انصاف کی راہ میں رکاوٹیں قانون سازوں کی غفلت ہے

انصاف کی راہ میں رکاوٹیں قانون سازوں کی غفلت ہے

قوانین بنانا چیف جسٹس یا ججز کا کام نہیں اگر انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ہیں تو یہ قانون سازوں کی غفلت ہے سیاسی بیانوں کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی ۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) غلام مصطفی نے چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انصاف ملنے میں کوئی تاخیر یا قباحتیں ہیں تو اس کی ذمہ داری چیف جسٹس یا ججز پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ یہ چیف جسٹس کا اختیار نہیں کہ وہ قانون سازی کر سکے اگر انصاف کی راہ میں کوئی قباحتیں موجود ہیں تو وہ صدیوں پرانے قوانین کی وجہ سے ہیں جن کو موجودہ زمانے کے مطابق بدلنے کی ضرورت ہے اور ہماری مقننیٰ اس میں کوئی کام نہیں کر رہی اور اسی وجہ سے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ہیں وہ ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ یہ چیف جسٹس کا کام نہیں کہ وہ ایڈمنسٹریٹو معاملات کو دیکھے مگر یہ المیہ ہے کہ یہاں صاف پانی اور دیگر مسائل کو بھی چارو ناچار چیف جسٹس کو دیکھنا پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر قانون بنایا ججز کا کام نہیں اگر قانون سازوں نے کوئی کام کیا ہوتا تو انصاف میں کبھی تاخیر نہ ہوتی انہوں نے کہا کہ بلاول ہو یا نواز شریف یا کوئی اور عدلیہ پر تنقید کی بجائے قانون سازی پر توجہ دیں۔

لیفٹیننٹ جنرل(ر) غلام مصطفی

مزید : صفحہ اول