گورنر اسٹیٹ بینک تقرری ،جواب جمع نہ کرانے پر عدالت کا اظہار برہمی فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری

گورنر اسٹیٹ بینک تقرری ،جواب جمع نہ کرانے پر عدالت کا اظہار برہمی فریقین کو ...

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے طارق باجوہ کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک تقرری کے خلاف دائر درخواستوں پر فریقین کی جانب سے جواب جمع نہ کرائے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ نوٹس جاری کردئے۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طارق باجوہ کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک تقرری کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔خیال رہے کہ پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز نے گورنر اسٹیٹ بینک کی تقرری کو چیلنج کیا تھا۔درخواست گزاروں کی استدعا پر عدالت عالیہ نے درخواست جلد سماعت کیلئے منظور کی تھی۔درخواست گزاروں کی جانب سے شہباز لطیف کھوسہ عدالت عالیہ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ عدالت نے نومبر 2017 میں فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے اور جواب جمع کرانے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود جواب جمع نہیں کرایا گیا۔ جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کو دوبارہ نوٹس جاری کردئے اور فریقین کو دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 29 اپریل کو اشرف وتھرا اپنی تین سال کی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے جس کے بعد ریاض الدین قائم مقام گورنر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔7 جولائی 2017 کو اسٹیٹ بینک کے سابق ڈائریکٹر طارق باجوہ کو آئندہ 3 برس کیلئے مرکزی بینک کے نئے گورنر کی حیثیت سے تعینات کردیا گیا ،ان کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ہے جو گذشتہ ماہ 18 جون 2017 کو سیکریٹری خزانہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے کسی بیورو کریٹ کو مرکزی بینک کے گورنر کے طور پر تعینات کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر