بھارت میں منعقدہ ’’ لٹریری فیسٹیول ‘‘ میں متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی خفیہ آمد ، ایک بار پھر اسلام کو تنقید کا نشانہ بنادیا

بھارت میں منعقدہ ’’ لٹریری فیسٹیول ‘‘ میں متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی ...
بھارت میں منعقدہ ’’ لٹریری فیسٹیول ‘‘ میں متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی خفیہ آمد ، ایک بار پھر اسلام کو تنقید کا نشانہ بنادیا

  

جے پور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے اور مودی سرکار کی سرپرستی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والی بنگلہ دیش کی گستاخ اور متنازعہ ترین مصنفہ تسلیمہ نسرین نے ایک بار پھر اسلام کے خلاف تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی میں اسلام پر تنقید کرتی ہوں ، تو اسلامی بنیاد پرست مجھے مارنے کے لیے دوڑتے ہیں، یہ سب دیگر مذاہب میں نہیں ہوتا، اسلام کا روادار ہونا ضروری ہے،اسلام کے ساتھ ہندو بنیاد پرستی کی بھی مخالف ہوں لیکن اس طرف سے میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوا ۔

بھارتی شہر جے پور میں ہونے والے’’ لٹریری فیسٹول ‘‘میں انتہائی خفیہ طریقے سے شامل ہونے والی تسلیمہ نسرین کی آمد کو انتظامیہ نے انتہائی پوشیدہ رکھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ تسلیمہ نسرین کی لٹریری فیسٹول میں شرکت کی خبر پر کوئی بڑی بد مزگی پیدا ہو سکتی ہے ،جبکہ تسلیمہ نسرین نے جس سیشن میں خطاب کیا فیسٹیول کی ویب سائٹ پر نہ تو اس سیشن کا ذکر ہے اور نہ ہی فیسٹول میں شریک مہمانوں میں تسلیمہ نسرین کا نام شامل ہے۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق جے پور میں منعقدہ لٹریری فیسٹیول میں انتہائی خفیہ طریقے سے شریک ہونے والی تسلیمہ نسرین نے ایک خصوصی سیشن میں اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنی تنقید کا ہدف ایک مرتبہ پھر اسلام کو بنایا اور کہا کہ میں جب بھی اسلام پر تنقید کرتی ہو ں تو اسلامی بنیاد پرست مجھے مارنے کو دوڑتے ہیں ،حالانکہ میں ہندو بنیاد پرستی پر بھی تنقید کرتی ہوں ،تسلیمہ تسرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں یکساں سول کوڈ کا مسلمان حصہ نہیں بننا چاہتے لیکن خواتین کے حقوق کے لئے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔عدم برداشت کے معاملہ پر تسلیمہ نسرین نے کہا کہ ہندوستان میں وہ ہمیشہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی ، لیکن یہاں حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں کہ مجھے ملک چھوڑنا پڑ جائے، بنگلہ دیش میں تو سیکولر مصنفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ قوم پرستی پر یقین نہیں رکھتی ہے اور ان کے لئے پوری دنیا ایک ہی ہے۔ملک بدری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ اگر میرا بس چلتا تو میں بالکل بنگلہ دیش میں رہنا چاہتی، لیکن اس کے بعد ہندوستان ہی وہ ملک ہے جہاں میں گھر جیسا محسوس کرتی ہوں۔ تسلیمہ نسرین نے یہ بھی کہا کہ جب اسے حال ہی میں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ، تب اسے اتنا ہی دکھ ہوا جتنا اسے 2008 ء میں بنگلہ دیشچھوڑنے پر ہوا تھا۔

مزید : بین الاقوامی