سیاستدانوں کی میڈیا سے گفتگو روکنی ہے تو سپریم کورٹ کی سماعت براہ راست نشر کر دی جائے: فواد چوہدری

سیاستدانوں کی میڈیا سے گفتگو روکنی ہے تو سپریم کورٹ کی سماعت براہ راست نشر کر ...
سیاستدانوں کی میڈیا سے گفتگو روکنی ہے تو سپریم کورٹ کی سماعت براہ راست نشر کر دی جائے: فواد چوہدری

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءفواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے باہر سیاستدانوں میڈیا سے گفتگو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پانامہ کیس کی سماعت کو براہ راست نشر کیا جائے تاکہ 20 کروڑ عوام خود ہی اسے دیکھ سکیں۔

”کیا جس دن گوشت کا ناغہ ہوتا ہے اس دن اسمبلی میں تقریر نہیں ہو سکتی “، سپریم کورٹ کا جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ باہر جا کر گالیاں دینا مناسب نہیں، ہم ان کی اس بات کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف نے نا پہلے کبھی غلط زبان استعمال کی ہے اور نا آئندہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ میڈیا پیسے لے کر پانامہ لیکس کے معاملے پر کوریج دے رہا ہے اور یہ میڈیا کو دباﺅ میں لانے کی کوشش ہے تاکہ مقدمے کی سماعت 20 کروڑ لوگوں تک نہ پہنچے۔ سپریم کورٹ سے باہر گفتگو روکنے کیلئے سپریم کورٹ کی سماعت کو لائیو کر دیا جائے تاکہ لوگ براہ راست ہی دیکھ سکیں، ہمارا فرض ہے کہ اپنے ان رہنماﺅں اور کارکنان کو سماتع سے باہر رکھیں جو یہاں موجود نہیں ہیں اور یہ کام میڈیا کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جماعت اسلامی کے وکیل نے دلائل دئیے کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں استثنیٰ نہ لینے کی بات کی تھی لیکن ان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں استحقاق اور استثنیٰ کی باتیں کی ہیں۔ جج صاحب نے بھی کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ثبوتوں کے انبار ہیں لیکن یہاں تکنیکی پہلوﺅں کے انبار لگ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل کل شروع ہوں گے جس اور وزیراعظم کے بچوں کو یہ بتانا ہو گا کہ انہوں نے اپنے والد کو جو تحائف دئیے ان کا ذریعہ کیا تھا اور یہ بھی بتانا ہو گا کہ قطری کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے تھے ان کے ثبوت کہاں ہیں؟ انہیں یہ بھی واضح کرنا ہو گا کہ حسن، حسین اور مریم نواز شریف کے درمیان اربوں روپے کے تحائف کا تبادلہ ہوا، یہ کیسے اور کہاں سے آئے۔

عمران خان نے چوری نہیں کی تو گھبرائیں نہیں اب تلاشی ہو گی: دانیال عزیز

2006ءمیں اگر حسین نواز ان اپارٹمنٹس کے مالک بنے تو 2004-05 ءاور میں مریم نوز شریف نیسکول اور نیلسن کے معاملات کیسے چلا رہی تھیں اور ان کی مالکہ کیسے تھیں۔ اسی کے ساتھ مریم نواز کے اس جواب کی وضاحت بھی کرنا ہو گی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی دادی کی زیر کفالت ہیں اور دادی ان کے والد کے زیر کفالت ہیں۔

وزیراعظم اور ان کے خاندان کو منی ٹریل کے بارے میں بتانا ہو گا کیونکہ پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ اربوں روپے باہر کیسے گئے اور پھر واپس کیسے آئے۔

مزید : قومی /اہم خبریں