جب سکھ حکمران رنجیت سنگھ کا پوری سکھ آبادی کے واحد فرمانروا بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ،اسکی راہ میں کونسی طاقت حائل تھی کہ جس نے اسے جمنااور سندھ پر بری نگاہ اٹھانے کی جرات نہ ہونے دی؟ ایسا تاریخی انکشاف جو رنجیت سنگھ کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے

جب سکھ حکمران رنجیت سنگھ کا پوری سکھ آبادی کے واحد فرمانروا بننے کا خواب ...
جب سکھ حکمران رنجیت سنگھ کا پوری سکھ آبادی کے واحد فرمانروا بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ،اسکی راہ میں کونسی طاقت حائل تھی کہ جس نے اسے جمنااور سندھ پر بری نگاہ اٹھانے کی جرات نہ ہونے دی؟ ایسا تاریخی انکشاف جو رنجیت سنگھ کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے

  

لاہور(ایس چودھری)سکھوں کی اہم شخصیت اور پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے بارے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے سارے سکھ علاقوں پر قابض ہوگیا تھا ،اس نے لاہور کو تاراج کیا ،مساجد میں گھوڑے باندھے اور پشتون علاقوں تک یلغار کرتا ہوا چلا گیا تھا ۔اس کی فتوحات کے پیچھے انگریزوں کی طاقت بھی تھی لیکن بعد ازاں اسے انگریزوں کے ہاتھوں ہی اپنے خواب ادھورے چھوڑنا پڑے اور وہ خواہش کے باوجود سکھوں کے اکثریتی علاقوں تک راجدھانی قائم نہ کرسکا تھا ۔

رنجیت سنگھ اس وقت منظر عام پر آیا جب برصغیر کے بیشتر حصوں پر انگریزی اثر و رسوخ قائم ہوچکا تھا۔اسی سال انگریز نے سلطان ٹیپو کو شہید کرکے میسور پر بھی بالادستی قائم کی ۔ دوسری طرف افغان حکومت بھی باہمی تنازعات کی وجہ سے اندرونی معاملات میں الجھی ہوئی تھی۔ مغل بادشاہ کی حالت کیلئے اتنا کہنا کافی تھا کہ ’’سلطنت شاہ عالم از دہلی تا پالم‘‘ گویا پنجاب میں کوئی بڑی طاقت سکھوں کے مقابل نہ تھی، ان حالات میں رنجیت سنگھ کی ہی آزمائش اس وقت ہوئی جب مرہٹہ سردار جسونت راو ہولکر ایک لاکھ فوج کے ہمراہ پنجاب میں داخل ہوا جبکہ لارڈلیک اس کا پیچھا کررہا تھا۔ ہولکر اکتوبر 1805ء میں امرتسر پہنچا، رنجیت سنگھ اس وقت جھنگ کے سیال سرداروں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھالیکن دونوں لشکروں کی آمد کی خبر سن کر فوراً امرتسر پہنچا جہاں ہولکر نے اس سے درخواست کی کہ متحد ہوکر غیرملکیوں کے خلاف لڑیں لیکن رنجیت سنگھ نے ہولکر کو صاف جواب دے دیا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ گویا رنجیت سنگھ اپنی فوجی قوت اور انگریز ٹیکنالوجی کا موازنہ کرچکا تھا۔ چنانچہ رنجیت نے مرہٹوں اور انگریزوں کے ساتھ عہد نامہ 1806ء کرکے نجات حاصل کی اور اپنی علاقائی مہمات میں دوبارہ مشغول ہوگیا۔

اگلے سال اس نے ستلج پار کیا اور پٹیالہ، نابھ، مالیر کوٹلہ، کیتھل، شاہ آباد، انبالہ، بوریہ اور کالسی کی ریاستوں کے خلاف کامیاب فوج کشی کی اور نذرانے وصول کئے یہ ان کا سکھ سلطنت کے قیام کی طرف اگلا مرحلہ تھا لیکن ان ریاستوں کے راجاؤں نے کانفرنس کی اور فیصلہ کیا گیا کہ رنجیت سے بچنے کے لئے انگریز کی مدد طلب کی جائے چنانچہ راجہ بھاگ سنگھ آف جند بھائی لال سنگھ آف کیتھل، سردار چرن سنگھ ، دیوان پٹیالہ اور نابھ کے دیوان غلام حسین پر مشتمل ایک وفد مارچ 1806ء میں دہلی میں بر طانوی ریذیڈنٹ مسٹر سیٹن (Mr.Seton) سے ملا اور تحفظ طلب کیا۔

ان دونوں عالمی سیاست میں فرانس اور روس متحدہوکر انگریزوں کے ہندوستانی مقبوضات پر قبضہ کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے متحدہ لشکر بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی کرلی تھی چنانچہ انگریز فوری طور پر رنجیت سنگھ سے معاملہ کرنا چاہتے تھے۔

سرچارلس مٹکاف کو نمائندہ بنا کر لاہور بھیجا گیا جبکہ رنجیت سنگھ پر دباؤ بڑھانے کے لئے سرآکٹرلونی کو فوجی دستے دے کر لدھیانہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ مسٹر مٹکاف نے بڑی دانشمندی سے اسے ستلج تک محدود رہنے کو کہا۔ یہ رنجیت سنگھ کے مشن کی ناکامی تھی کہ آدھی سکھ آبادی اس کے حلقہ اثر سے باہر رہ جاتی۔ رنجیت سنگھ کے لئے یہ بات ماننا ممکن نہ تھا لیکن انگریزوں کی خوش قسمتی سے نپولین اور زار روس کے مابین معاہدہ ختم ہوگیا اور اس کے ساتھ انگریزوں کا رنجیت سنگھ سے رویہ بھی بدل گیا اور انہوں نے زیادہ سختی سے اپنی بات کے مانے جانے پر اصرار کیا۔ یہ لمحہ رنجیت سنگھ کے لئے بڑی آزمائش کا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر انگریز جھنگ قصور یا ملتان کو تحفظ دینا چاہیں تو وہ انہیں بزور بازو نہیں روک سکتا۔ چنانچہ اسی مصلحت اندیشی کے تحت اس معاہدہ امرتسر (1809ء) تسلیم کرلیا۔ یہ رنجیت سنگھ کے نظریے، مشن اور ڈپلومیسی کی شکست تھی لیکن اسے اپنی کمزوری اور برطانوی قوت کا خوب ادراک تھا، اسی بنا پر وہ ستلج تک محدود ہوگیا اور جمنا اور سندھ کے درمیان پوری سکھ آبادی کا واحد فرمانروا بننے کا اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور رنجیت سنگھ اپنی پوری زندگی برطانوی تحفظ کے علاقوں کی طرف بری نگاہ سے دیکھ بھی نہ سکا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس