اس بار بھی باب پاکستان کا منصوبہ ادھورا ہی رہے گا؟

اس بار بھی باب پاکستان کا منصوبہ ادھورا ہی رہے گا؟
اس بار بھی باب پاکستان کا منصوبہ ادھورا ہی رہے گا؟

  

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے والٹن روڈ پر باب پاکستان کی تعمیر نو کے منصوبے کا افتتاح کر تے ہوئے کہا کہ باب پاکستان کی تعمیر 20سال پہلے ہونا تھی اس کی حالت زار پر رونا آتا ہے۔

12اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف نے جمہوری حکومت پر شب خون مارا تو اس کے بعد یہ منصوبہ اس وقت کی پنجاب حکومت کے حوالے کیا گیا جنہوں نے اسے کرپشن کا قبرستان بنا دیا۔

ہم گزشتہ ساڑھے 9سال سے اس حکومت کی کارستانیوں اور گند کو صاف کر رہے ہیں اور آج اس منصوبے کی تعمیر نو کا آغاز کیا گیا ہے جس پر ساڑھے 4ارب روپے لاگت آئے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کہ آج ہم باب پاکستان کے اس تاریخی مقام پر کھڑے ہیں جہاں عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور ان کے کروڑوں ساتھیوں کی جدوجہد یاد آتی ہے اور قیام پاکستان کے وقت لاکھوں لوگوں نے ہجرت کر کے اس جگہ پڑاؤ کیا تھا۔ وہ لوگ خون کے دریا عبور کر کے یہاں پہنچے تھے اور یہ عظیم خطہ پاکستان اللہ تعالی نے ہمیں انعام کے طو رپر دیاہے۔

جس طرح گریٹر اقبال پارک کے منصوبے کو مکمل کیا گیاہے اسی طرح باب پاکستان کے اس منصوبے کو بھی تیز رفتاری سے مکمل کریں گے او ریہ منصوبہ نئی نسل کو تحریک پاکستان کی جدوجہد سے آگاہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا جبکہ تحریک پاکستان کی قربانیوں کوبھی اجاگر کرے گا۔

قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو لاکھوں کی تعداد میں برصغیر میں رہنے والے مسلمانوں نے اپنے خوابوں اور آزادی کی سرزمین پاکستان کا رْخ کیا تھا۔ لاہور سے واہگہ بارڈر اور قصور کی سرحدی لائن گنڈا سنگھ والا سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان پاکستان میں داخل ہوئے اور انہوں نے مرکزی والٹن کیمپ میں قیام کیا اور پھر یہاں سے اپنی اپنی منزل مقصود تک پہنچے۔

والٹن کیمپ پاکستان کے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ باب پاکستان کا تصور مسلم لیگ کے رہنما غلام حیدر وائیں نے 1985ء میں دیا جسے پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان نے صدر ضیاء الحق سے منظور کرایا تھا۔

منصوبے کیلئے والٹن کے علاقے میں جگہ مختص کی گئی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں 14 اگست 1947ء کے موقع پر بھارت سے آنے والے مہاجرین کیلئے پہلا کیمپ لگایا گیا تھا۔ بعد میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی اس جگہ کا دورہ کیا تھا۔

1991ء میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں قومی یادگار ’بابِ پاکستان‘ کے پراجیکٹ کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی تعمیر کا آغازکرنے کا فیصلہ کیا مگر ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا اوریوں قومی یاد گار ’باب پاکستان‘ کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ اس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے ’باب پاکستان‘ کے تعمیراتی پراجیکٹ کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا۔ جس کے بعد2011 ء میں یہ منصوبہ ایک مرتبہ پھر التواء کا شکار ہو گیا۔

2005ء میں منصوبے کیلئے 2.5 بلین روپے تخمینہ لگایا تھا جو آٹھ سال کے بعد اب مزید بڑھ جائے گا۔منصوبے پر 850 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کیلئے مدت مقرر ہے اور وزیراعلیٰ سال کے آخر تک اس کی تکمیل چاہتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جولائی 2014ء میں باب پاکستان فاؤنڈیشن بنائی جس کی گورننگ کونسل کے چیئر مین وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق ہیں وزیر اعلیٰ نے باب پاکستان کی تعمیراتی پراجیکٹ مکمل کرنے کا ٹاسک خواجہ سعد رفیق کو دیا ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ لاہور شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے باب پاکستان تعمیر کیا جا رہا ہے۔ باب پاکستان کے لیے ماڈل کے مطابق بیسمنٹ کے اوپر چبوترا بنایا گیا ہے جس میں 24خیمے بنے ہیں جن میں تحریک پاکستان کے وقت کی تصاویر آویزاں کرنے کے لیے بنائے گئے یعنی 24خیمے ایک طرح کے فوٹو گیلری ہوں گے۔

چبوترے کے درمیان میں 164 فٹ لمبائی کا ایک میموریل مینار بنے گا جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہو گا۔باب پاکستان کے چبوترے کے بیسمنٹ میں چار سیکشن ایک آڈیٹوریم، آرٹ گیلری، لائبریری اور میوزیم ہوں گے جن میں تصاویر، لٹریچر، تحریک پاکستان سے متعلقہ مواد آڈیو اور ویڈیو دیکھی جائیں گی۔

باب پاکستان منصوبے کے تحت فوارہ، بارہ دری، باغ، ریستوران اور کھیلوں کی سہولیات، دو سکول، ایک مسجد اور چار ہالز پر مشتمل وسیع و عریض عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اس کے چار دروازے ہیں جبکہ دو بڑے داخلی گیٹ ہیں۔ منصوبہ کئی حکومتوں میں التواء کا شکار رہنے کے بعد چوتھی مرتبہ شروع ہونے جارہاہے۔پاکستان کو وجود میں آئے70 سال گزر چکے لیکن باب پاکستان منصوبہ ابھی تک ادھورا ہے۔ نجانے یہ قومی یادگاری منصوبہ کب مکمل ہوگا۔

مزید : رائے /کالم