سینیٹ کمیٹی داخلہ، قصور اور مردان میں بچیوں بد اخلاقی اور ہلاکت کیخلاف مذمتی قرار داد منظور

سینیٹ کمیٹی داخلہ، قصور اور مردان میں بچیوں بد اخلاقی اور ہلاکت کیخلاف مذمتی ...

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پوری قوم جاننا چاہتی ہے زینب کے قاتل کون ہیں؟تجویز دیں گے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو پھانسی دی جائے ٗاگر ہم ننھے بچوں کی آہوں کا جواب نہیں دے سکتے تو ہم ناکام ہیں ۔ رحمان ملک کے زیرصدارت گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس ہوا ، جس میں قصورمیں زیادتی کے بعدقتل کی گئی ننھی زینب کے والدمحمدامین اور پنجاب پولیس کے حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ،اجلاس میں قصورمیں جاں بحق زینب اورمردان میں جاں بحق عاصمہ کیلئے دعا کی گئی۔کمیٹی اجلاس میں قصور اور مردان میں بچیوں کی ہلاکت کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔قرارداد کے متن کے مطابق بچوں کے اغوا و بداخلاقی کے مجرموں کوپھانسی پر لٹکایا جائے ٗبچوں کے ساتھ بد اخلاقی اور دیگر جرائم سے متعلق کمیشن بنایا جائے،بچوں سے متعلق جرائم روکنے کیلئے پولیس واٹس ایپ نمبر متعارف کروائے جائیں ۔اجلاس میں بلوچستان میں پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر بھی فاتحہ خوانی بھی ہوئی۔اجلاس میں زینب کے والد محمد امین نے کہا کہ اس روز میرا بھتیجاعثمان بیٹی کے ساتھ سپارہ پڑھنے گیا تھا میرا بھتیجا سپارہ پڑھنے چلا گیا لیکن زینب سپارہ پڑھنے نہ پہنچی، میری بیٹی کے پاس اس روزپیسے بھی تھے، ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت بچی کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ۔محمد امین نے کہا کہ جس روز بچی اغوا ہوئی اسی رات ہم نے ریسکیو15پر کال کی تھی، پولیس والے آتے تھے کینو کھاتے اور چائے پیتے تھے، جب لاش ملی تھی اس وقت سراغ رساں کتوں سے ملزم کی شناخت ہو سکتی تھی ٗہم نے اپنی فیملی کے سب سے پہلے ڈی این اے کرائے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ آپ کی بیٹی تو نہیں لا سکتے لیکن آپ کے زخموں پر مرہم ضرور رکھیں گے۔انچارج انویسٹی گیشن ٹیم ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش نے بریفنگ میں بتایا کہ جولائی سے اب تک کی تحقیقات کے مطابق زینب کے علاوہ دیگر بچیوں عاصمہ، لائبہ، تہمینہ، نور فاطمہ، ایمان فاطمہ، ثنا کے ساتھ بد اخلاقی ہوئی، 31 اکتوبر 2017 سے اب تک 696 ڈی این اے کیے گئے اور 692 لوگوں سے تحقیقات کی گئیں، 125 ڈی این اے کا رزلٹ ابھی تک نہیں آیا، زینب کا قاتل کل بھی پکڑا جا سکتا ہے اور کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ڈی آئی جی مردان نے عاصمہ قتل کیس کے بارے میں کمیٹی کو بتایا کہ 13 جنوری کو بچی عاصمہ اغوا ہوئی، پوسٹ مارٹم کروایا گیا جس سے پتہ چلا کہ گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ بداخلاقی، قتل اور انتقام کو مد نظر رکھ کر تحقیقات کی جا رہی ہیں، جیو فینسنگ بھی کی جارہی ہے اور تحقیقات کو ہر طرح سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔اجلاس میں زینب اور عاصمہ کے لیے دعا کرائی گئی اور واقعات کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بچوں کے ساتھ اغوا و زیادتی کے مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جائے، بچوں کے ساتھ ہونیوالے جرائم پر کمیشن قائم کیا جائے اور پولیس فوری مدد کیلئے ایک واٹس ایپ نمبر متعارف کروائے۔اجلاس میں سینیٹر شاہی سید کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی گئی جو پورے ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جرائم کی رپورٹ تیار کرے گی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کمیٹی چار ہفتوں کی اندر رپورٹ پیش کرے گی اور ایسے جرائم کے اسباب اور سدباب کیلئے سفارشات پیش کرے گی۔ چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کوئٹہ کے کسٹمز کلیکٹوریٹ میں کسٹمز انسپکٹرز کی خالی آسامیوں سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کیلئے مزید 30 کا وقت دیدیا جبکہ فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ء ،وفاقی تحقیقاتی کمیشن بل 2017ء ،جانوروں کیساتھ ظلم کی ممانعت کا (ترمیمی) بل 2018ء ،نیشنل سوک ایجوکیشن کمیشن بل 2017ء کمیٹی متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے گئے اجلاس میں سینیٹر سحر کامران نے تحریک پیش کی کہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1998ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ء پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس کے تحت پی پی سی کی دفعہ 364 (الف) اور سی آر پی سی کے جدول دوم میں ترمیم درکار ہے۔

مزید : صفحہ آخر