تین لیڈر ، تین چہرے!

تین لیڈر ، تین چہرے!
تین لیڈر ، تین چہرے!

  

ملک میں اس وقت چو نکہ تضادات سے بھر پور سیاست کا بازار گرم ہے، لہٰذا نہ تو اختلاف ڈھنگ کا ہوسکتا ہے اور نہ ہی قومی اتفاق کی منزل حاصل ہوسکتی ہے، جو لوگ 2013ء کے بعد بننے والے سیاسی منظر نامے سے اکتا چکے ہیں اور آئندہ انتخابات سے کسی بہتر نتیجے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔

ان کے لئے یہ خواب چکنا چور ہونے کے مترادف ہے۔ ہمارے شب ور وز میں تبدیلی کسی کمہار کے ہاتھ سے بننے والا سانچہ تو ہے نہیں کہ تھوڑی سی ریاضت کے بعد رونما ہو جائے، اس کے لئے جمہوری نظام میں جدوجہد کرکے عوام کو اپنے نقطہ نظر کا ہمنوا بنا کر پارلیمنٹ میں پہنچنا ہے اور وہاں سے قانون سازی کا راستہ اختیار کرنا ہے، اس لئے اقبال نے اس اجتماعی فورم پارلیمنٹ کو مسلم شورائی نظام کی جدید شکل کہا ہے، مگر عہد حاضر کے تبدیلی فیم لیڈر نے اس پر لعنت بھیج دی ہے، پارلیمنٹ قوم کی اجتماعی دانش ہے، مگر عمران خان اس پر لعنت بھیج رہے ہیں۔

یہ بذات خود ایک ایسا مایوس طرز عمل ہے، جو قیادت کے بنیادی فلسفہ کے خلاف ہے اور عمران خان وہ لیڈر ہیں، جن سے نوجوان نسل کی اُمیدیں جڑی اور تبدیلی کی ڈور بندھی ہوئی ہے۔ اس تقریر کے بعد مجھے درحقیت یہ احساس ہوا کہ عمران خان لیڈر تو بن چکے ہیں، مگر ان کے لئے ایک ایسے قومی رہنما بننے کا دروازہ بند ہوگیا، جسے سیاست کے فلسفے میں "Statesmanship" کہا جاتا ہے۔

اب ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنے سیاسی حریف نواز شریف کو عدل کے ایوانوں میں شکست سے دو چار کرچکے ہیں۔ دوبارہ کرپشن کے الزامات کا ایک نیا سلسہ شروع کرچکے ہیں، یہی بہترین وقت تھا، قوم کے سامنے اپنا سیاسی پروگرام اور مستقبل کی حکمرانی کا ایجنڈہ پیش کرنے کا، مگر وہ ایک جارح مزاج فاسٹ باؤلر کی طرح آخری وقت تک اپنے سیاسی حریف کو گرانا چاہتے ہیں۔

ذراسی سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والا عام پاکستانی بھی سمجھتا ہے کہ نواز شریف میدان سے بظاہر آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ چکے ہیں اور شاید دوبارہ اقتدار کے کھیل میں عملی واپسی بھی مشکل ہے، مگر عمران خان اس سیاسی بصیرت سے بھی محروم ہوچکے ہیں، میرے ایک دوست ان سے ملے اور درخواست کی اب دنیا بھر میں اقتدار کے کھیل پر حاوی سیاسی قوتیں اپنا کنٹرول کھو رہی ہیں، فرانس کے عمانول میکرون کی مثال پیش کی، آسٹریلیا میں اپوزیشن کے نوجوان رہنما بل شارٹن کی پذیرائی کا حوالہ دیا۔

معیشت پر دو چار کتابیں گنوائیں(انڈین مرکزی بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن کی کتاب فالٹ لائنز، شکاگو سکول آف تھاٹ کے عاطف میاں کی کتاب ہاؤس آف ڈیبٹ) اورپڑھنے کی درخواست بھی کر ڈالی، مگر حیران کن طور پر خان صاحب نے جواب دیا کہ ابھی کرپشن الزامات کا ایجنڈہ کار آمد اور کارگر رہے گا اور پالیسی کا فوکس نواز شریف اور کرپشن الزامات رہیں گے۔ حیرت ہے ایک لیڈر عوام میں اپنے موقف کی یکسانیت اور بوریت سے آگاہ نہیں۔

عمران خان ہر وقت عون چودھری اور نعیم الحق کے حصار میں رہتے ہیں، لہٰذا ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں آگاہ کریں بطور لیڈر وہ عوام کی نبض سے بے خبر ہو رہے ہیں، اس کے نتائج آئندہ الیکشن میں نکلیں گے۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر ایک چہرہ رکھتی ہے اور عوام میں اپوزیشن کرنے کے لئے ایک نیا چہرہ سجانے کی کوشش کررہی ہے۔ خورشید شاہ نے جو لائن پارلیمنٹ کے اندر لی ہے، اس سے حکومت کو خاصہ افاقہ ہوا ہوگا اور پیپلز پارٹی کو یہ پوزیشن اختیار کرنے کے لئے سب سے اچھا موقعہ خود عمران خان نے فراہم کیا، جو اس طرح کی سستی اور پارلیمانی اندازِ فکر سے گری ہوئی بات کی۔

بلو چستان میں حکومتی تبدیلی کا کُھرا بھی زرداری صاحب کی مسکراہٹ کے اسرار و رموز کا پتہ دے رہا ہے۔ گھوڑوں کی خرید و فروخت کا خاصہ تجربہ زرداری صاحب ماضی میں بھی رکھتے ہیں، جب پنجاب میں اکثریتی جماعت کی حکومت نامنظور کرتے ہوئے منظور وٹو کی حکومت بنادی گئی تھی، شہباز شریف کے گزشتہ دورِ حکومت میں بھی گورنر راج کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کا پلان عدالتی حکم نامے کے بعد شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا تھا۔ ویسے بھی زرداری کی سیاست ایک ایسی پالیسی کے مدار میں مستقل گھومتی ہے، جہاں سیاست کا کوئی رخ نہ توحتمی ہوتا ہے اور نہ کوئی آپشن آخری ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنے سے آپ اقتدار کے کھیل کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، مگر عوام آپ کے ساتھ صرف بہتر حکومت قائم کرنے جیسی کارکردگی کے بعد ہی کھڑے ہوتے ہیں۔کیا وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے 2013ء کے بعد جان بوجھ کر آصف علی زرداری کو ضمنی اور بلدیاتی انتخابات سے آؤٹ رکھا؟کیا پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومتی ترجیحات بدل چکی ہے یا فیڈریشن کی سیاست محض گھوڑوں کی خریدو فروخت سے ممکن بنانی ہے؟ ایسے انداز سیاست سے اقتدار ایک بار پھر زرداری کے ہاتھ لگ سکتا ہے، مگر اس کی قیمت ابھرتے ہوئے لیڈر بلاول بھٹو زرداری کو چکانی پڑے گی۔

ملک میں سیاسی اور معاشی اشرافیہ کے خلاف آج کل ایک اور توانا آواز پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بن کر ابھرے ہیں، عوامی اجتماع میں انہوں نے خواہش ظاہر کی، اگر عوام انہیں اقتدار میں دوبارہ لائے تو وہ عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے۔اس بار اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری سے سڑکوں پر گھسیٹنے والے بیان سے معافی مانگ لی تھی۔

انتخابات کے قریب اب دوبارہ کرپشن کی تان اٹھانے سے پہلے انہیں اپنے گھر کی خبر لینی چاہئے، وزیر اعلیٰ کے اپنے خاندان کے دو اہم افراد (میاں نواز شریف اور شہباز شریف) گزشتہ تیس سال سے اقتدار کے کھیل کا حصہ ہیں، مگر ان کی نظر میں شاید اشرافیہ ’’میں اور آپ‘‘ہوسکتے ہیں۔کرپٹ عناصر کے خلاف سستی بیان بازی کرتے ہوئے شہباز شریف بھول جاتے ہیں کہ ملک کے اعلیٰ ایوان عدل نے ان کے قائد اور بڑے بھائی نواز شریف کو گاڈ فادر اور سسلین مافیا سے تشبیہ دے رکھی ہے، خود انہیں ملک میں احتساب کے ادارے نیب نے طلب کر رکھا ہے، مگر مستقبل کے خود ساختہ وزیر اعظم نے ’’میں نہیں مانتا‘‘ کی شکل میں تازہ فرمان جاری کیا ہے کہ نیب میں طلبی کے احکامات کے بعد ابھی فیصلہ کرنا ہے کہ پیش ہونا بھی یا نہیں کہ ایک آئینی ادارے نے وزیر اعلیٰ کو طلب کیا ہے اور جو اباً شہباز شریف چیئرمین نیب کا اصل چہرہ سامنے لانے کی دھمکی دے رہے ہیں، مجھے حیرت ہے، اگر چیئرمین نیب میں کوئی خرابی تھی اور وہ اس منصب کے اہل نہیں تھے تو ان کی حکومت انہیں چیئرمین نیب ہرگز تعینات نہ کرتی، (تازہ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پیش ہوئے ہیں)۔

میرے سامنے تین لیڈر ہیں ایک کی شخصیت پر اسرار مسکراہٹ سے لبریزہے، دوسرے لیڈر کی گفتگو اور بیانات نت نئے بحران پیدا کرتے ہیں اور تیسرا لیڈر تیز طرار انداز میں اسلام آباد جانے کی خواہش میں کچھ بھی کر نے کو تیار ہے۔ مجھے ان تینوں سے عوام کے لئے خیر کی اُمید نہیں!

مزید :

رائے -کالم -