بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے خلاف بھارت کی سب سے بڑی سازش سامنے آ گئی، وہ بات جو ہر محب وطن پاکستان کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے خلاف بھارت کی سب سے بڑی سازش سامنے آ گئی، وہ ...
بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے خلاف بھارت کی سب سے بڑی سازش سامنے آ گئی، وہ بات جو ہر محب وطن پاکستان کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

  

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں شرانگیز ی پھیلانے کی ناکام کوششوں کے بعد بھارت نے ایک اور خطرناک سازش تیار کر لی ہے جس پر دن رات عمل جاری ہے جبکہ بی جے پی کے اہم رہنماءایڈوانی نے تو نریندر مودی سے یہ تک مطالبہ کر دیا ہے کہ سندھ اور کراچی کو بھارت کا حصہ بنانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جائے۔

سی پیک کیلئے چین کی افرادی قوت لانے کی باتیں غلط ہیں،احسن اقبال

پے در پے ناکامیوں کے بعد بھی بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور پاکستان کو مزید ٹکڑے کرنے کی گھناﺅنی سازش کے تحت چاروں صوبوں میں الگ الگ انداز کی سیاسی تحریکوں کو اٹھانے اور ان پر خطیر رقم خرچ کر رہا ہے جبکہ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے اور پاکستان میں موجود علیحدگی پسند اور باغی عناصر کی بھرپور مدد کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی ”را“ کے زیر اہتمام ”نیوز ایکس“ اور ”چارٹیکل“ کے نام سےدو خصوصی ٹیلی ویژن سٹیشنز قائم کر دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلکہ پوری دنیا میں جا بجا ایسے سنٹرز قائم ہو چکے ہیں جو پاکستان کے بھگوڑے اور باغی سیاستدانوں کو اپنے اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں۔ ان دونوں بھارتی ٹیلی ویژن چینلز کی مکمل مالی مدد ”را“ کا ادارہ کرتا ہے۔ ان دونوں چینلز سے دن رات اسلام آباد حکومت کی طرف سے چھوٹے صوبوں پر مبینہ زیادتیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ 1977ءمیں پاکستان سے فرار ہو کر کینیڈا میں مقیم طارق فتح پہلے چینل سے دھواں دھار سیاسی پروگرام پیش کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً بھارت کا دورہ بھی کرتا رہتاہے۔

آج کل سندھو دیش کے حوالے سے مخالفانہ مہم شفیع محمد برفت چلا رہا ہے جو کابل میں بھارتی ایجنسی کے پاس مدتوں مقیم رہا، وہ امریکہ اور کینیڈا کے دورے بھی کرتا رہتا ہے،  کابل ہی میں بھارتی سفارت خانے نے انہیں انڈین پاسپورٹ جاری کیا۔ پاکستان اور بھارتی سندھیوں کے مابین اشتراک عمل کے فارمولے بنانا اور اندرون سندھ سے اپنے حامیوں کی تنظیم نو اس کا فل ٹائم جاب ہے۔ بھارت کے دونوں ٹی وی چینلز پاکستان میں موجود علیحدگی پسند اور باغی عناصر کیلئے دن رات کام کررہے ہیں آزاد پختونستان کی تحریک بھی انہی بھارتی چینل نے شروع کی ہے وہ پختونستان کے بجائے پشتونستان کا لفظ استعمال کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے پہلے ٹی وی چینل نے عمرداد خٹک نامی ایک لیڈر کا انتخاب کیا ہے اور آج کل بھارتی ٹی وی چینل نیوز ایکس سے ان کے مسلسل انٹرویوز دکھائے جارہے ہیں جن میں موجودہ پاکستان کے تین صوبوں بلوچستان کے پختون ایریاز کو خیبر پختونخوا سے ملانے کی تحریک پر عمل جاری ہے اور اس کے لئے شب و روز پروگرام ہورہے ہیں۔

آزاد سندھو دیش ہو‘ آزاد بلوچستان یا آزاد پشتونستان ان تینوں ناموں کو یہ دونوں ٹیلی ویژن سٹیشنز پوری قوت سے پھیلا رہے ہیں اور ان کے پیچھے ”را“ جیسی حساس ایجنسی مضبوطی سے کھڑی ہے۔ پاکستان مخالف بھگوڑوں کے لئے یہ رہائش‘ خوراک اور ماہوار وظیفے دیتی ہے اور ٹی وی سٹیشن ”چارٹیکل“ خاص طور پر ایک نیا نعرہ تخلیق کرچکا ہے جس میں پاکستان کو نیوکلیئر بلیک میلر کا شرانگیز خطاب دیا گیا ہے۔ ان دعوﺅں کے مطابق دنیا بھر میں پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی نیوکلیئر بلیک مارکیٹ کسی بھی ملک سے بھاری رقم وصول کرکے ایٹمی پروگرام میں معاونت اور امداد فراہم کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ اسے گرانقدر معاوضہ دیا جائے۔ پشتون آرمی کے علاوہ ”چارٹیکل“ ٹی وی پشتون لبریشن فرنٹ کی اصطلاح بھی استعمال کررہا ہے۔ سندھ میں الگ‘ کراچی میں الگ‘ بلوچستان میں بالکل الگ اور پختونخوا جنہیں اب دوبارہ پشتونستان کا نام دیئے جانے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے ان سارے علاقوں میں اسلام آباد کی وفاقی حکومت کے علاوہ فوج اور پنجاب کے عوام اور اداروں کو ولن قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے ایک سرکردہ لیڈر لال کرشن ایڈوانی بھی سرفہرست ہیں۔ 16 جنوری کو ان کا ایک اخباری بیان ہمارے ہاں کراچی کے بعض اخبارات میں بھی چھپ چکا ہے۔ ایل کے ایڈوانی قیام پاکستان سے قبل سندھ کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا ہے کہ سندھ میں ہندﺅوں کی بڑی تعداد آج بھی آباد ہے اس لئے کراچی سمیت پورے سندھ کو بھارت کا حصہ ہونا چاہئے۔

ایشوریہ رائے اور رنبیر کپور کی ایک ایسی تصویر منظرعام پر آ گئی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے بغیر بھارت ادھورا لگتا ہے، اس خبر میں ایل کے ایڈوانی نے جس کا نام پہلی بار بابری مسجد کے حوالے سے مشہور ہوا اس تحریک میں متعصب ہندﺅں کی سربراہی اس کے ذمے تھی۔ اور اس پر انہی خیالات کی بنیاد پر مقدمہ بھی چلا تھا مگر ہندو اکثریت کے مذہبی جذبات کے پیش نظر وہ رہا ہو گیا اور واجپائی کی حکومت میں مرکزی وزیر بھی رہا۔ ایڈوانی نے ہال ہی میں نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت مہاتما گاندھی نے غلطی کی تھی انہیں سندھ کو بھی ہندوستان میں شامل کروانا چاہئے تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کراچی بمبئی کا حصہ تھا اسے بھارت کا حصہ ہونا چاہئے تھا اور یہ شہر ہم بھارتی فوج کی طاقت کے زور پر دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں