قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال قائم کر کے آگاہ کیا جائے، چیئر مین سینٹ

قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال قائم کر کے آگاہ کیا جائے، چیئر مین سینٹ

اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ سینیٹ نے بچوں اور بچیوں کے حقوق کیلئے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے، نیشنل کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال قائم کر کے ایوان کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق قصور اور مردان میں متاثرہ علاقے کا دورہ کر کے ایوان کو بتا ئے اب تک ان کیسوں پر کیا پیشرفت ہوئی اور درندہ صفت ملزم کیوں نہیں پکڑے گئے۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضا محمد ربانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے چیئرمین سینیٹ کے کہنے پر سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر کی ہمشیرہ، منو بھائی، ایئر مارشل (ر) اصغر خان، جنرل (ر) خالد شمیم وائیں، قصور اور مردان میں درندگی کی بھینٹ چڑھنے والی بچیوں، ڈاکٹر اشفاق احمد، سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی اہلیہ، ڈاکٹر ثاقب سیکرٹری پورٹ قاسم اتھارٹی کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں اور ایل او سی پر بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کروائی۔سابق وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے اجلاس کو مردان اور قصور میں بچیوں سے بد اخلاقی کے واقعات کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی سے آگاہ کیا۔ چیئرمین کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کو ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے تفصیل سے بریفنگ دی ہے ،ان کے مطابق قصور میں آٹھ واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا ہے کہ ایک ملزم جس کا نام مدثر ہے وہ پکڑا گیا اور مقابلے میں مارا گیاہے ۔ بھی پولیس کو ملزم تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ کمیٹی نے اس طرح کے مجرموں کو سرعام پھانسی چڑھانے کے قانون کی سفارش کی ہے۔ رضا ربانی نے کہا ہے کہ سینیٹ نے بچوں اور بچیوں کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے، نیشنل کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال قائم کیا جائے اور جمعہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے۔ سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ سی پیک کے مشرقی اور مغربی روٹس پر بھرپور کام ہو رہا ہے، کسی منصوبے کو ڈراپ نہیں کیا گیا سینیٹر سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سڑکوں اور موٹر ویز کا معیار وہ نہیں ہے جو پنجاب میں ہے۔ سینیٹر مختار احمد دھامرا نے کہا کہ حیدر آباد کراچی شاہراہ کو موٹر وے کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ وہاں پر وہ سہولیات نہیں ہیں جو پشاور ۔ لاہور موٹر وے پر ہیں۔ اس کے علاوہ سی پیک مکمل ہونے سے سڑکوں پر ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔ اس لئے وژن 2025ء میں ایک نئی شاہراہ کا منصوبہ رکھنا چاہئے۔ اس کے علاوہ این ایچ اے نے محصول ڈبل کر دیا ہے۔ یہ پیسے متعلقہ صوبوں میں سڑکوں پر لگائے جائیں۔ کراچی ۔ حیدر آباد سڑک موٹر وے نہیں ہے اس لئے حکومت مستقبل کیلئے مناسب منصوبہ بندی کرے۔ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے سینیٹ کو بتایا کہ کہا ہے کہ پاکستان میں کوئلے کے منصوبوں میں دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ کوئلے کے پاور پلانٹس کے لئے وافر پانی کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے تحت کوئی سیکنڈ ہینڈ کوئلے کا پلانٹ نہیں لگ رہا۔ کوئلے کے منصوبے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، دنیا اس کا اعتراف کرتی ہے۔ دنیا بھر میں آج بھی کوئلے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں 30 فیصد، بھارت میں 40 سے 50 فیصد کوئلے کا استعمال بجلی کے لئے ہے۔اجلاس کے دوران مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی کی گئیں سینیٹر نسرین جلیل نے آڈیٹر جنرل کے فرائض، اختیارات اور ملازمت کے شرائط و ضوابط (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سینیٹر ہدایت اﷲ نے قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کی طرف سے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سینیٹر ہدایت اﷲ نے قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری محکموں میں کام کرنے والی بی پی ایس 17 اور اس سے اوپر کی خواتین کی تعداد بمع صوبہ وار اور ضلع وار تفصیلات سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سنیٹر محمد جاوید عباسی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کرنے کا بل دستور (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے سنیٹ کے قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی 2012ء کے قاعدہ 193 کے تحت اگست 2017ء سے نومبر 2017ء تک کے عرصہ کے لئے کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ سینیٹر سعید مندوخیل نے صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاع سینیٹر مشاہد حسین سید نے سینیٹر فرحت اﷲ بابر کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے حامل نکتے جو ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کو ایکس کیڈر افسر کی تعیناتی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے مذکورہ سروس گروپ کے ریگولر کیڈر افسران کو محکمے کا سربراہ بننے کا کبھی موقع نہیں ملے گا، سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔سینٹرعبدالرحمان ملک نے بلوچستان میں سینیٹر روبینہ عرفان کے گھر میں ڈکیتی کے واقعہ اور بلوچستان پولیس کی جانب سے مجرموں کو جانتے ہوئے کیس کو مس ہینڈل کرنے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول