چار برس بعد یمن کا پہلا میزانیہ، آمدنی 2.2، اخراجات 3.32ارب ڈالر

چار برس بعد یمن کا پہلا میزانیہ، آمدنی 2.2، اخراجات 3.32ارب ڈالر

صنعاء(این این آئی)یمن میں آئینی حکومت نے سال 2018 کے لیے عام بجٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ گذشتہ چار برسوں میں پیش کیا جانے والا پہلا بجٹ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق وزیراعظم احمد بن داغر نے صحافیوں کو بتایا کہ نئے بجٹ میں 2018 کے لیے مجموعی متوقع آمدنی کا اندازہ 978 ارب یمنی ریال (2.22 ارب ڈالر) لگایا گیا ہے جب کہ اخراجات کا اندازہ 1460 ارب یمنی ریال (3.32 ارب ڈالر) ہے۔یمنی حکومت کی جانب سے اپنے بجٹ کا اعلان سعودی عرب کی طرف سے یمن کے مرکزی بینک کے بیرونی کھاتوں میں دو ارب ڈالر کی رقم جمع کرانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل مملکت ایک ارب ڈالر کی رقم جمع کرا چکی تھی۔سعودی عرب کی جانب سے اس نئے ڈپازٹ کا مقصد یمنی کرنسی کی قدر کو گرنے سے بچانا معیشت کو سرگرم کرنے کے لیے حکومت کو سپورٹ کرنا ہے۔آئینی حکومت کے خلاف حوثی ملیشیا کی بغاوت کے 4 برسوں نے مختلف شعبوں میں یمن کو تباہ کر ڈالا ہے۔ اس دوران حوثیوں نے یمنی حکومت کی تمام تر آمدنی پر قبضہ کیا ۔

کرنسی کے ساتھ کھلواڑ کیا ، مرکزی بینک کے پانچ ارب ڈالر کے ذرمبادلہ کے ذخائر کو ہضم کر لیا اور ایک برس سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی روک دی۔یمن میں تیل کی برآمدات عام بجٹ میں آمدنی کا 75% ذریعہ ہیں۔ اس کے موقوف ہونے کے بعد یمنی حکومت معیشت کو سرگرم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

مزید : عالمی منظر