شہبازشریف اور وزارتِ عظمیٰ کی راہِ پُرخطر

شہبازشریف اور وزارتِ عظمیٰ کی راہِ پُرخطر
شہبازشریف اور وزارتِ عظمیٰ کی راہِ پُرخطر

  

کل جب ٹی وی چینلوں پر بار بارٖ یہ بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف وقت گزر جانے کے باوجود نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو میرا گمان یہی تھا کہ جب وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی تو وہ ڈنکے کی چوٹ پر نیب کے سامنے پیش ہوں گے اور کہیں گے لاؤ تو قتل نامہ مرا، میں بھی دیکھ لوں۔

مگر شاید کوئی مصلحت آڑے آ گئی یا لیگل ٹیم نے اُنہیں روکے رکھا کہ وہ وقت مقررہ پر نیب کے دفتر نہ گئے۔ خیال تھا کہ نیب اُنہیں پھر بلائے گا اور شاید نوبت وارنٹ تک آ جائے، مگر اچانک اڑھائی بجے کے قریب بریکنگ نیوز چلی کہ شہبازشریف نیب میں پیش ہونے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں، اس طرح میری خوش گمانی درست ثابت ہوئی۔

میں شہبازشریف کو ایک مختلف قسم کا حکمران سمجھتا ہوں، میری خوش گمانی کا سبب بھی یہی تھا کہ وہ اسحاق ڈار کی طرح چھپیں گے نہیں، بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ میرا خیال تھا وہ جتنا بھی کہتے رہیں کہ چیئرمین نیب کو اُن سے خاص ’’محبت‘‘ ہے، وہ لاکھ اس حوالے سے تاویلیں پیش کریں، لیکن ایک بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے اُنہیں قانون کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے۔

خاص طور پر جب اُن کے بڑے بھائی نیب عدالت میں باقاعدگی سے پیش ہو رہے ہیں، حالانکہ اُنہیں شدید تحفظات ہیں تو شہبازشریف جو ہمیشہ ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لیتے رہے ہیں اور جن کا بیانیہ بھی نوازشریف کے برعکس بہت معقول اور اداروں کے احترام والا ہے تو اُنہیں اپنی لیگل ٹیم کا مشورہ رد کرتے ہوئے نیب کے سامنے پیش ہو جانا چاہئے تھا تاکہ اُن کے بارے میں کوئی منفی تاثر نہ جاتا اور اُنہوں نے بالآخر یہی کیا۔

کیا حسنِ اتفاق ہے کہ جس روز بابِ پاکستان کی تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف کے نعرے لگ رہے تھے، اُسی روز یہ خبریں بھی بریکنگ نیوز کے طور پر چل رہی تھیں کہ شہبازشریف نیب کے سامنے پیش ہوتے ہیں یا نہیں؟۔۔۔ خود اُنہوں نے بھی اپنی تقریر میں اس کا حوالہ دیا اور کہا کہ ابھی میں سوچ رہا ہوں کہ نیب کو میزبانی کا شرف بخشوں یا نہ بخشوں؟ مستقبل کے متوقع وزیراعظم کو تو مزید محتاط ہو جانا چاہئے، آنے والی بلاؤں کو وقتی طور پر ٹالنے کی بجائے اُن کا سامنا کرنا چاہئے تاکہ سرخرو ہوا جا سکے۔

اتنا تو اُنہیں اندازہ ہو چکا ہوگا کہ اب ہوائیں کچھ اور چل رہی ہیں۔ اب پہلی والی بات نہیں کہ معاملات کو قالین کے نیچے چھپایا جا سکے، ایسا تو شاید اب نہ ہو سکے کہ شہبازشریف نیب کا کچا چٹھہ کھولنے کی بات کریں اور اس کی وجہ سے نیب پہلے کی طرح لسی پی کر سو جائے۔

اب تو وہ جاگ رہا ہے، کیا شہبازشریف اس معاملے کو لٹکا کر یہ چاہیں گے کہ یہ انتخابات تک اُن کا پیچھا کرتا رہے؟ اُنہیں تو یہ چاہئے کہ ریکارڈ سمیت نیب کے سامنے پیش ہوں اور ثابت کریں کہ اُنہوں نے واقعتاً معاملات کو شفاف رکھا ہے اور ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔

کہا جا رہا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا سکینڈل بہت سنگین ہے اور اُس کے دستاویزی ثبوت نیب کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ اس سے پہلے پنجاب میں بنائی جانے والی پرائیویٹ کمپنیوں کا معاملہ بھی اربوں روپے کے فراڈ کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ساتھ ہی میٹرو بس منصوبے میں چینی کمپنی کے ذریعے منی لانڈرنگ بھی سامنے آ چکی ہے۔

تحریک انصاف نے تو باقاعدہ سٹیٹ بینک سے اس منصوبے کے مالی معاملات کی تفصیل مانگ لی ہے۔ یہ سب چیزیں سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہیں۔ اُمید ہے شہبازشریف وہ غلطی نہیں کریں گے جو نوازشریف نے کی اور الزامات کو سنجیدہ نہیں لیا جس کا نتیجہ بالآخر اُنہیں بھگتنا پڑا۔

دو روز پہلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایک نجی چینل پر انٹرویو دیکھ رہا تھا، جب اُن سے سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کیا، شہبازشریف کو مستقبل کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہو گیا ہے، تو اُنہوں نے اثبات میں جواب دینے کی بجائے یہ کہا کہ اس کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی۔

حیرت ہے جس بات کا اعلان نوازشریف واضح طور پر کر چکے ہیں اور جس پر مبارکبادیں اور جشن بھی منائے گئے ہیں، اُس کے بارے میں شاہد خاقان عباسی نے ایک مبہم جواب کیوں دیا، کیا شہبازشریف کو آخر وقت پر پھر پنجاب کی حد تک محدود کر دیا جائے گا؟ اُن کا بیانیہ تو ابھی سے بدل چکا ہے۔

انہوں نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام نے اُنہیں وزیراعظم بنایا تو وہ دیگر صوبوں کو بھی ترقی کے حوالے سے پنجاب کے برابر لے آئیں گے۔۔۔ عوام اُنہیں چاہتے ہیں یا نہیں، یہ مرحلہ تو آگے کا ہے۔

فی الوقت تو مرحلہ یہ وہ نہیں ہے کہ اُنہیں مسلم لیگ (ن) اپنا امیدوار برائے وزارتِ عظمیٰ نامزد کرتی ہے یا نہیں؟ کہا جا رہا ہے کہ مستقبل کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کا کردار کیا ہوگا؟ اس نکتے پر مسلم لیگ (ن) کے اندر ابہام بڑھتا جا رہا ہے اور بے چینی بھی۔

اگر جلد فیصلے نہ کئے گئے تو پارٹی شکست و ریخت کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ نوازشریف اگرچہ بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں، مگر اِن جلسوں کا حاصل وصول صرف اُن کی ذات تک محدود ہے، پارٹی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اُن کے بیانیے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

پہلے ہی ایک مذہبی طبقہ یہ مہم چلائے ہوئے ہے کہ ختم نبوت حلف میں ترمیم کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہ دیا جائے، اب اگر نوازشریف اِسی طرح عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے رہتے ہیں تو اس بیانیہ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کیسے آئندہ انتخابات میں جیت سکتی اور دوبارہ حکومت بنا سکتی ہے؟ الیکشن لڑنے کے خواہشمند امیدواروں کی ایک اپنی بصیرت ہوتی ہے، انہیں بہت کچھ دیکھنا ہوتا ہے، جبکہ فی الوقت صورتِ حال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) یہ بھی طے نہیں کر سکی کہ نوازشریف کا پارٹی میں متبادل کون ہے؟

شہبازشریف میں اتنی صلاحیت ضرور ہے کہ وہ کوئی بھی خلا پورا کر سکتے ہیں، نجانے کیوں باقاعدہ طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا جا رہا کہ آئندہ وزیراعظم شہبازشریف ہوں گے۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ شہبازشریف وزیراعظم کے نعرے صرف اُن کے اپنے جلسوں میں لگ رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے جو اجتماعات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، نوازشریف یا وزراء کی صدارت میں ہوتے ہیں، اُن میں شہبازشریف کا ذکر تک نہیں ہوتا۔

کیا شہبازشریف کے خلاف پارٹی کے اندر مزاحمت موجود ہے یا نوازشریف نے معاملے کو تعطل میں ڈالا ہوا ہے تاکہ اُن کی مہمات کی وجہ سے اگر نیب کیس رک جاتے ہیں اور مریم نواز کو کلین چٹ مل جاتی ہے تو شاید شہبازشریف کو صوبے تک ہی محدود رکھا جائے اور وزارتِ عظمیٰ کے لئے مریم نواز خم ٹھونک کر میدان میں اُتر آئیں۔

یوں لگتا ہے کہ شہبازشریف سے چودھری نثار علی خان کی آئے روز ملاقاتیں بھی شہبازشریف کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ جب سے پرویز رشید نے چودھری نثار علی خان کے خلاف محاذ کھولا ہے، یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نوازشریف نے اُنہیں اپنی گڈ بکس سے نکال دیا ہے، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے نوازشریف نے ناپسندیدہ قرار دے دیا ہو، وہ شہبازشریف کی گڈ بکس میں رہے اور کوئی نقصان بھی نہ پہنچائے؟ لگتا یہی ہے کہ شہبازشریف اگر پارٹی کے پلیٹ فارم سے مستقبل کے وزیراعظم کے لئے لنگر ڈالتے ہیں تو اُنہیں بہت کچھ اپنے زور بازو پر کرنا پڑے گا، لیکن درمیان میں نیب کا چیلنج آ گیا ہے۔

بہتر تو یہی ہوگا کہ وہ مزاحمت کا بیانیہ اختیار کرنے کی بجائے قانون کے سامنے خود کو صاف و شفاف ثابت کرنے کا راستہ اختیار کریں، اگر وہ نوازشریف کا پارٹ ٹو بن گئے اور اُنہوں نے دباؤ کے ذریعے گلو خلاصی حاصل کرنے کی راہ اختیار کی تو اس سے اُنہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اُلٹا نقصان ہو جائے گا۔

اُنہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک وہ صوبے تک محدود تھے، توپوں کا رخ صرف نوازشریف کی طرف تھا، لیکن نوازشریف کی نااہلی اور اُن کے وزیراعظم بننے کی خبروں نے پورا منظر تبدیل کر دیا ہے۔

اب اپوزیشن بھی اُن کا راستہ روکنا چاہتی ہے اور شاید مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود وہ لوگ بھی جو جانتے ہیں کہ نوازشریف کی نسبت شہبازشریف کو اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کرنا بہت مشکل ہے۔

شہبازشریف نے کرپشن کی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو نیب تحقیقات کے بعد ہوگا، لیکن اُن کے حق میں جو سب سے بڑی دلیل موجود ہے، وہ اُن کی صوبے کے لئے خدمات ہیں۔ اُنہوں نے بہت کام کئے ہیں، اُن کی ترجیحات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے وزارتِ اعلیٰ کے مزے لوٹتے رہے۔

مزید : رائے /کالم