پراپرٹی ٹیکس میرپور میں نہیں سارے آزاد کشمیر پر لاگو ہے،فاروق حیدر

پراپرٹی ٹیکس میرپور میں نہیں سارے آزاد کشمیر پر لاگو ہے،فاروق حیدر

مظفرآباد( بیورورپورٹ)وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی کی سابق حکومت نے عام انتخابات سے محض 7دن قبل پراپرٹی ٹیکس نافذ کیا اور پراپرٹی ٹیکس نافذ کر کے تعلیمی پیکج کا نفاذ کیا گیا ،اس وقت بھی مسلم لیگ ن نے بحیثیت اپوزیشن جماعت اس ٹیکس کی قانون ساز اسمبلی میں بھرپور مخالفت کی تھی۔ پراپرٹی ٹیکس صرف میرپور میں نہیں سارے آزاد کشمیر پر لاگو ہے تعلیمی پیکیج اور پراپرٹی ٹیکس کے خلاف عدالت گئے تھے عدالت نے تعلیمی پیکیج بحال کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں پراپرٹی ٹیکس بھی بحال ہو گیا ،آزادکشمیر میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ میں آج کی تحریک انصاف کی قیادت برابر کی شریک تھی کیونکہ یہ لوگ اس وقت پیپلزپارٹی میں تھے اور پیپلزپارٹی سے مفاد حاصل کرتے رہے انتخابات کے دوران یہ لوگ پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گے۔ وزیراعظم ہاؤس میں عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں 21جولائی کو عام انتخابات تھے لیکن اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت نے 16جولائی کو یہ ٹیکس نافذ کیا اور تعلیمی پیکیج لایا بحیثیت اپوزیشن جماعت ہم نے اسمبلی میں پراپرٹی ٹیکس کی بھرپور مخالفت کی لیکن سابق حکمرانوں نے اکثریت کی بنیاد پرٹیکس نافذ کر دیا تعلیمی پیکیج کے خلاف مسلم لیگ ن نے عدلیہ سے رجوع کیا عدالت نے تعلیمی پیکیج بحال کر دیا تعلیمی پیکیج بحال ہونے کے بعد پراپرٹی ٹیکس بھی بحال ہو گیا تعلیمی پیکیج کے لیے ہی پراپرٹی ٹیکس نافذ کیا گیا تھا آزادکشمیر کے عوام کو سابق حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے عوام سے واردات کیوں کی اور آج پراپرٹی ٹیکس کی مخالفت کر رہے ہیں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ میں سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید ،جملہ سابق وزراء اور مشیران شامل تھے سابق وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر ،سابق وزیر تعلیم کالجز مطلوب انقلابی اور سابق وزیر تعلیم سکولز میاں عبدالوحید پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ میں پیش پیش رہے اور پراپرٹی ٹیکس نافذ کر کے تعلیمی پیکیج کا نفاذ کیا گیا وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے آزاد کشمیر کا مالیاتی نظام تباہ کیا 22ارب روپے کی مقروض حکومت چھوڑ کر گئے سابق حکمران ملازمین کے جی پی فنڈ ،ایک سال کی اے ڈی پی ،لینڈ کمشن ،متاثرین منگلا کے پیسے ،کنٹریکٹرز کی کال ڈیپازٹس بھی خرچ کر کے گئے انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت پیپلزپارٹی کی حکومت کے سیاہ کارناموں میں شامل رہی یہ لوگ اس وقت پی پی حکومت کا حصہ تھے اور حکومت سے اپنے کام نکلواتے رہے بعدازاں یہ لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے پیپلزپارٹی کی حکومت کی ساری وارداتوں میں آج کی پی ٹی آئی اور اس کی قیادت برابر کی شریک تھی وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آج وہی لوگ اس ٹیکس کی مخالفت کر رہے ہیں جنہوں نے ریاستی عوام پر یہ پراپرٹی ٹیکس لاگو کیا پیپلزپارٹی نے ہی متنازعہ تعلیمی پیکیج کی بحالی کے لیے عدلیہ سے رجوع کیا عدالت سے تعلیمی پیکیج کی بحالی پر پراپرٹی ٹیکس بھی لاگو ہو گیا ہے پیپلزپارٹی کا موقف ہی یہی تھا کہ تعلیمی پیکیج کے لیے پراپرٹی ٹیکس نافذ کیا گیا ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے عوام سے کہا ہے کہ وہ سابق حکمرانوں کا محاسبہ کریں جن کی وجہ سے پراپرٹی ٹیکس لاگو ہوا اب یہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے پراپرٹی ٹیکس کی مخالفت کر رہے ہیں یہ جرم انہی سابقہ حکمرانوں کا ہے جنہوں نے قومی تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کے بجائے متنازعہ تعلیمی پیکیج لایا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر