فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر338

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر338
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر338

  

ایک شخص کمرے میں بالکل تنہا لیٹا ہو‘ اس کے بازو میں خون دینے کے لیے سرنج لگی ہو۔ملنے جلنے کی اجازت نہ ہو اور نیند بھی اُڑ گئی ہو تو ذرا سوچئے کہ وہ کیا کرے گا؟ وہی جو ہم نے کیا۔

ہم نے سرہانے لگی ہوئی برقی گھنٹی کا بٹن دبایا اور فوراً ہی وہ خاتون کمرے میں پہنچ گئیں۔

’’جی؟ کیا بات ہے؟‘‘ انہوں نے خُشک لہجے میں پوچھا۔

ہم نے پوچھا ’’سسٹر۔ کیا باہر بارش ہورہی ہے؟ آندھی ہے؟‘‘

’’بالکل نہیں۔‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر337 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مگر ہمیں ایسا ہی لگ رہا ہے۔‘‘

’’یہ آپ کا احساس ہے۔ دوائیوں کے استعمال کی وجہ سے آپ کے ذہن کو ایسا محسوس ہورہا ہے۔‘‘

’’وقت کیا ہوا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

انہوں نے کلائی کی گھڑی پر نظر ڈالی اور کہا ’’تین بجے ہیں؟‘‘

’’دن کے یا رات کے؟‘‘ ہم نے پوچھا ’’ہمیں تو دن اوررات کا فرق ہی محسوس نہیں ہوتا۔ کمرے میں ہر وقت بجلی جلتی رہتی ہے۔‘‘

وہ کسی تاثر کا اظہار کیے بغیر خُشک لہجے میں بولیں ’’ٹھیک ہوجائے گا۔ اور کچھ؟‘‘

ہم نے کہا ’’دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘

’’تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘

’’جی نہیں‘‘

’’تو پھر آپ کو نیند کی گولی کھلا دیتی ہوں‘‘ وہ فوراً رُخصت ہوگئیں۔ ایک گولی اور پانی کا گلاس لے کر نمودار ہوئیں اور ہمیں گولی کھلا کر یہ جاوہ جا۔

دو دن بعد ہم پھر جاگ رہے تھے۔ انہیں بلایا تو وہ آتو گئیں مگر ناخوش نظر آرہی تھیں۔

’’جی۔ کیا بات ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’دل بہت گھبرا رہا ہے۔ آپ کچھ دیر یہاں بیٹھ کرباتیں نہیں کرسکتیں؟‘‘

انہوں نے خُشک لہجے میں فرمایا ’’یہ میری ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’مریض کا خیال رکھنا اور دل بہلانا بھی تو آپ کی ڈیوٹی ہے۔‘‘

بولیں ’’آس پاس کے سبھی کمروں کے مریضوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ آپ ایسا کیجئے کہ گھرسے ریڈیو منگا لیجئے۔ دل بہل جائے گا۔ یا پھر کہئے تو آپ کو گولی دید وں؟‘‘

’’جی نہیں۔ شکریہ‘‘ ہم نے ناراض ہوکر کہا۔

وہ جانے لگیں۔ ہم تنہا اور سیدھے لیٹے لیٹے بالکل تنگ آچکے تھے۔ ایسا بھی کیا کہ کوئی دو باتیں کرنے والا بھی نہ ہو۔

ہم نے پوچھا ’’سنئے۔ آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

انہوں نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ہمیں گھورا اور بولیں ’’اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘

’’مطلب یہ کہ آپ کا کوئی نام تو رکھا ہوگا گھر والوں نے؟‘‘

’’سوری۔ ہمیں مریضوں کو نام بتانے کی اجازت نہیں ہے۔ مگر آپ کیوں نام پوچھ رہے ہیں؟‘‘

ہم نے کہا ’’آپ نے اتنی ہمدردی اور خلوص سے ہماری دیکھ بھال کی ہے تو کیا ہم آپ کا نام بھی نہ پوچھیں۔ اپنے محسنوں کو یاد رکھنا بھی تو ضروری ہے۔‘‘

’’یہ میرا فرض ہے۔ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ہم سبھی مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر وہ رُخصت ہوگئیں۔ پلٹ کر پوچھا ’’گولی کھلا دوں؟‘‘

ہمارا بس چلتا تو اس بدمزاج لڑکی کو گولی مار دیتے مگر ایسا کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ ناچار خاموش لیٹے رہے۔

کچھ دیر بعد ہم نے دوبارہ بٹن دبایا وہ فوراً لپکی ہوئی آئیں۔

’’اب کیا بات ہے؟‘‘ انہوں نے بیزاری سے پوچھا۔

ہم نے کہا ’’یہ دیکھئے۔ شاید سرنج کی سوئی ہل گئی ہے۔ بازو میں درد ہورہا ہے اور سرنج کے آس پاس کی جگہ نیلی ہوگئی ہے۔‘‘

انہوں نے پریشانی سے ہماری کلائی کا جائزہ لیا اوہو۔ یہ تو خون ہی رک گیا ہے۔ ٹھیک کرنا پڑے گا۔‘‘

انہوں نے سرنج باہر نکالی تو خون کی پچکاری سی نکلی اور بازو والی دیوار پر خون کے چھینٹے پڑ گئے۔

’’اوہ سوری‘‘ انہوں نے فوراً خون کی روانی کو روک دیا۔ کپڑا اٹھا کر دیوار کو صاف کیا اور پھر نئے سرے سے ایک اور جگہ سوئی بھونک کر اس پر ٹیپ لگا دیا۔

’’دیکھئے۔ اب ہاتھ بالکل نہ ہلائیے اور چپ چاپ لیٹے رہئے۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’کیا بولنے سے سوئی ہل جاتی ہے؟‘‘

انہوں نے ہمیں گھورا مگر خاموش رہیں۔

ہم نے کہا ’’ڈاکٹر تو ہمیں خون دینے کا مشورہ دے رہے ہیں اور آپ ہمارا خون یوں ضائع کررہی ہیں۔ آپ کو نرسنگ کرتے ہوئے کتنا عرصہ گزرا ہے؟‘‘

کہنے لگیں ’’تیسرا سال ہے۔‘‘

’’اتنی دیر میں آپ نے سرنج لگانا بھی نہیں سیکھا‘‘ ہم نے خفگی سے کہا ’’صبح ہم ڈاکٹر ولیم سے یا آپ کی ہیڈنرس سے بات کریں گے۔‘‘

وہ ایک دم پریشان ہوگئیں ’’سوری۔ میں نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا۔‘‘

’’ایک ٹرینڈ نرس کو ایسی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ یہی تو ہم بھی کہہ رہے ہیں‘‘

وہ کچھ شرم سار سی کھڑی رہیں۔ ایک دوبار نظریں اٹھا کر ہمیں دیکھا اور خاموشی سے رُخصت ہوگئیں۔

سوئی نکالنے اور دوبارہ لگانے سے ہمیں تکلیف تو ہوتی تھی مگر اب ہم تکلیف کے عادی ہوچکے تھے۔ پچھلے دو ہفتوں میں اتنی بہت سی سوئیاں ہمارے بازوؤں میں لگائی گئی تھیں کہ ہم نے صبر کرلیا تھا اور سوئی لگنے پر اُف تک نہیں کرتے تھے۔ جن دنوں ہم بے ہوش تھے اس زمانے میں ہمارے سوتے میں نرسیں آکر تھوڑی تھوڑی دیر بعد انجکشن لگا کر چلی جاتی تھیں اورہم آنکھ کھول کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ دیکھنے والے سمجھتے تھے کہ شاید ہم بے حس ہوچکے ہیں اور ہمیں تکلیف ہی نہیں ہوتی لیکن حقیقت دراصل یہ تھی کہ ہم نے صبر کرلیا تھا کہ جو تکلیف ہونی ہے وہ تو ہونی ہی ہے‘ تو پھر بلاوجہ شور مچانے اور منہ بنانے سے فائدہ‘ خون دیتے وقت جب سوئی کا رُخ بدل جانے کی وجہ سے خون رک جاتا ہے تو وہ رگ کے بجائے کہیں اور جانے لگتا ہے اور وہ جگہ نیلی پڑ جاتی ہے۔ تکلیف اور درد بھی ہونے لگتا ہے مگر ہم اس کے بھی عادی ہوچکے تھے۔ دیکھنے والے ہماری کلائیوں اور بازوؤں کے نیل دیکھ کر پریشان ہوتے رہتے تھے مگر ہم راضی برضا خاموش رہتے تھے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر339 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ