قانون کا محافظ اپنے ہی پیٹی بھائیوں کی مبینہ ملی بھگت سے انصاف سے محروم،اکتوبر 2016کو لاپتہ ہونیوالے محسن رسول کامعمہ تاحال حل نہ ہوسکا

قانون کا محافظ اپنے ہی پیٹی بھائیوں کی مبینہ ملی بھگت سے انصاف سے ...
قانون کا محافظ اپنے ہی پیٹی بھائیوں کی مبینہ ملی بھگت سے انصاف سے محروم،اکتوبر 2016کو لاپتہ ہونیوالے محسن رسول کامعمہ تاحال حل نہ ہوسکا

  

جڑانوالہ(ڈیلی پاکستان آن لائن )قانون کا محافظ انصاف کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو چکا ہے،اکتوبر 2016کو لاپتہ ہونیوالے محسن رسول کامعمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے،محسن رسول کو پولیس تاحال ڈھونڈنے میں ناکام ہے جبکہ مدعیان کی جانب سے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں مخالفین سے ساز باز ہو کر کیس کو منظر عام پر آنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

بہاولپور میں سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیم کے 2دہشتگرد وں کودھر لیا،2ہینڈگرنیڈ برآمد

تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ کے علاقے ضلع فیصل آباد کے رہائشی 19سالہ محسن رسول کے گاوں کی ایک عورت بشری بی بی زوجہ محمد امین کے ساتھ ناجائز تعلقات عرصہ دراز سے چلے آرہے تھے ۔ جس کا بشری بی بی کے خاوند، بھائی بابر و دیگران کو بہت رنج تھا۔مورخہ29-10-16کی صبح بشری بی بی اپنے آشنا محسن رسول کو گاوں سے باہر بلاکر اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر اپنے میکے چلی گئی، شام کو بشری بی بی تو اپنے سسرال واپس آگئی لیکن محسن رسول واپس نہ آسکا ۔نوجوا ن کی رات گئے تک واپسی نہ ہونے پر ورثاکو شک ٹہرا تو انہوں لڑکے والد غلام رسول کواطلاع کر دی جوکہ لاہورپولیس میں بطور کانسٹیبل ملازمت کرتا ہے ۔غلام رسول اطلاع موصول ہوتے ہی گاوں پہنچ گیا اورتلاش شروع کردی ، اسی دوران مقامی لوگوںنے ورثا کو اطلاع دی کہ ہم نے آپ کے بیٹے کو بشری بی بی کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ غلام رسول نے گاوں کی معتبر شخصیات کو اپنے ساتھ لیا اور بشری بی بی وغیرہ کے گھرجاکر ان سے اپنے بیٹے سے متعلق پوچھا، مگر وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔محسن رسول کے والد نے متعلقہ تھانے جڑانوالہ میں بشری بی بی اور نامعلوم افراد کیخلاف اغوا کی درخواست دیدی،جس میں متاثر والد نے موقف اختیار کیاکہ ملزمان نے میرے بیٹے کو اغوا کیا کرلیاہے اور خدشہ ہے وہ اسے قتل کردیں گے۔مگر ایس ایچ او ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرتا رہا۔ کوئی شنوائی نہ ہونے پر کانسٹیبل نے آئی جی آفس لاہور میں پیش ہوکر درخواست دیدی اور بعد میں سی سی پی او فیصل آباد کے روبروح پیش ہوکر ساری داستان بیان کی جس پر ایس ایچ او نے نہ چاہتے ہوئے 06-12-16تقریباََ ڈیڑھ ماہ بعدمقدمہ درج کرلیا ۔ایف آئی آر (6/23)تھانہ جڑانوالہ میں درج کی گئی لیکن ابھی تک اس کیس میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔

پولیس بشری بی بی کو پکڑ کرتھانے لے آئی جس نے پولیس کو بیان دیا کہ محسن رسو ل کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جارہی تھی کہ اس نے موٹرسائیکل کا رخ کھیتوں کی جانب کر لیا ،وہاں لے جاکر مجھے بدکاری کیلئے اکساتا رہا،اور کہتا رہا کہ تم نے میری بات نہ مانی تو میں خود کشی لر لوں گا۔میرے انکار کر نے پر اس نے نہر میں کو د کر اپنی جان دیدی، میں نے خوف کے مارے اس کی موٹر سائیکل کو نہر میں پھینکا اور فرار ہوگئی ۔پولیس نے سا را موقف سننے کے بعد اسے ساتھ لیا اورجائے وقوعہ سے ملزمہ کی نشاندہی پر نہر سے موٹرسائیکل بھی بر آمد کر لی۔

لیکن مدعیان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں نے ملزمان کی مدد کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔موٹرسائیکل برآمد ہوجانے کے بعد بھی پولیس محسن رسول کو ڈھونڈنے میں ناکام ہے ۔جبکہ ملزمہ بشری بی بی بار بار اپنے موقف بھی تبدیل کررہی ہے اس نے پولیس کو دوبارہ یہ بیان بھی دیاتھا کہ اس نے بھائی بابر ،والد صابر بھائی اوردیور کیساتھ مل کر محسن کو قتل کر کے نہر میں پھینک دیا ہے۔ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس مخالفین کیخلاف شواہد ہونے کے باوجود بھی ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی اور سونے پہ سہاگا یہ کہ تفتیشی افسر نے بشری بی بی اور اس کے خاوند کو چھوڑ دیاہے جو گاوں آکر پولیس کی زیر سرپرستی ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن پولیس کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا جارہا۔غلام رسول کا ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کیس کا نوٹس لیں اور ہمارے بیٹے کو تلاش کریں۔

مزید : فیصل آباد