پاک امریکہ تعلقات: نئی توقعات؟

پاک امریکہ تعلقات: نئی توقعات؟

  



ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو اپنا دوست کہتے ہوئے دوبارہ ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج امریکہ اور پاکستان جتنے قریب ہیں، پہلے کبھی نہ تھے۔وزیراعظم نے امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مدد مانگی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں گے، اور اگر ہم مدد کرسکتے ہوئے تو یقینا کریں گے، ہم مسئلہ کشمیر کا انتہائی قریب سے بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا دونوں ممالک کے درمیان چند ایشوز ہیں جن پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں، بنیادی مسئلہ افغانستان ہے کیونکہ یہ امریکہ اور پاکستان دونوں کے لیے اہم ہے، دونوں ہی ممالک افغانستان کے امن میں دلچسپی رکھتے ہیں، خوش قسمتی سے افغانستان کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں، پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی پر یقین رکھتے ہیں، پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ دورہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے؟ امریکی صدر اس سوال کا جواب گول کرگئے اور کہا کہ ہم ابھی ملاقات کررہے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ بے حد دلچسپ اور طویل ہے۔ یہ تعلق بہت سے نشیب و فراز سے گزرا اور دونوں ممالک نے مل کر افغانستان میں دو جنگیں بھی لڑیں۔ دوسری جنگ کا آغاز 2001ء میں 9/11 حملوں کے بعد ہوا، یہ آج تک جاری ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھرپور انداز میں اثر انداز ہورہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس جنگ میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان سے جبراً کروایا گیا۔ 9/11 حملوں کے بعد امریکہ کی حالت زخمی بھیڑیے کی سی تھی، پاکستان میں اس وقت پرویز مشرف کی فوجی حکومت قائم تھی۔ وہ آئین کا ”قتل“ کر کے اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ امریکہ نے دھمکیوں کی بھرمار کے ساتھ افغانستان کے خلاف ساتھ دینے کا ”حکم“ جاری کیا تو فوجی ڈکٹیٹر نے کانپتی ٹانگوں کے ساتھ بنا تو تکرار کے چپ چاپ ہاں کردی۔ وقتی طور پر تو پاکستان میں ڈالروں کی ریل پیل ہوگئی، لیکن بالآخر نتیجہ وہی نکلا جس کا بہت سے پاکستانیوں کو ڈر تھا۔ طالبان، جنہیں پاکستانی اپنا اتحادی سمجھتے تھے اور تصور کیا جاتا تھا کہ وہ مغربی سرحد پر پاکستان کی انشورنس پالیسی ہیں، وہ بہت سے گروپوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان میں سے بہت سے گروپ پاکستان کو امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے اپنا دشمن اور مشکلات کی وجہ قرار دینے لگے۔ جنگ افغانستان سے پاکستان کی سرحدوں کے اندر اندر آگئی، امریکہ کو سبق سکھانا ذرا زیادہ مشکل تھا اس لیے غصہ پاکستان اور پاکستانیوں پرنکالا جانے لگا، پاکستان کے دشمنوں نے بھی جلتی پر تیل ڈالااور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ ایک طویل جنگ لڑی گئی، اس میں 60 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانیں چلی گئیں اور معیشت کو 100ارب ڈالر سے زائد نقصان سہنا پڑا۔

پاکستانی اداروں کو اندازہ تھا کہ امریکہ کے لیے افغانستان میں طویل عرصہ قیام جانی و مالی دونوں اعتبار سے کافی مہنگا ثابت ہوگا، لہٰذا پاکستان اس دوران امریکہ کی روانگی کے بعد کے حالات سے نمٹنے کی تیاری بھی کرتا رہا، طالبان کے چند گروپس سے ریاستی اداروں نے کسی نہ کسی صورت رابطے برقرار رکھے۔ امریکہ کے لیے افغانستان میں امن قائم کرنا محال ہوگیا تو قربانی کے بکرے کی تلاش کی جانے لگی۔ یہ ”بکرا“ پاکستان کی شکل میں میسر آیا اور امریکہ نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر ڈبل گیم کا الزام لگادیا، پاکستانی حکام اپنی مجبوریاں سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، کہ یہ جنگ ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی، طالبان کا نام و نشان مٹانا ممکن نہیں اور ممکن ہے اس جنگ کو سمیٹنے کے لیے کبھی نہ کبھی ان کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت آن پڑے۔ اس وقت امریکہ نے پاکستانی مؤقف تسلیم نہیں کیااور تعلقات میں بگاڑ آتا چلا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو آتے ساتھ ہی پاکستان پر 33ارب ڈالر امریکی امداد ہڑپ کرنے کا الزام لگادیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا جن دہشت گردوں کا ہم افغانستان میں پیچھا کرتے ہیں، انہیں پاکستان محفوظ پناہ گاہ دیتا ہے، تاہم تھوڑا وقت گزرا تو نئے امریکی صدر بھی افغانستان کی پیچیدگیاں بہتر انداز میں سمجھنے لگے۔ احساس ہوا کہ افغانستان میں دیر پا امن قائم کرنا ہے اور امریکی فوج کو اس دلدل سے نکالنا ہے تو یہ پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ دونوں ممالک پھر سے ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور پاکستان کے ذریعے افغان طالبان سے بات چیت شروع ہوگئی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب جلد اس حوالے سے بریک تھرو مل سکتا ہے، اسی اُمید کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم عمران خان کی ہر ادا پر فریفتہ نظر آتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے پاکستان سے موجودہ تعلقات کو انتہائی قریبی قرار دے دیا، گو اس بات میں مبالغہ سے کام لیا کہ دونوں ممالک آج جتنے قریب پہلے کبھی نہ تھے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اس حد تک اپنا مؤقف امریکہ کو سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ معاملے کا حل طالبان سے بات چیت کے بغیر ممکن نہیں، دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آچکے ہیں، یہی وہ ایک پیج ہے جس کی طرف وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں اشارہ کیا، اُمید کی جانی چاہیے کہ اس کا نتیجہ بہترہی نکلے گا۔

دوسری جانب پاکستانی حکومت کے چند حلقوں کا ماننا ہے کہ افغان مسئلے کے ممکنہ حل میں اس نئے پاکستانی کردار کا کشمیر میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ یعنی پاکستان، افغانستان سے امریکہ کی جان چھڑوانے کے بدلے اس سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کا تقاضہ کرلے۔ صحیح یا غلط، اسی اُمید پر وزیراعظم عمران خان نے دوسری مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر امریکی صدر کا جواب بھی حوصلہ افزا ہے۔ تاہم یہاں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گزشتہ برس جولائی میں بھی ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا ہی وعدہ کیا تھا تو چند روز بعد ہی بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ امریکہ نے اس حوالے سے چپ سادھے رکھی، پھر ہلکی پھلکی بیان بازی پر اکتفا کرلیا۔ پاکستانیوں کے لیے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ سے اچھے تعلقات ہمارے لیے بے حد ضروری ہیں۔موجودہ حکومت کو اس بات کا اندازہ اچھی طرح ہو گیا ہو گا کہ امریکہ سے تعلقات میں برف پگھلی تو آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں نے پاکستان کے لیے اپنے بند دروازے کھول د ئیے لیکن دوسری جانب امریکہ کو بھی اپنے مفادات ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر امریکہ سے توقعات باندھنا شاید بے وقوفی ہوگی، اصل بات تو یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنے گھر کا نظام درست کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان میں معاشی آسودگی آجائے تو بھرپور انداز میں اپنی بات کی جاسکتی ہے، ساتھ دینے کے لیے دیگر ممالک پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ بنیادی معاملہ یہ ہے کہ اپنی معیشت پر توجہ دی جائے، عالمی برادری میں اپنا وزن بڑھایا جائے تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ خود کیا جاسکے۔

مزید : رائے /اداریہ