مشال قتل کیس،مزید گواہوں کے بیانات قلمبند، جرح مکمل کی گئی

مشال قتل کیس،مزید گواہوں کے بیانات قلمبند، جرح مکمل کی گئی

ہری پور(آئی این پی)طالب علم مثال خان قتل کیس کی سماعت 25جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔مشال خان کے والد لندن پہنچ گے ہیں ۔ قتل کیس کی سماعت کے دوران مزید گوا یوں کے بیانات قلم بند ہو ئے ،جرح مکمل کر لی گی۔ مردان یونیورسٹی شعبہ صحافت کے طالب علم مثال کو توہین مذہب کے الزام پر قتل کر دیا گیا تھا۔ گواہوں کو طلب کرنے کے ساتھ ملز موں کے بیانات ریکارڈ کیے جار ہے ہیں سماعت دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج فضل سبحان خان کر رہے ہیں ۔سماعت کے دوران مشال خان کے والد اقبال لالہ سنٹرل جیل میں قائم ٹرائل کورٹ میں موجود نہیں تھے ان کے وکلاء سرکاری پراسیکیوٹر سمیت ملزموں کے وکلاء عدالت میں موجود تھے زرائع نے بتایا کہ والد اقبال خان لندن پہنچ چکے ہیں جہاں ملالہ یوسفزئی کے والد نے ان کا ستقبال کیا۔مشال خان قتل کیس میں نامزد 61میں سے 58ملزموں کو پولیس نے گرفتا رکر رکھا ہے جبکہ تین تاحال مفرور ہیں ۔ مثال خان کے والد نے یونیورسٹی آف لندن میں باچا خان کی تیسویں برسی پر منعقدہ تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور عدم تشدد کے فلسفہ سمیتمشال خان کے بارے میں بتا یا کہ وہ صوفی سوچ کا پرچار کرنے والے علم کتاب دوست انسان تھے، اقبال خان لالہ نے کہا کہ میرے بیٹے نے قتل سے کچھ وقت پہلے پشتو میں فیس بک سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس کا مطلب تھا تم میرے وجود کو مار سکتے ہولیکن میری فکر سوچ میرے شعور کونہیں مار سکتے ۔

مشال کیس

Ba

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر