پولیس کی کارکردگی میں سپورٹس کا کردار

پولیس کی کارکردگی میں سپورٹس کا کردار
پولیس کی کارکردگی میں سپورٹس کا کردار

  

مہذب معاشرے میں پولیس ایک مدد گار،قابل اعتماد ریاستی اور سماجی ادارے کا کردار ادا کرتی ہے۔ معاشرے میں کرائم کو کنٹرول کرنا اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنا محکمہ پولیس کا اولین فریضہ ہے ۔

مہذب اور ترقی یافتہ اقوام اپنے رائج الوقت قوانین کے احترام کی افادیت و اہمیت کا پورا شعور رکھتی ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے دنیا میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔ ترقی کا واحدراستہ تعلیم و تربیت اور جستجو میں ہے اور ضروری ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان بھی تعلیم و تحقیق کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ چلیں۔موجودہ دور میں جہاں ایک طرف تعلیم و تدریس اور علوم و فنون کا تذکرہ کیا جا تا ہے تو دوسری طرف کھیلوں کی اہمیت اور فروغ کی بات ہوتی ہے۔

قومی زندگی کے ہر شعبے میں کھیلوں کے مقابلوں کو کافی اہمیت حاصل ہے اور ہر ملک اپنے اپنے دائرہ عمل میں یہ کوشش کر رہا ہے کہ اسے سیاسی اور اقتصادی برتری کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی فوقیت حاصل ہو۔

اس لئے وہ اپنے ملک کے بہترین کھلاڑیوں کی ٹیم تیار کرتا ہے اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلہ کر کے ان پر برتری حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

کھیل ا ور تفریح ایک ایسا طریقہ ہے جس سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کا درس ملتا ہے اور اس سے احترام قانون بھی سیکھا جاتا ہے۔ کھیل انسان میں قوت برداشت ، ضبط نفس، اتفاق اور اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ورزشی تفریح انسان کی کسالت دور کر کے اسے پھر سے تازہ دم کر دیتی ہے اور جس ورزش میں انسان فطری طور پرزیادہ دلچسپی لیتا ہے وہ کھیل ہے۔

چناچہ کھیلوں سے جہاں جسمانی توانائی پیدا ہوتی ہے اور ذھنی نشونما ہوتی ہے وہاں فرماں برداری، فرض شناسی، تدبیر، حسن انتظام، صبر، قناعت ، تحمل مزاجی اور دشمن کو شکست دینے کے جذبات اور اخلاقی محاسن پیداہوتے ہیں۔علاوہ ازیں اپنے مخالف کی طاقت سے مرعوب نہ ہونا، ناکامی اور مایوسی کے باوجود ہمت نہ ہارنابلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ، مشکلات میں ثابت قدم رہنا، کسی حالت میں ہراساں نہ ہونا بلکہ ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا یہ سب اوصاف محض کھیلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہی بنیادی وجہ ہے کہ محکمہ پولیس کے افسران اور جوانوں میں سپورٹس کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان ریلوے پولیس کو پاکستان کے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے وسائل کی کمی کے باوجودمحکمہ ریلوے پولیس میں سپورٹس کلچر کو فروغ دینے کی بہترین کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان ریلوے پولیس کے افسران اور جوانوں میں ادبی، معلوماتی اور تحقیقی صلاحیتوں کی کمی نہیں اور ان میں موجود کھیلوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے انسپکٹر جنرل پاکستان ریلوے پولیس ڈاکٹر مجیب الرحمن خان نے ڈی آئی جی آپریشنز شارق جمال خان اور اے آئی جی ایڈمن سید حماد حیدر کی سربراہی میں ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے جس سے محکمہ ریلوے پولیس کے جوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف نکھارنے کا موقع ملے گا بلکہ اس مو قع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنا نام ملک کے بہترین کھلاڑیوں کی صف میں شامل کر سکیں گے اور مختلف ٹائٹل جیت کر اپنے ملک کا نام بھی روشن کر سکیں گے۔

ما ضی میں بھی پاکستان ریلوے پولیس کے جوانوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لیتے ہوئے مختلف ٹائٹلز جیت کر ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ ریلوے پولیس لاہور ڈویژن کے جوان آصف علی نے 2005 ء میں ٹورڈی پاکستان سائیکلنگ چیمپئن شپِ جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی،2006 ء میں ریلوے پولیس لاہور ڈویژن کے محمد نوید نے انڈو پاک گیمز کے دوران بھارت کے کھلاڑی گرو دیو منگور کو ریسلنگ کے مقابلے میں بھارت کے شہر جالندھر میں ہرا کر تاریخ رقم کی۔

ریلوے پولیس لاہور ڈویژن کے سہیل عمران نے 2006 ء میں جونئیر پاکستان ہاکی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ملائشیاء اور دوہا میں ہونے والے مقابلوں میں براؤنز میڈل حاصل کئے۔

اس کے علاوہ لاہور ڈویژن کے محمد امجد اور محمد نوید نے جمناسٹک ، جوڈو اور ریسلنگ کے مقابلوں میں کارھائے نمایاں سر انجام دیئے۔ کراچی ڈویژن کے عبدالحق کو جمناسٹک کے مقابلوں میں تین مرتبہ نیشنل چیمپئن رہنے کا اعزاز حاصل ہے اور ورکشاپس ڈویژن کے جا وید اصغر کو چھ مرتبہ انٹر ڈویژنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہے ۔

اس وقت محکمہ ریلوے پولیس میں کھیلوں کی طرف خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ محکمہ کے ایسے جوان جو کھیلوں میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں کے مختلف ٹرائلز اور میچز کروا کر ان کی صلاحیتوں کو پرکھا جاتاہے اوربا صلاحیت جوانوں پر مشتمل کبڈی، والی بال،ویٹ لفٹنگ، باڈی بلڈنگ اور کر کٹ کی ٹیموں کو تیار کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ ریلوے کے تعاون سے پاکستان ریلوے پولیس مختلف مقابلوں کا انعقاد بھی کروا رہی ہے جس میں محکمہ ریلوے، پاکستان ریلوے پولیس اور دیگر محکموں کے کھلاڑی اور ٹیمیں بھی شرکت کرتی ہیں اور ہر کھیل میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں کو انعامات اور ٹرافی دی جاتی ہے۔

حال ہی میں محکمہ ریلوے کی خواتین سنیھا غفور اور ٹونکل سہیل نے اوشنک پیسیفک پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں چار طلائی تمغے جیت کر محکمہ ریلوے کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور عالمی میدان میں پاکستان کا نام روشن کر کے بہترین مثال قائم کی ہے۔

پاکستان ریلوے پولیس بھی محکمہ ریلوے کی خواتین کی کامیابی کو سراہتی ہے اور پاکستان ریلوے پولیس کے جوان بھی اب اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ کھیلوں کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے نا صرف محکمہ ریلوے پولیس کا نام روشن کریں گے بلکہ عالمی مقابلوں میں میڈلز جیت کر تاریخ بھی رقم کریں گے۔

جس کی ایک روشن مثال یہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والے انٹر ڈویژن ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپِ میں پاکستان ریلوے پولیس کی ٹیم نے حصہ لیتے ہوئے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے اور ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی ہے ۔

ایک اچھا کھلاڑی نظم و ضبط کا عموماٌ پابند ہوتا ہے اور اس کے دل میں ایثار ، اتحاد اور کوشش و محنت کے جذبات کا سمندر مو جزن ہوتا ہے۔اخلاقی طور پر ان کھیلوں کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کے محکمہ ریلوے پولیس کے جوانوں میں اخلاق و اتحا د پیدا ہو، مل جل کر کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو، نظم و ضبط کی پابندی اور منظم زندگی بسر کرنے کے جذبات کو ترغیب ملے۔

امید ہے محکمہ ریلوے اور پاکستان ریلوے پولیس مشترکہ جدوجہد سے منزل مقصود پر پہنچے گی اور کھیلوں کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا جا سکے گا۔

مزید : رائے /کالم