سندھ فوڈ اتھارٹی کو جلد فعال کیا جائے گا ، نثار احمد کھوڑ

سندھ فوڈ اتھارٹی کو جلد فعال کیا جائے گا ، نثار احمد کھوڑ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر خوراک و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے سندھ میں فوڈ اتھارٹی کو جلد فعال کیا جائے گا ، جس کے بعد کھانے پینے کی اشیاء سمیت ہر چیز کے معیار کو چیک کیا جائے گا ۔فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 ء کے تحت قواعد مرتب کرنے میں تاخیر ہو گئی ہے ۔ یہ قواعد مرتب کر لیے گئے ہیں اور محکمہ قانون ان کا جائزہ لے رہا ہے ۔دودھ اور دیگر اشیاء میں ملاوٹ کے حوالے سے عدالت نے جو نوٹس لیا ہے ، وہ درست ہے ۔ عدالت نوٹس لے سکتی ہے ۔ وہ پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ خوراک سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات دے رہے تھے ۔ متعدد ارکان نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ سندھ میں اشیاء خوراک کو چیک کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے اور لوگ غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء استعمال کر رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ سندھ میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ خوراک پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے ۔ دوسرے صوبوں میں کارروائیاں ہو رہی ہیں ، سندھ میں نہیں ۔ ہم ملاوٹ شدہ چیزیں اور گدھے ، گھوڑے کھا رہے ہیں ۔ غیر معیاری اشیاء کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو ڈیڈ لائن دی جائے کہ کب فوڈ اتھارٹی فعال ہو گی ۔ نثار احمد کھوڑو کہاکہ سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 کے تحت قواعد بن گئے ہیں ۔ ان کا محکمہ قانون جائزہ لے رہا ہے ۔ قواعد کی منظوری کے بعد فوڈ اتھارٹی فعال ہو جائے گی ۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ کے معاملے پر عدالت نے نوٹس لیا ہے ۔ عدالت نوٹس لے سکتی ہے کیونکہ یہ انسانی صحت کا مسئلہ ہے ۔ چکن کے بارے میں بھی ہم کچھ سنتے ہیں تو چکن کھانا چھوڑ دیتے ہیں ۔ سندھ فوڈ اتھارٹی جلد ملاوٹ کرنے والوں اور غیر معیاری اشیاء بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے گی ۔ سینئر وزیر خوراک نے بتایا کہ کرپشن پر محکمہ خوراک کے 9 افسروں کو ملازمت سے برطرف اور 4 افسروں کو معطل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں گذشتہ دو سال کے دوران کوئی بھرتیاں نہیں ہوئی ہیں ۔ البتہ متوفی کوٹہ پر 100 بھرتیاں کی گئی ہیں ۔ محکمہ خوراک کی خالی 400 اسامیاں خالی ہیں جن کے لیے ایک لاکھ درخواستیں آئی ہیں ۔ حکومت سب کو نوکریاں نہیں دے سکتی ۔ روزگار کی فراہمی کے لیے ملک میں صنعت کاری ضروری ہے ۔ نجی شعبے کو بھی آگے آنا پڑے گا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر