علی صالح کے بھائی کا حکومت کے ساتھ مل کر حوثیوں سے لڑنے کا اعلان

علی صالح کے بھائی کا حکومت کے ساتھ مل کر حوثیوں سے لڑنے کا اعلان

صنعاء(این این آئی)یمن کے مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے سوتیلے بھائی علی صالح عفاش الحمیری نے ایران نواز حوثی باغیوں سے تعلق ختم کرتے ہوئے آئینی حکومت میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق میجر جنرل علی عفاش الحمیری نے گذشتہ روز یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی سے سعودی عرب کے شہر الریاض میں ان کی قیام گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یمن کے نائب صدر علی محسن الاحمر بھی موجود تھے۔ مقتول صدر علی صالح کے سوتیلے بھائی نے ملک میں آئینی حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کرحوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیں گے۔صدر عبد ربہ منصور ھادی نے میجر جنرل علی صالح عفاش کی آئینی حکومت میں شمولیت کا خیر مقدم کیا اور زور دیا کہ تمام ترحالات کے باوجود آئینی حکومت ملک میں جاری بد نظمی اور بغاوت کو کچلنے تک اپنی مہم جاری رکھے گی۔صدر ھادی نے ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف پوری قوم کو باہم متحد ہونے اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر ھادی کا کہنا تھا کہ حوثی غیرملکی فرقہ وارانہ ایجنڈے پر چل رہے ہیں مگر یمنی قوم ان کے سازشی ایجنڈے کو قبول نہیں کرے گی۔خیال رہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے سوتیلے بھائی کی دسمبر 2017ء کے اوائل میں باغیوں کے ہاتھوں قتل کے بعد صدر عبد ربہ منصور ھادی سے یہ پہلی ملاقات ہے۔میجر جنرل علی صالح الاحمر عفاش بھی حوثیوں کی قید میں تھے ۔

جہاں سے وہ نکل جانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ یمن کے ری پبلیکن گارڈ کے کمانڈر ان چیف تھے۔ بعد ازاں یہ عہدہ ان کے بیٹے احمد کو منتقل کردیا گیا تھا۔

مزید : عالمی منظر