ماں تمہارا تھوڑا خون چاہئے

ماں تمہارا تھوڑا خون چاہئے
ماں تمہارا تھوڑا خون چاہئے

  

تحریر: ایم وقاص مہر

وہ رات گئے تک گھر سے باہر رہتاتھا۔ہم سب لوگوں نے اسے سمجھانے کی کافی کوشش کی مگر وہ ہماری باتوں کو اَن سنی کر دیتااور پھرتو آہستہ آہستہ اْس کایہ معمول ہی بن گیا ۔ رات کو بارہ بجے کے بعد آتا ،اس کی ماں بچاری اس کا انتظار کر رہی ہوتی تھی جیسے ہی دروازے پر دستک ہوتی ۔وہ جلدی جلدی دروازہ کھول دیتی اور ہر روز یہی الفاظ دوہراتی’’بیٹا گھر جلدی آیا کروں ،رات کے وقت باہررہنا اچھا نہیں ہوتا‘‘۔

وہ آگے سے ہنس پڑتا اور کہتا ’’ماں کچھ بھی نہیں ہوتا بس لوگوں نے یونہی باتیں بنا ئی ہوئی ہیں‘‘۔

وہ بچاری خاموش ہو جاتی تھی ،کیونکہ اسے ڈر رہتا تھا کہ کہیں اس کا اکلوتا بیٹا بھی اسے ناراض ہو کر چھوڑ نہ جائے۔مگر اسے اس بات کا بھی خدشہ رہتا کہ کہیں اس کے خاونداور دوبیٹیوں کی طرح اس کے آخری سہارے کوبھی کہیں رات اس سے چھین نہ لے جائے۔

وہ چونکہ ہمارے گھر کی اوپر والی منزل پر کرائے پے رہتے تھا۔اس لئے اکثر خالہ رسولاں فیکٹری سے واپسی پر، ہمارے پاس تھوڑی دیر کیلئے بیٹھ جایا کر تی تھی۔لیکن اس دوران وہ باتیں کرنے کی بجائے زیادہ تر لوگوں کو دعائیں دیتی رہتی تھی۔لیکن جاتے ہوئے یہ ضرور کہتی تھیں ’’ارسلان بیٹا تم ہی عارف کو کچھ سمجھانا میری کوئی بات وہ مانتا ہی نہیں ‘‘۔میں اثبات میں سر ہلا دیتااور وہ چلی جاتی تھیں۔

پھر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ آج پتا کرتا ہوں ،کہ آخر عارف جاتا کدھر ہے؟میں نے محلے کے سب لڑکوں سے پوچھا ،لیکن سب نے یہی جواب دیا ’’کہ وہ ہمیں کبھی ملا ہی نہیں ‘‘۔میں بڑا پریشان تھا کہ پھر وہ جاتا کدھر ہے ؟کس کے پاس بیٹھتا ہے؟رات گئے تک وہ کہاں رہتا ہے؟

لیکن میں چونکہ اس بات کا پتا کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔اس لئے واپس گھر جانے کی بجائے میں باہر کھیتوں کی طرف نکل گیا۔لوگوں سے پوچھتے پوچھتے بالآخر میں گاوٗں سے باہر قبرستان میں پہنچ گیا۔جہاں پر وہ بیری کے بوڑھے سے درخت کے نیچے بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔اسے دیکھتے ہی میں واپس آگیا ۔لیکن میں نے اس بارے نیں کسی سے کوئی بات نہیں کی۔کیونکہ میں پہلے عارف سے اس حوالے سے بات کرنا چاہتا تھا۔

لہٰذا میں بھی اس رات خالہ رسولاں کی طرح عارف کا انتظار کررہا تھا۔جب تقریباََ ایک بجے دروازے پر دستک ہوئی تو خالہ ہمیشہ کی طرح دروازہ کھونے کے لئے نیچے آئیں ۔لیکن میں نے یہ کہہ کر ان کو روک دیا’’ خالہ میں آج اس سے بات کرتا ہوں ‘‘اور دروازہ کھولادیا۔وہ اندر داخل ہوا تو میں نے اس سے کہا۔

’’عارف ٹھہرو میری بات سنو‘‘ مگر وہ خاموشی سے سیڑھیا ں چڑھنے لگا۔جب میں اس کے پیچھے جانے لگا تو خالہ نے یہ کہہ کر مجھے روک دیا ’’بیٹا میں خود اس سے بات کرتی ہوں تم سو جاؤ۔‘‘ میں اپنے کمرے میں جانے بجائے صحن میں ہی کھڑا رہا اور خالہ اوپر چلی گئیں۔تھوڑی دیر کے بعد اوپر سے چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔میں جلدی سے اوپر آیا تو میں نے دیکھا عارف ہاتھ میں چھر ی لئے ہوئے خالہ کے کمرے کے باہر کھڑا زور زور سے کہہ رہا تھا’’ماں مجھے اپنا تھورا سا خون دے دو ورنہ وہ مجھے جان سے مار ڈالے گا‘‘۔

میں نے جب آکر عارف سے کہا’’عارف یہ کیا پاگل پن ہے؟‘‘ تو وہ بڑے غصے سے میری طرف بڑھا۔میں ڈرگیا اور نیچے بھاگ گیا۔اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں ۔پھر اچانک میر ے ذہن میں مولوی شہاب شاہ کا خیال آیا ۔کیونکہ مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ عارف بھی اپنے ابا ہی کی طرح چلہ کاٹ رہا ہے۔ اس لئے اب وہ بھی ،اپنی ماں کا ویسے ہی خون بہانا چاہتا ہے ،جیسے اس کے باپ نے چند سال پہلے ۔اپنے مؤکلوں کی فرمائش پر اپنی بیٹیوں کا کیا تھا۔۔لیکن بد قسمتی سے بعد میں وہ ان مافوق الفطرت چیزوں سے خود کو بھی نہ بچا پایا تھا۔

یہ خیال آتے ہی میں مسجد کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔مولوی صاحب کو ابھی دوچار ہی آوازیں دیں تھیں کہ وہ جاگ گئے ۔میں نے ان کو ساری بات بتا دی تو وہ مجھ سے کوئی بات کئے بغیر ہی ہمارے گھر کی طرف دوڑنے لگے ۔جب ہم گھر پہنچے تو عارف اس وقت دروازے کو ہتھوڑی سے توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مولوی صاحب نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور خود وہ عارف کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگے ۔لیکن جب وہ باز نہ آیا تو ہم دونوں نے مل کر پہلے تو اس سے ہتھوڑی چھینی پھر اس ساتھ والے کمرے میں رسی سے باندھ دیا۔

مولوی صاحب وضو کرنے لگے تھے اور میں نے خالہ رسولاں کو آواز دی ’’خالہ دروازہ کھولیں ‘‘لیکن جب کوئی جواب نہ ملا۔تومیں نے پھر کہا۔’’خالہ میرے ساتھ مولوی شہاب شاہ صاحب ہیں ،ہم نے عارف کو دوسرے کمرے میں بند کر دیا ہے۔اب آپ پریشان نہ ہوں ،دروازہ کھولیں ۔‘‘

وہ شاید بہت زیادہ ڈر گئی تھیں اس لئے مولوی صاحب سے بات کئے بغیر انہوں نے دروا زہ نہ کھولا۔

مجھے خالہ کو نیچے چھوڑنے کا کہہ کر وہ خود بھی اسی کمر ے میں چلے گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔میں جلدی جلدی سے خالہ کو امی لوگوں کے پاس چھوڑ کر اوپر آکر کمرے کے باہر کھڑا ہو گیا۔مولوی صاحب بلند آواز میں جب تک تلاوت کر رہے ، عارف وحشت بھر ی آواز میں ان کو مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔پھر اچانک کمر ے میں سناٹا چھاگیا۔مجھے ایسے لگا جیسے عارف نے مولوی صاحب پر دھاوا بو ل دیا ہے ۔میں تشویش سے دروازے پر دستک دینے لگا۔دروازہ کھلااور مولوی صاحب نے پانی کا ایک گلاس مانگا۔ میں نے جلدی سے ان کو پانی لا کر دیا ،وہ عارف کو پانی پلانے لگے جواس وقت پسینے سے شرابور فرش پر پڑا ہوا تھا اور اس کی سانس پھول رہی تھی ۔ہم لوگ تھوری دیر تک ادھر ہی بیٹھے رہے ۔جب عارف کے تھوڑے حواس سنبھلے تو وہ رونے لگا تھا۔’’ میں کیا کرتا مولوی صاحب ۔جس گند میں میں پڑگیا تھا اس سے فرار مشکل تھا۔میں نے اسکے کہنے پر چلے کاٹے اور اسکی ساری فرمائشیں پوری کی تھیں لیکن اسکا تقاضا تھا کہ مجھ سے محبت اور وفاداری ثابت کرنے کے لئے اپنی ماں کا خون لیکر آؤ‘‘ مولوی صاحب نے اسے آئندہ ایسے کاموں سے باز رہنے کی ہدایت کی اور شیطانی چلے کرنے کی بجائے روحانی وظائف پڑھنے کا مشورہ دیا ۔پھر اسکو ایک تعویذ دیا تاکہ وہ شیطان سے محفوظ رہ سکے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت