ہم لوہے کے چنے ہیں ، جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا دانت ٹو ٹ جائیں گے ، مریم نواز ہماری باس نہیں بہن ہیں : خواجہ سعد رفیق

ہم لوہے کے چنے ہیں ، جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا دانت ٹو ٹ جائیں گے ، مریم ...
 ہم لوہے کے چنے ہیں ، جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا دانت ٹو ٹ جائیں گے ، مریم نواز ہماری باس نہیں بہن ہیں : خواجہ سعد رفیق

  

گوجرانوالہ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے تین سالوں میں ملک کی کایا پلٹ دی ، ہم لوہے کے چنے ہیں جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا ا س کے دانت ٹو ٹ جائیں گے، بلاول کے بابا اور مشرف نے ملک کا ستیا ناس کر دیا اور کنگال پاکستان ہمارے حوالے کیا گیا تھا ، ضرب عضب آپریشن سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑا ، ہم ایک دن میں چاردن کا سفر طے کر رہے ہیں ، اگرعدالتی فیصلہ ان کی مرضی کا نہ آیا توعمران خان باہر آکر  گند ڈالے گا، اسی لئے وہ عدالت کو دباﺅمیں لانا چاہتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سعدرفیق کا گوجرانوالہ میں ن لیگ کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہماری جماعت میں کوئی بادشاہت نہیں ہے ،  مریم نواز ہماری چھوٹی بہن ہے ”باس “نہیں ،  ہم لوہے کے چنے ہیں جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا ا س کے دانت ٹو ٹ جائیں گے ، نوازشریف کی حکومت نے بلوچستان میں امن قائم کیا ، سندھ حکومت کو کراچی آپریشن نے رکاوٹیں ڈالی اور ساتھ بھی چلتی رہی ، ماضی میں لٹو اور پھٹو کی پالیسی تھی ،  پی پی دور میں نندی پور کی مشینری کراچی پورٹ پر پڑی گلتی سڑتی رہی ۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو نوازشریف اچھا نہیں لگتا ہمیں پتہ ہے ،  نوازشریف نے کراچی کو پھر روشنیوں کا شہر بنایا اور ملک کا امن لو ٹ رہا ہے ، دھرنے والے ہمیں کام کیوں نہیں کرنے دیتے ،  یہ پیپلز پارٹی نہیں کہ 28سال کا لڑکا بڑوں کی قیادت کرے اور وہ سر جھکا کر کھڑے ہو جائیں اور نہ ہی یہ بنی گالا کا دربار ہے ،نواز شریف پاکستان کو قدموں پر کھڑا کرنے کی بات کرتا ہے، دھرنے سے ملک کی ترقی کے منصوبے ایک سال لیٹ ہو گئے ۔

پاکستان عوامی تحریک نے 27جنوری سے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا

انہوں نے کہا کہ بے نامی جائیداد اور اولاد والے کیوں ہم سے حساب مانگتے ہو،عمران خان کتنے دن جھوٹ کے چورن بیچو گے؟ بڑے بڑے جھوٹے دیکھے،عمران خان جیسا جھوٹا نہیں دیکھا،پاکستان کا سب سے بڑا جھوٹا عمران خان ہے۔ ہرروز کہتے ہو استعفا دو،خودبتاو ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل ٹوٹی ،استعفا دیاتھا؟ آرمی پبلک سکول پشاور پر درندوں نے قیامت برپا کی ،کیا تم نے استعفی دیا؟ عمران خان بتاو تمہارا کاروبار کیا ہے،اللے تللے کدھر سے کرتے ہو؟ پاناما پیپرز میں کوئی صداقت نہیں اس پر صرف سیاست کی جارہی ہے،سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہوکر سب بد زبانی کرتے ہیں،عمران خان کو آپ کہنا سکھایاہی نہیں گیا،گینگ بنانا اور لوگوں کا تمسخر اڑانا آپ کو ہی زیب دیتا ہے ۔سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان پارلیمنٹ میں آتے نہیں،تنخواہیں بٹورتے ہیں پھر خود کو صادق و امین کہتے ہیں۔آپ ہمیں موٹو گینگ کہتے ہیں ،ہم آپ کو لمبوگینگ نہیں کہیں گے، لمبوخان تمہیں شرم آتی ہے؟اگرشرم ہوگی تودوبارہ منہ نہیں دکھائیں گے۔عمران خان صبح کہتے ہیںکہ پارلیمنٹ جعلی ہے شام کو کہتے ہیں پارلیمنٹ میں بات کروں گا۔ہمیں بھی معلوم ہے بنی گالہ کے محل میں عمران خان آپ لوگوں سے کیا سلوک کرتے ہیں،آپ کہتے ہیں (ن) لیگ میںدربار لگاہواہے ، ہماری جماعت میں کوئی دربار نہیں۔

خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمنوں کو نوازشریف اچھا نہیں لگتا،نوازشریف کا جرم کیا ہے کہ وہ معیشت کا جوہری دھماکا کرناچاہتے ہیں۔پاکستان کے دشمن نوازشریف کیخلاف سازش کریں گے کیونکہ دشمن ہمیشہ دشمنی ہی کرتا ہے۔جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا اسکے دانت ٹوٹ جائیں گے، لوہے کے چنے چبانے کی کوشش نہ کریں۔جو ملک کو ایٹمی طاقت بناتاہے اس کی تضحیک کرتے ہو؟جب دور بدلتاہے ہم سے حساب لیاجاتاہے،ہم تو حساب دے دیں گے لیکن تیرا کیا بنے گا؟شیخ رشیدپر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنڈی کے کارکنوں نے ہمیں کہا تھا کہ شیخ رشید کو ٹکٹ نہ دویہ جیت کر دھوکہ دے گا،کارکنوں نے ٹھیک ہی کہا تھا۔

نئی انتظامیہ کا پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو عہدے پر برقرار ر کھنے کا فیصلہ

چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم بلاول کی باتوں کابرانہیں مناتے،پنجاب آنے پربلاول زرداری صاحب کا شکرگزارہوں۔بلاول جتنی محنت پنجاب میں کریں گے وہ ہمارے ہی کام آئے گی، بلاول میاں ، ہم بھی سندھ میں دستک دینے والے ہیں ۔ شہبازشریف نے اپنے صوبے کی شکل بدل دی ،آپ نے کیا کیا؟ہم پرتنقید کرو، اپوزیشن کرولیکن دشمنی نہ کرو۔ایک زردری بھٹو کیسے ہو سکتاہے سمجھ نہیں آتی ،بلاول کے بابا کے 5 سال ستیاناس کے سال تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدارکے وقت ریلوے آئی سی یومیں پڑا تھا،ملک میں افراتفری مچی تھی،آج ملک سے لوڈشیڈنگ کے کئی گھنٹے کم ہوچکے ہیں،مزیدکم ہوگی۔ 2013 سے قبل لوڈشیڈنگ عروج پرتھی،کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی تھی،لوگ کہتے تھے پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ملک چلانے کے لیے ہمت ،حوصلہ اور تدبر چاہیے ۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امیرمحترم فیصلہ فرمائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ 2 کشتیوں کے سوار منزل پر نہیں پہنچتے ۔ آپ آزاد کشمیر میں خواہش کرکے ہمارے اتحادی بنے اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے، سراج الحق صاحب آپ فیصلہ کرلیں کہ آپ نے اپنی جماعت کو کدھر لے کر جانا ہے۔

مزید : گوجرانوالہ