تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب نے عرب دنیا سے باہر فوجی اڈا بنانے کا اعلان کر دیا، کس ملک میں بنایا جا ئے گا? جان کر دشمنوں کی ہوائیاں اڑ جائیں گی

تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب نے عرب دنیا سے باہر فوجی اڈا بنانے کا اعلان کر ...
تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب نے عرب دنیا سے باہر فوجی اڈا بنانے کا اعلان کر دیا، کس ملک میں بنایا جا ئے گا? جان کر دشمنوں کی ہوائیاں اڑ جائیں گی

  

ریاض (ویب ڈیسک)جبوتی اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ ہونے جارہا ہے جس کے تحت سعودی عرب کو قرن افریقہ کے خطے کے اس ملک میں فوجی اڈہ تعمیر کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ ریاض حکومت علاقائی سلامتی کے حوالے سے مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔ جبوتی مسلم آبادی والا ملک ہے جو تذویراتی طور پر بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے کنارے واقع ہے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق جبوتی کے وزیر خارجہ محمود علی یوسف نے کہا کہ اس ملک میں پہلے ہی امریکہ اور فرانس کے فوجی اڈے موجود ہیں، جبکہ چین کا ملک سے باہر پہلا اڈہ بھی یہاں زیر تعمیر ہے، جس کا اس سال افتتاح ہونے والا ہے۔ محمود علی یوسف کے مطابق اڈے کی تعمیر کے لئے سعودی عرب کا پچھلے سال جبوتی کی حکومت کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ہوا تھا۔ پھر اس ماہ بھی دونوں میں جوڈیشل تعاون کا ایک معاہدہ ہوا۔ ریاض یمن میں حوثی باغیوں سے برسرپیکار اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ بحیرہ احمر کے ایک طرف یمن تو دوسری جانب جبوتی واقع ہے۔ سعودی عرب یمن کی جلاوطن حکومت کی وفادار افواج کی پشت پناہی کررہا ہے اس حکومت کا عدن اور یمن کے جنوبی چند حصوں پر کنٹرول ہے۔ محمود علی یوسف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہمارا ریاض میں جلد فوجی تعاون کا معاہدہ ہونے والا ہے۔ میں اس کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتا کیونکہ یہ فوجی نوعیت کا اور خفیہ معاملہ ہے۔ مگر جب یہ ہوگا تو آپ خود ہی دیکھلیں گے۔

سعودی عرب کا جبوتی کے ساتھ گہرے تعلقات ایسے وقت ہورہے ہیں جب ریاض حکومت اپنے ساتھی سنی ممالک کو ایک عظیم اتحاد میں اکٹھا کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ مغربی فوجی امداد پر انحصار کو کم کرکے اپنی طاقت بڑھائے ئے۔ شام سے یمن تک عالم عرب میں برپا تنازعات میں سعودی عرب بقول خود ایرانی مداخلت کا توڑ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ اپنے افریقی ہیڈکوارٹرز اور خطے میں انسداد دہشتگ گردی کے آپریشنز کے لئے جبوتی کو اڈے کے طور پر استعمالکرتا ہے۔ وہاں اس کے چار ہزار فوجیوں کا گیریژن موجود ہے، نیز تنصیبات میں ڈرون پورٹس بھی شامل ہیں۔ بیجنگ نے اپنے اڈے کے بارے میں زیادہمعلومات فراہم نہیں کیں اور بس اتنا ہی کہا ہے کہ وہ ایک لاجسٹکس سپلائی مرکز ہوگا، جہاں 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی گنجائش ہوگی۔ محمود علی یوسف نے کہا کہ ایک ملک ایسا بھی ہے جسے جبوتی میں اڈہ بنانے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ ہے روس، کیونکہ جبوتی پر اکسی وار کا مقام نہیں بننا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ شام، یوکرائن اور دیگر ممالک میں جو کچھ ہورہا تھا، اسے دیکھ کر ہم نے سوچا کہ جبوتی میں روس کی موجودگی کا یہ مناسب وقت نہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ یہاں جبوتی میں مفادات کا تصادم پیدا ہوسکتاہے، اور ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم یہاں اس ملک میں دوسپرپاورز کو بیک وقت نہیں دیکھنا چاہتے، جو کسی تنازع کی صورت میں آمنے سامنے آجائیں۔

محمود علی یوسف نے کہا کہ غیرملکی حکومتیں جبوتی کی جانب کھنچی چلی آئی ہیں، کیونکہ اس ملک کی سرحد صومالیہ سے بھی ملتی ہے، کیونکہ یہ ملک محفوظ ہے۔ پڑوسی ملک صومالیہ کئی سال سے تنازع اور اسلامسٹ حملوں سے متاثر ہے۔ ہمارے ہاں کوئی قزاق، دہشتگرد نہیں۔ جارح ممالک ہم پر حملہ کرنے نہیں آرہے، ہم ایک چھوٹا سا ملک ہیں۔ مگر جبوتی میں سختیاں بھی بہت ہیں۔ اپوزیشن گروپس اور انسانی حقوق کی تنظیمیں وہاں بنیادی آزادیوں کے فقدان اور جبر کی سطح پر تنقید کرتے ہیں۔ محمود علی یوسف نے کہا کہ جبوتی میں فوجی طاقتوں کی موجودگی کا مقصد بحری قزاقی کو کچلنا ہے تاکہ آبنائے باب المندب کو محفوظ بنایا جاسکے، جو بحیرہ احمر اور خلیجی عدن کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قوتیں یمن اور صومالیہ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے موجود ہیں تاکہ وہاں کے دہشتگردوں کو نیویارک، یابرلن یا لندن پہنچنے اور وہاں دھماکے کرنے سے روک سکیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی فوجی طاقت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے اور یمن میں مہم میں ریاض کا اہم اتحادی ہے۔ امارات نے اریٹیریا میں اڈہ بنا کر اپنی دسترس میں اضافہ کیا ہے۔ سیٹ لائٹ تصاویر کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ اساب کے قریب واقع فوجی اڈہ پر ہیلی کاپٹرز، تیز رفتار جنگی طیارے، ڈرونز اور بحری جہاز موجود ہیں۔ آبنائے باب المندب پر حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے بحری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

مزید : عرب دنیا