا تھا کہہ دیا لوگ انتظار کریں، اگر کسی نے غلط بیانی کی ہے تو ہم نے قانون کے مطابق طے کرنا ہے: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کل تک ملتوی

جس نے جو برا بھلا کہنا تھا کہہ دیا لوگ انتظار کریں، اگر کسی نے غلط بیانی کی ہے ...
جس نے جو برا بھلا کہنا تھا کہہ دیا لوگ انتظار کریں، اگر کسی نے غلط بیانی کی ہے تو ہم نے قانون کے مطابق طے کرنا ہے: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کل تک ملتوی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی مزید سماعت کل ( منگل ) تک ملتوی کردی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم 5رکنی بینچ نے جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کے دلائل سننے کے بعد پاناما کیس کی مزید سماعت کل صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کر دی ۔ کل وہ اپنے دلائل کا تسلسل تیسرے روز بھی جاری رکھیں گے۔دوران سماعت کمرہ عدالت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد ، نعیم بخاری ، فواد چودھری ، نعیم الحق اور لیگی رہنما بھی موجود ہیں ۔

”کیا جس دن گوشت کا ناغہ ہوتا ہے اس دن اسمبلی میں تقریر نہیں ہو سکتی “، سپریم کورٹ کا جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار

سماعت شروع ہونے پر جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے سواالات سے میڈیا پر تاثر ملا جیسے عدالت فیصلہ کر چکی ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہم سوالات صرف سمجھنے کیلئے پوچھتے ہیں ، سوالات فیصلہ نہیں ہوتے ۔بتایا جائے کیا وزیرا عظم کی تقریر پارلیمانی کارروائی کا حصہ تھی ؟جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ وزیر اعظم کی تقریر اسمبلی کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی ۔ استحقاق آئین اور قانون کے مطابق ہی دیا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ منگل کو اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر ڈے کی کارروائی ہوتی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کیا سپیکر کے پاس اختیار نہیں کہ رولز معطل کر کے کوئی اور کارروائی کرے ؟ کیا سپیکر نے وزیر اعظم کی تقریر کی اجازت نہیں دی تھی جس پر توفیق آصف نے جوا ب دیا اگر وزیراعظم نے ذاتی وضاحت دینی تھی تو ایجنڈے میں شامل ہو نا ضروری تھا ۔ بینچ کے رکن جسٹس گلزارا حمد نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کی تقریر پر کسی نے اعتراض کیا ؟

وزیرا عظم کے وکیل نے ثبوتوں کا ذکر نہیں کیا بس قانونی نکات کا انبار لگایا : عدالت عظمیٰ

جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف اپنا یا کہ اپوزیشن نے تقریر کے بعد واک آﺅٹ کیا ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے ”توفیق آصف آپ آرٹیکل 69پڑھیں اوراس پر دلائل دیں ۔ اس معاملے کو آرٹیکل 69مکمل کر رہا ہے ۔ وکیل نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر آرٹیکل 69کے زمرے میں نہیں آتی ، وزیر اعظم کی تقریر ذاتی الزامات کے جواب میں تھی ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر قواعد کی خلاف ورزی ہوئی تو کیا آپ کے اراکین نے آواز اٹھائی تھی ؟ آپ کہنا چا ہ رہے ہیں کہ سپیکر کو وزیر اعظم کو تقریر کی اجازت دینا چاہئیے تھی۔جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا وزیر اعظم کی تقریر اسمبلی ریکارڈ کا حصہ ہے جو انہوں نے پیر کے روز کی ۔توفیق آصف نے پارلیمانی استحقاق سے متعلق آسٹریلوی دانشور کا آرٹیکل پیش کر دیا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا یہ کوئی بریگزیٹ کی دستاویز ہے جو ہمیں پیش کی گئی؟ کیا جس دن گوشت کا ناغہ ہوتا ہے اس دن تقریر نہیں ہو سکتی ۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ سپیکر منگل کے روز قواعد معطل کر سکتا ہے ۔تقریر اسمبلی کی کارروائی کا حصہ ضرور ہے مگر اسکو استحقاق حاصل نہیں ، وزیر اعظم کی تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ جسٹس گلزارا حمد نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کی تقریر ریکارڈ سے حذف کی گئی یا اس پر کسی نے اعتراض کیا ۔جماعت اسلامی کے وکیل نے وزیر اعظم کی تقریر کا ریکارڈ سپیکر سے طلب کرنے کی استدعا کر دی جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا عمران خان نے تقریر کا جو ٹرانسکرپٹ لگایا ہے وہ غلط ہے ؟بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ تقریر کے متن سے کسی فریق کا اختلاف نہیں تو ریکارڈ کیو ں منگوایا جائے ؟ ایڈوکیٹ توفیق آصف نے کہا کہ ممکن ہے ترجمہ کرتے وقت کوئی غلطی ہو گئی ہوجس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کی تقریر اردوزبان میں تھی ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کیا ہم یہاں شواید ریکارڈ کررہے ہیں ؟ توفیق آصف نے استدعا دہراتے ہوئے کہا کہ عدالت چاہے تو شواہد ریکارڈ کر سکتی ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی جمع کرائی ہوئی تقریر کو درست مان لیتے ہیں ۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے سپیکر کو جو دستاویزات دیں وہ منگوائی جائیں ، وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ دودھ کا دودت اورپانی کا پانی کیا جائے ۔ بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید کھوسہ نے کہا آپ ایک نقطہ پیش کر رہے ہیں ، دوسرا واپس لے رہے ہیں جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ وزیر اعظم نے منی ٹریل اب تک نہیں دی ۔

پاناما لیکس کا ہاتھی وہی کا وہی کھڑا ہے، وکلاءثبوت پیش نہ کر سکے توکیس سنجیدہ ہو جائیگا: شیخ رشید

عدالت اجازت دے تو وزیر اعظم کی تقریر ے کچھ حصے پڑھنا چاہتا ہوں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آپ جس طرح دل کرے دلائل دیں ہم سن رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے تولنے کی بجائے تلنے کا لفظ پڑھ دیاجس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ توفیق صاحب دل کی بات زبان پر آگئی ۔ایڈوکیٹ توفیق آصف نے جواب دیا کہ پارلیمانی استثنیٰ صرف قانون سازی کے عمل کو حاصل ہے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ خود اپنی پٹیشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم پہلے کہتے تھے کہ ہر چیز کلیئر کرنا چاہتا ہوں ۔عدالت آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا ۔ وزیرا عظم نے اپنا کیس وکیل سمیت بچوں سے الگ کر دیا ۔ دستاویزات پیش کرنے کی بجائے استحقاق کے پیچھے چھپ رہے ہیں ۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا آپ عدالت کو بتا دیں کہ وزیراعظم نے کیا کیا چھپایا تو انہوںنے جواب دیا کہ وزیراعظم نے تقریر میں منی ٹریل پیش نہیں کی ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ فلیٹ نوازشریف کے نہیں ، اس لیے منی ٹریل نہیں دے سکتے تو جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا وزیراعظم نے کروڑوں کے تحائف لیے اور دیے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے وکیل نے ثبوتوں کا ذکر ہی نہیں کیا، قانونی نکات کا انبار لگایا ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے ریمارکس میں کہا لگتا ہےباتیں دہرا کر آپ سماعت میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں ، آپ عدالت سے کم اور میڈیا سے زیادہ مخاطب لگتے ہیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ چاہے جتنے دلائل دیں ،ہم خاموشی سے سنیں گے ۔ جس نے جو جو برا بھلا کہنا تھا کہہ دیا ۔”جو ہونا تھا ہو گیا ، لوگ انتظار کریں “۔ عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں اور چہ مگوئیوں سے اجتناب کریں۔پوری حکومت پر الزام نہیں پھر بھی ساری حکومت پاناما کا دفاع کر رہی ہے۔وقفے کے بعد اپنے دلائل کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ میں نوازشریف نے جھوٹ بولا ، پارلیمانی تقدس سے متعلق سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ کسی کا جھوٹ ثابت کرنے سے قبل سچ ثابت کرنا پڑتا ہے ، سچ ثابت کرنے کیلئے انکوائری کرنا ہوتی ہے ۔ اگر کسی نے غلط بیانی کی ہے تو ہم نے قانون کے مطابق طے کرنا ہے ۔جب حقیقت کا ہی پتہ نہیں چلا تو پھر جھوٹ کا تعین کیسے ہو گا ؟جماعت اسلامی کے وکیل نے رضوان گل جعلی ڈگری کیس کا حوالہ بھی دیا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ وہ مقدمہ الیکشن ٹربیونل سے شروع ہوا تھا سپریم کورٹ سے نہیں ، تحقیقات کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ کیا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔

نصرت سحر عباسی نے صوبائی وزیر امداد پتافی کو معاف کر دیا

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم یہ قرار دے چکے ہیں کہ آرٹیکل 184/3کے تحت سن سکتے ہیں ۔شریف خاندان کہتا ہے کہ کاروبار میاں شریف کا تھا اس سے وزیر اعظم کا تعلق ثابت کریں۔2004ءمیں میاں محمد شریف کی وفات سے قبل تک وہی بزنس دیکھتے رہے تو تعلق کیسے بنتا ہے؟ دبئی مل کا کچھ نہ کچھ ریکارڈ موجود ہے ، ”ریکارڈ سچا ہے یا جھوٹا کچھ تو ہے “۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کون سا ایسا ریکارڈ ہے جو نوازشریف نے جمع نہیں کرایا جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ دبئی مل طارق شفیع کے نام ہے اور دبئی فیکٹری کی کوئی بینک ٹرانزیکشن نہیں ہے جس پر وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کھڑے ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم بیرون ملک ہیں ، آج واپس آئیں گے ۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جتنا جلدی ہو جماعت اسلامی کی درخواست پر جواب جمع کرائیں ۔جسٹس اعجا ز الاحسن نے کہا کہ نوازشریف کا موقف ہے کہ ان کا نام پاناما کیس پر کسی جگہ نہیں پھر آپ نوازشریف پر کیسے پاناما پیپرز کی ذمہ داری ڈال سکتے ہیں ؟ میاں محمد شریف کے انتقال کے بعد انکے بچوں کو وراثت میں کیا ملا اسکی تفصیل بتائیں ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا اگر آپ کے خیال میں طارق شفیع کا بیان حلفی جعلی ہے تو پھر اصل کہاں ہے ؟ جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اصل بیان حلفی جمع کرانا میری ڈیوٹی نہیں ۔ بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تو بتائیں کہ سپریم کورٹ انکوائری کا کون سا طریقہ اپنائے ؟ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا ہمارے سواالات کا جواب دیں توفیق صاحب، جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ میں اس وقت ایک ہی سوال کا جواب دے سکتا ہوں۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے ہیں ، سوالات اسی طرح ہونگے۔انہوں نے مکالمہ کرتے ہوئے ایڈوکیٹ توفیق آصف سے کہا کہ آپ ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیتے تو وکیل نے جواب دیا کہ ایک وقت میں ایک سوال ہو تو جواب دوں ۔عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے پر گیلانی کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا گیا ، نااہل کرنے سے پہلے گیلانی کے خلاف عدالتی فیصلہ موجود تھا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مطمئن کریں کہ وزیر اعظم نے کاغذات نامزدگی میں کیا چھپایا ، آپ نے اپنے مقدمے میں غلط روڑ اپنایا ہوا ہے ۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا میں عدالت کی معاونت کی کوشش کر رہاہوں ۔جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیا پاکستان میں تھی ؟ مل پاکستان میں تھی تو التوفیق کیس لندن میں دائر کیوں ہوا ؟جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ التوفیق کیس کے بارے میں شریف فیملی خود بتا سکتی ہے ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا آپ کا نام توفیق ہے کیا التوفیق آپ کا بینک تو نہیں ؟ان ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔ توفیق آصف نے عدالت کے سامنے جواب دیا کہ ثبوت اس نے دینا ہے جس پر الزام ہے ، وزیر اعظم نے خود کہا کہ ثبوت ہیں لیکن نہیں دیے ۔ وزیر اعظم خود عدالت میں پیش ہو کر وضاحت کردیں ۔ حضرت عمر نے قمیض کے سوال پر استثنیٰ نہیں مانگا تھا ، یہاں روز وزیر اعظم استثنیٰ مانگ رہے ہیں ۔ یوسف رضا گیلانی کو بھی سپریم کورٹ نے نااہل کیا تھا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ این آر او کیس میں فیصلہ آیا تو عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس ہوا ، عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے پر گیلانی کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا گیا اور نااہل کرنے سے پہلے گیلانی کے خلاف عدالتی فیصلہ موجود تھا ۔ توفیق آصف نے جواب دیا کہ آرٹیکل 19کے تحت سچ جاننا عوام کا حق ہے تو جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کیا کسی خاندان کی زندنگی کے بارے میں آرٹیکل 19اے لگایا جا سکتا ہے ؟ کیا آپ پر آرٹیکل 19اے کا اطلاق ہو سکتا ہے ؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ وزیرا عظم عوامی عہدہ رکھتے ہیں جبکہ یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا ۔ایان علی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں اور عتیقہ اوڈھو اور ایان علی کی قومی اسمبلی تک رسائی نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیاطے کر لیں آپ ایان علی کے وکیل ہیں یا عتیقہ اوڈھو کے ، دل کی بات زبان پر لے آئے ہیں ۔ عدالتی ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔اس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

مزید : قومی