قصور کی زینب کے قاتل جنسی درندے کو کون سی سزا دی جائے؟ عوام اور صاحب الرائے افراد اور پھانسی کے مخالفین کیا کہتے ہیں،آپ بھی جانئے

قصور کی زینب کے قاتل جنسی درندے کو کون سی سزا دی جائے؟ عوام اور صاحب الرائے ...
قصور کی زینب کے قاتل جنسی درندے کو کون سی سزا دی جائے؟ عوام اور صاحب الرائے افراد اور پھانسی کے مخالفین کیا کہتے ہیں،آپ بھی جانئے

  

لاہور (رپورٹ ،شاہدنذیر چودھری )قصور کی زینب کو اغوا کے بعد جنسی ہوس کا شکار بنا کر اسے قتل کرنے والے عمران علی کی گرفتاری سے پہلے سے ہی اس واقعہ میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی کے مطابے کئے جارہے ہیں ۔جنسی درندے پر الزام ہے کہ اس سے پہلے اس نے آٹھ بچیوں سے زیادتی کے بعد ان کو قتل کیا۔ اس وقت عام پاکستانی کے ساتھ ساتھ صاحب الرائے اور ہر مکتبہ فکرکے دانشوورں کی جانب سے سفاک ترین مجرم کو بدترین سزائیں دینے کی تجاویزدی جارہی ہیں۔گزشتہ دنوں سینٹ کی داخلہ کمیٹی نے متفقہ طور پر زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد منظور کی تھی ۔

پاکستان میں پھانسی کے مخالفین بھی اس وقوعہ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ سنگین اور بدترین سزا دے کر قوم کی بچیوں اور انکے والدین کو مزید خوف سے نکالا اور ان کا تحفظ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ممتاز دانشور اور سئینر صحافی حسن نثار زینب کے قاتل کو عبرتناک سزائے موت کے حامی ہیں۔ممتاز دفاعی تجزیہ کار شہزاد چودھری کا کہنا ہے کہ زینب کے قاتل کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے سرعام ایک سو بیس گولیاں مارنی چاہئیں۔دانشور ونقاد حفیظ اللہ نیازی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ زینب کے قاتل کو رسول کریم ﷺ کے بتائے طریقہ کے مطابق سنگسار کیا جائے اور قصور کے ہر شہری کو کہا جائے کہ وہ اس بدبخت کو پتھر مارے ،جو پتھر مارنے سے ہچکچائے اسکو مجرم کا ساتھی تصور کیا جائے ۔ کسی بدترین جرم کرنے والے کے ساتھ نرمی برتنے کا مطلب ہے آپ ایسے لوگوں کے لئے راستہ کھول رہے ہیں جو جرم سے باز نہیں آتے۔صحافی و تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ زینب کا مجرم ہو یاعاصمہ کا ،ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے اور اسکے لئے ان کے جسموں کے ٹکڑے بھی کرنا پڑیں تو گریز نہ کیا جائے۔امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ ایسے مجرم کو سات بار پھانسی دی جائے لیکن اسکے ساتھ معاشرے بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے خاتمہ کے لئے موثر ترین لائحہ عمل نافذ کیا جائے۔ 

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور