اے ٹی ایم مشین اورسوشل میڈیاکے ذریعے فراڈ عروج پر

اے ٹی ایم مشین اورسوشل میڈیاکے ذریعے فراڈ عروج پر

ایف آئی اے کا دائرہ کار بڑا وسیع ہے جعلی ادویات بنانے یا سپلائی کرنے کا مسئلہ ہو یا پھر اے ٹی ایم کے ذریعے فراڈ کے علاوہ جدید ایپلکیکشن کا استعمال کر کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے علاوہ فیس بک ‘ وائٹس ایپ‘یا فون کر کے لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کے معاملات ایف آئی اے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اس سلسلہ میں ایف آئی اے کے مختلف سرکل میں خصوصی یونٹ بھی بنا دیے گئے ہیں ان دنوں عوام سب سے زیادہ متاثر اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے ہونیوالے فراڈ سے ہو رہی ہے لاہور‘ اسلام آباد‘ اور سیالکوٹ ائیر پورٹس پر ایک طویل عرصہ خدمات سر انجام دینے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے میاں خرم یوسف جو برطانیہ اور کینیڈا سے اعلی تعلیم وتربیت حاصل کر کے آئے تھے نے ایک خصوصی نشست میں بتایا کہ اے ٹی ایم کارڈ ا ستعمال کرنے والے صارفین کو خبردار رہنا چاہیے کہ کوئی ہیکر آپ کی معمولی غلطی یا لاپرواہی سے آپ کو جمع پونجی سے محروم کر سکتا ہے پاکستانیوں کیساتھ بڑے شہریوں اور نامور بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے فراڈ ہو چکے ہیں کراچی اور اسلام آباد میں حبیب بینک اور یو بی ایل بینک کی مشینوں کے ذریعے بڑے فراڈ سامنے آ ئے ہیں جس سے صارفین کے کروڑوں روپے چین منتقل کر کے نکلوائے گئے اے ٹی ایم مشین میں ٹیکنالوجی سے نقب لگانے کا طریقہ اسکمنگ کہلاتا ہے کبھی اے ٹی ایم کی کارڈ سلاٹ پر دو نمبر کارڈ ریڈر چپکادیا جاتا ہے کہیں دو نمبر کی پیڈاے ٹی ایم پر سجادیا جاتا ہے کچھ فنکار تو اے ٹی ایم کا ڈسپلے ہی بدل ڈالنے کا فن دکھاتے ہیں جس کے نتیجے میں صارف کا اکاؤنٹ خالی ہو جاتا ہے اے ٹی ایمز میں ہتھوڑے چھینی سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی سے نقب لگانے کا طریقہ جسے اسکمنگ بھی کہا جاتا ہے اے ٹی ایم کی کارڈ سلاٹ پر ہو بہو اسی طرح کا کارڈ ریڈر چپکادیا جاتا ہے جس کی خبر پیسے نکالنے والے کے فرشتوں کو بھی نہیں ہوتی جیسے ہی کسٹمر کارڈ پنچ کرتا ہے کارڈ کی میگنیٹک ٹیپ پر موجود ڈیٹا کارڈ ریڈر میں کاپی پیسٹ ہوجاتا ہے اور پھر اکاؤنٹ کی رقم لٹیرے کے پاس پہنچ جاتی ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کی پیڈ پر آپ اپنا کوڈ ٹائپ کریں وہ دور بیٹھے فراڈیے کے پاس پہنچ جائے جرم کی اس کہانی میں ایک اور ٹوئسٹ خفیہ کیمرے کا ہے جس کی آنکھ اے ٹی ایم کا پن کوڈ ریکارڈ کرکے سارا ڈیٹا اپنے کرائم ماسٹر تک پہنچادیتی ہے ہر دو نمبر کام کا توڑ خود آپ کے پاس موجود ہے اگر آپ کارڈ ریڈر کو نہ پہچان پائیں کیمرے کو نہ دیکھ پائیں تو اے ٹی ایم کو ٹھونک بجا کر دیکھ لیں اپنا پن کوڈ ہاتھ کی اوٹ سے ڈالیں ڈیٹا چوری کرنے کی کوشش کی بھی گئی تو پن کوڈ کے بغیر رقم نہیں منتقل ہوسکے گی، صرف اے ٹی ایم کی صورت پر بھروسہ نہ کریں ہو سکتا ہے وہ چور کے بھروسے پر ہواے ٹی ایم سے ڈیٹا چرانے اور اس سے ڈپلیکیٹ کارڈ بناکر رقم نکالنا نئی بات نہیں ہے ایف آئی اے دو بڑے گروہوں کو پکڑ چکی ہے جن سے تحقیقات جاری ہیں ان وارداتوں میں چینی باشندے بھی ملوث ہیں چائنیز ہیکر اے ٹی ایم کارڈ کا فراڈکرنے میں نہایت شاطر ہیں اسکمرز یا کارڈ ریڈر اے ٹی ایم مشین کے کارڈ ہولڈر میں لگایا جاتا ہے اور اے ٹی ایم کارڈز کی معلومات چراکر چین میں ڈپلیکیٹ کارڈ بنایا جاتا ہے ڈپلیکیٹ کارڈ میں چرایا گیا ڈیٹا فیڈ کرنے کے بعد اسے استعمال کیاجاتا ہے اسی طرح اے ٹی ایم مشین پر خفیہ کیمرے سے پاسورڈ بھی چوری کیا جاتا ہے اور پھر کارڈز کی معلومات اور کیمرے کی ویڈیو کو ٹائمنگز سے سنکرونائز کیا جاتا ہے اے ٹی ایم سے پیسے چرانے کا دوسرا طریقہ سوفٹ ویئر ہیکنگ ہے جس میں کارڈز کی معلومات درکار نہیں ہوتیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس فراڈ سے محفوظ رہنے کے لیے بتایا کہ اے ٹی ایم سے رقم نکلواتے وقت لوٹ مار جیسی وارداتیں تو عام ہیں لیکن حال ہی میں پاکستان کے ایک نجی بینک کے اکاؤنٹس کو اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے ہیک کیا گیاجس کے باعث عوام میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی پاکستان کے نامور نجی بینک حبیب بینک لمیٹڈ کے مطابق ان کے 559 اکاؤنٹس سے 1 کروڑ سے زائد کی رقم چوری کی گئی یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ آخر اتنا بڑا کام ہیکرز کیسے کر گئے اور کسی کو پتہ کیوں نہیں چلایہ کام ہیکرز اس طریقے سے کرتے ہیں کہ صارف کو پتہ ہی نہیں چلتا جب صارف اپنے اے ٹی ایم کارڈ سے رقم نکلوانے جاتا ہے تو اس وقت آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ سے رقم نکل چکی ہے عام طور پر آج کی جدید ٹیکنالوجی میں اس طرح کے خفیہ کیمرے آچکے ہیں جنہیں باآسانی دیکھا بھی نہیں جاسکتا اور یہ ہیکرز انہیں کیمروں کو بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں میں خاموشی کے ساتھ نصب کردیتے ہیں اور پھر جو کچھ بھی آپ مشین میں درج کرتے ہیں وہ اس کیمرے میں ریکارڈ ہوجاتا ہے اگر آپ بھی روز اپنے بینک کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرتے ہیں تو ہیکرز آپ کے اکاؤنٹ کا بھی صفایا کرسکتے ہیں لیکن آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ چند طریقوں کے بارے میں جان کر صارفین اس فراڈ سے بچ سکتے ہیں ‘ صارف کو چاہیے کہ رقم نکالنے سے پہلے کارڈ کی جگہ کو ہلائیں کیونکہ ہیکرز جو اسکیمرز نصب کرتے ہیں اس کے لیے وہ زیادہ تر اسی جگہ کا استعمال کرتے ہیں اس طرح کی ڈیوائسز بہت ہی نازک ہوتی ہیں اور جب آپ اے ٹی اے مشین میں کارڈ ڈالتے وقت اپنے کارڈ کو ہلاتے رہیں گے تو یہ ڈیوائس آپ کا ڈیٹا نہیں پڑھ سکے گی ان وارداتوں میں ہیکرز کیمرے کو مشین کے بالکل اوپری حصے پر نصب کرتے ہیں جس سے وہ دیکھ سکیں کہ آپ پن کورڈ کیا ڈال رہے ہیں لہذا صارف کو چاہیے کہ جب بھی اپنے کورڈ کا اندراج کریں تو اپنا دوسرا ہاتھ اوپر رکھیں تاکہ کمیرہ اگر لگا بھی ہو تو وہ ریکارڈ نہ کر پائے غیر آباد علاقے میں نصب اے ٹی ایم استعمال نہیں کرنی چاہیے ایسا کرنے سے آپ کو 2 طرح کے فوائد ہوسکتے ہیں پہلا تو آپ ان ڈاکوؤں سے بھی بچ سکتے ہیں جو اسلحے کے زور پر وارداتیں کرتے ہیں دوسرا یہ ہیکرز اس طرح کی مشینوں میں یہ ڈیوائسز نہیں لگا پاتے جہاں خود بینک کی سیکیورٹی ہوتی ہے کیونکہ اس کام کے لیے انہیں وقت درکار ہوتا ہے اور جہاں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگی تو بھی یہ ہیکرز اپنا کام نہیں کرسکتے ہیکرز جیسے ہی آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہ رقم کو بیرون ملک منتقل کردیتے ہیں لہذا آپ کو چاہیے کہ اپنے اے ٹی ایم کارڈ سے بین الاقوامی ٹرانسزیکشنز کو اپنے متعلقہ بینک فون کرکے فوری بند کروا دیں جب ہیکرز صارف کے اکاونٹس سے رقم نکالتے ہیں تو صارف کو خود اس بات کا معلوم نہیں ہوتا اس لیے اپنے بینک کی برانچ میں جاکر یا فون کے ذریعے ایس ایم ایس الرٹ کی سہولت کو فعال کروائیں تاکہ اگر آپ اپنے اکاؤنٹ میں کوئی بھی رقم جمع کرائیں یا نکلوائیں تو اس کا پورا ریکارڈ بذریقہ ایس ایم ایس آپ کو موصول ہوتا رہے جوں جوں وقت گزر رہا ہے اور یہ فراڈ اپنے عروج کو ہے سے بچنے کیلئے اب تمام بینکوں کی طرف سے صارفین کے موبائلز اور گھریلو نمبر پر یہ پیغامات دیے جا رہے ہیں کہ وہ اپنا پن کوڈ اے ٹی ایم کارڈ نمبر اور دیگر ذاتی معلومات طلب کرنے پر انکار کر دیں اور فوری طورپر بینک سے رجوع کریں ایسی کسی بھی شکایت کے ازالے کیلئے ایف آئی اے سے فوری طور پر رجوع بھی کیا جا سکتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس انسانی اسمگلروں سے گزشتہ برس 19کروڑ53لاکھ روپے لینڈ روٹ ایجنٹوں سے برآمد کیے گئے جبکہ غیر قانونی طور پر کرنسی کا کاروبار کرنیوالوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے عوام سوشل میڈیا پر فحش اور غیر ضروری پیغامات وغیرہ کے بارے میں بھی ایف آئی اے سے رجوع کر سکتے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2