کینسر کا علاج دریافت؟

کینسر کا علاج دریافت؟

  



معاصر کی خبر کے مطابق برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا کہ لیبارٹری میں تجربات کے دوران پر اسٹیٹ، چھاتی، پھیپھڑوں اور دیگر اقسام کے کینسر کو ختم کرنے کاطریقہ دریافت ہو گیا، خبر کے مطابق نیچر امیونولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ نیا طریقہ مریضوں پر استعمال نہیں ہوا، تاہم تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی جسم کے اندر ہی سے مدافعتی نظام کا ایک ایسا حصہ دریافت کر لیا گیا ہے جس کے متحرک کرنے سے کینسر کے جراثیم ختم ہو جاتے ہیں، تحقیق کے مطابق انسانی خون میں موجود خلیے ایسے ہیں جن کی مدد سے کینسر زدہ خلیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔کینسر موذی تر مرض ہے اور اس کا جو علاج دریافت اور جاری ہے وہ انتہائی مہنگا ہونے کے ساتھ موثر صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب کینسر کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہو جائے اور مریض بھی ذہنی طور پر مرض کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو، ورنہ دوسرے درجہ پر جانے کے بعد پھر معاملہ ہاتھ سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے اور نوبت اس حد تک آ جاتی ہے کہ مریض کو تکلیف سے بچایا جائے تاکہ جب اس کا وقت پورا ہو تو وہ ذرا آسانی سے موت کو گلے لگا سکے۔ دنیا بھر میں فارما سیوٹیکل کمپنیاں جو کینسر کی ادویات فروخت کرتی ہیں وہ اس کے علاج کے لئے ریسرچ بھی کراتی ہیں، تاہم ابھی تک ایٹمی شعاؤں اور مہنگی ترین ادویات کے سوا کوئی شافی علاج دریافت نہیں ہوا اور نہ ہی کینسر کا مرض کیا اور کیسے ہوتا ہے اس کا علم ہوا کہ کوئی ویکسین ہی ایجاد ہو جائے۔ برطانیہ کے ایک ڈاکٹر نے تو تحریری طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے صاحبزادے ڈاکٹر نے فارماسیوٹیکل کمپنی کی ریسرچ کے دوران وہ جین دریافت کر لی تھی جو کینسرکا سبب بنتی ہے لیکن وہ غیر قدرتی موت سے ہمکنار ہوا، بہرحال اس خبر کے مطابق تو یہ تحقیق کسی فارماسیوٹیکل کمپنی کی نہیں،کارڈف یونیورسٹی کے ریسرچ سنٹر کی ہے جو ابھی لیبارٹری تک محدود ہے اگر انسانوں پر تجربات کے بعد اسے کامیابی مل گئی تو یہ انسانیت پر بہت بڑا احسان ہو گا، کیونکہ علاج انسانی جسم کے اندر اور انسانی خون کے خاص خلئے متحرک کرنے میں مضمر ہے، دعا کرنا چاہیے کہ یہ تحقیق مکمل کامیابی سے ہمکنار ہو، اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے شعبہ صحت کو اس تحقیق اور تحقیق کرنے والوں کے تحفظ کا انتظام کرنا چاہیے اور برطانوی حکومت بھی خبردار رہے کہ یہ کریڈٹ اسی کو ملے گا۔

مزید : رائے /اداریہ