کیا امریکہ، ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟

کیا امریکہ، ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟
کیا امریکہ، ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟

  



آج گوگل پر ”دی ٹائمز آف اسرائیل“ کی ایک خبر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عراق میں عین الاسد نامی جو امریکی مستقر ہے اور جس پر 8جنوری کو ایران نے میزائل حملہ کیا تھا اور جس کے نتیجے میں 11امریکی سولجرز کو بغرضِ علاج معالجہ جرمنی منتقل کر دیا گیا تھا ان مجروحین کی تعداد میں کچھ اور اضافہ ہوگیا ہے۔ خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ تعداد بھی ان امریکی سولجرز کی ہے جن پر دماغی صدمے (Concussion) کا حملہ ہوا ہے۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ ان نئے بسملوں کی تعداد کتنی ہے۔

اس خبر کے بارے میں یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جھوٹ ہے یا سچ ہے کیونکہ ایک تو جس منبع (Source) سے یہ لیک آؤٹ کی گئی ہے وہ ایک اسرائیلی اخبار ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اسرائیلی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں …… امریکی زخمی سولجرز کی پہلی تعداد (11امریکی سولجرز) کیپٹن اربن (Urban) نے بتائی تھی جو سنٹرل کمانڈ کے میڈیا ترجمان ہیں۔ تاہم ”دی ٹائمز آف اسرائیل“ کی یہ خبر اس اعتبار سے قرینِ صداقت معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نئے زخمیوں کی کسی حتمی تعداد کا ذکر نہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی خبر کے مشکوک ہونے کا ایک عنصر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل شائد ایران کے اس جذبہ ء انتقام کو مدھم کرنا چاہتا ہے جو میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت پر ایرانیوں کے دل و دماغ میں جاگزیں ہو گیا ہے۔

اس اسرائیلی خبر کے علاوہ کل (21جنوری) کے ”دی نیویارک ٹائمز“ کی دو خبریں اور بھی ایران۔ امریکہ کشیدگی پر تھیں اور جو میری نظر سے گزریں۔ ایک کا عنوان تھا: ”ایک غیر مستحکم دور میں ایران سے ٹاکرا“…… یہ خبر اس اخبار کے صفحہ ء اول پر دی گئی ہے اور دوسری جو صفحہ 9پر شائع کی گئی ہے اس کا عنوان ہے: ”کیا امریکہ، ایران سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہے؟“…… یہ دونوں خبریں حجم کے اعتبار سے کافی جامع، طویل اور بسیط تھیں بالخصوص موخر الذکر خبر کہ جو ایران۔ امریکہ جنگ کی صورت میں امریکی تیاریوں کے سلسلے میں شائع کی گئی۔

میں مغربی میڈیا کے بارے میں کچھ زیادہ ہی شکی المزاج واقع ہوا ہوں۔ ایک وجہ تو اس کی یہ ہے کہ امریکہ ایک طویل عرصے سے میڈیا کو بطور ایک جنگی ہتھیار (War weapon) استعمال کر رہا ہے اور دوسرے سارا امریکی میڈیا صہیونی گرفت میں ہے۔……(صہیونی ]Zionist[ اور یہودی ]Jew[ میں فرق یہ ہے کہ ہر یہودی، صہیونی ہوتا ہے، ہر صہیونی یہودی نہیں ہوتا)…… دوسرے بڑے بڑے امریکی اخباروں کی طرح ”دی نیویارک ٹائمز“ کا پورا عملہ، بمعہ مالکِ اخبار، یہودی ہے۔ علاوہ ازیں یہ اخبار ڈیمو کریٹک پارٹی کا اخبار سمجھا جاتا ہے اس لئے اس میں جنوری 2017ء سے اب تک صدر ٹرمپ پر خوب تنقید بلکہ لعن طعن کی جا رہی ہے۔صدر کی ری پبلکن پارٹی کو خاص طور پر ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ میں ایک عرصے سے یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ اس روزنامے کے صفحہ اول پر ایک تو ری پبلکن صدور پر سبّ وشتم کی بوچھاڑ ہوتی ہے اور دوسرے چین کی ہمہ جہتی مذمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا…… اس تفصیل کے لئے کئی کالم درکار ہوں گے…… لیکن قصہ مختصر یہ ہے کہ چین دونوں مین سٹریم پارٹیوں (ڈیموکریٹک اور ری پبلکن) کی نگاہوں کا خار ہے۔

میں اس خبر کی تفصیل پڑھ رہا تھا کہ جس میں اس نکتے پر بحث کی گئی تھی کہ آیا امریکہ، ایران پر حملہ کرنے کے لئے تیار بھی ہے یا نہیں؟ یہ آرٹیکل جن تین امریکی صحافیوں نے لکھا ہے انہوں نے آخر میں نتیجہ نکالا ہے کہ امریکہ، فی الحال عسکری نقطہ ء نظر سے ایران پر حملہ کرنے کے قابل نہیں۔ اس کے لئے مضمون نگاروں نے امریکی بحریہ اور میرین کی کئی ایسی پروفیشنل کمزوریوں اور خامیوں کا حوالہ دیا ہے جو ماضی ء قریب میں اظہر من الشمس ہو کر سامنے آچکی ہیں۔ ان ماہرین کا تجزیہ ہے کہ ایران پر یلغار لانچ کرنے کے لئے امریکن نیوی اور میرین سے کام لینے کی ضرورت ہو گی، لیکن یہ دونوں فورسز اس یلغاری وار (Offensive) کے قابل نہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لے کر اب تک امریکہ کا عسکری فوکس، ائر فورس پر رہا ہے، گراؤنڈ اور نیول فورسز پر نہیں اور چونکہ ایران پر حملے کے لئے ائر فورس سے زیادہ نیول فورس (بمعہ میرین) درکار ہو گی اس لئے اس کا کیل کانٹے سے لیس ہونا اولین شرط ہے۔ (میرین ایسی فورس کو کہاجاتا ہے جو بحری جہازوں پر سوار ہو کر دشمن ملک کے ساحلوں پر اترتی ہے اور اترنے کے بعد بطور انفنٹری آپریٹ کرتی ہے۔ اس لئے میرین کو بحری انفنٹری بھی کہا جاتا ہے)

امریکی کانگریس کے ایک ذیلی ادارے کا نام The Government Accountability Office ہے جو بحریہ کی کمزوریوں کی طرف ایڈمنسٹریشن اور پینٹاگون (وزارت دفاع) کو خبردار کرتا رہتا ہے۔ لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس آفس نے 2016ء کی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکی شپ یارڈوں میں 75فیصد مرمت طلب بحری جہازوں اور دوسرے تکنیکی متعلقہ پراجیکٹوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس لئے بحریہ کو ایک بڑے اوورآل دیکھ بھال (Maintenance) کی ضرورت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس تغافل کے سبب 2017ء کے موسم گرما میں بحریہ کے دو تباہ کن جنگی بحری جہاز (Destroyers) دو سویلین کمرشل بحری جہازوں سے ٹکرا گئے تھے جس کے سبب 12سیلرز ہلاک ہو گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ گزشتہ 50برسوں میں امریکی بحریہ کا یہ بدترین حادثہ شمار کیا جاتا ہے۔ ان دو تباہ کن جہازوں کے نام فٹزجیرالڈ اور جان میکین تھے جو ساتویں بحری بیڑے کا حصہ تھے۔ تب یہ بحری بیڑا جاپان میں کسی بحری مستقر میں مقیم تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس حادثے کی وجہ یہ تھی کہ ان جہازوں کا عملہ مطلوبہ معیار کی پروفیشنل ٹریننگ سے عاری تھا۔ مزید برآں دونوں تباہ کن جہازوں پر نہ تو عملے کی تعداد پوری تھی اور نہ ان کا نیوگیشن سسٹم اچھی طرح کام کر رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان دونوں بحری جنگی جہازوں کو عسکری مشنوں (Duties) کی بجا آوری سے الگ کر دیا گیا۔

چونکہ عملے کی نفری کم تھی اس لئے باقی کم نفری کو وہ تمام ایکسرسائزیں اور ٹاسک مکمل کرنے پڑے جو ان کے بس کا روگ نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پیشہ ورانہ تھکان (Professional Fatigue) کا شکار ہو گئے اور یہی تھکان ان دونوں حادثوں کا سبب بنی۔ اس آرٹیکل میں اور تفاصیل بھی دی گئی تھیں جن کو اس لئے حذف کرتا ہوں کہ اردو زبان کے بیشتر قارئین کو بحری اصطلاحوں اور Drillsکی زیادہ خبر نہیں۔ ان جہازوں کے کمانڈنگ آفیسرز (Captains) نے حکام بالا کو بارہا تحریری درخواستیں اور شکائتیں کیں کہ ان کی عرضداشتوں پر زیادہ کان نہیں دھرا جاتا۔ ان درخواستوں میں یہ بھی درج تھا کہ ان کا ماتحت عملہ اپنے افسروں کی پروفیشنل استعداد کا بھی بڑا ناقد ہے۔ اس عملے کا کہنا ہے کہ اگر اس کی جائز باتیں نہیں سنی جاتیں تو پھر اس سروس (بحریہ) میں رہنے کا کیا فائدہ ہے؟…… قارئین کو یاد ہو گا کہ یہ ساتواں امریکی بحری بیڑا وہی ہے جس کی آمد آمد کا شور 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں سنا گیا تھا…… لیکن پھر کچھ بھی نہ ہوا…… اب اس ساتویں بیڑے کے سینئر آفیسرز کھل کر سامنے آ رہے ہیں کہ وہ کن افرادی، تکنیکی اور تربیتی قلتوں اور کمزوریوں کا شکار ہیں۔

قارئین کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ابھی تین برس پہلے (2016ء میں) خلیج فارس میں سپاہ پاسداران کی بحریہ نے دو امریکن گن بوٹس کے عملے کو گرفتار کر لیا تھا۔ جس ایرانی فورس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا وہ مرحوم جنرل قاسم سلیمانی کے انڈر کمانڈ تھی۔ ان امریکی گرفتار شدگان کے پاس نہ تو مطلوبہ ساز وسامان موجود تھا اور نہ ان کی ٹریننگ مطلوبہ مشن کے مطابق کی گئی تھی۔ یہ گن بوٹس جزیرہ فارس میں ایک ایرانی بحری اڈے کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہی تھی کہ خود سپاہ پاسداران کی بحریہ کے گھیرے میں آ گئی۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں امریکہ کے لئے بڑی شرمساری کا باعث بنا۔

ہمیں معلوم ہے کہ دنیا کا کم از کم 28، 30فیصد بحری ٹریفک جو خلیج فارس سے تیل کے ٹینکرز لے کر جاتا ہے وہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ایران نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو وہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ (پاکستان بھی اس کا شکار ہو گا)۔ ایرانی بحریہ کے پاس اس آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لئے بارودی سرنگیں بچھانے کی جو اہلیت اس وقت موجود ہے اس کے مقابلے میں سرنگیں ہٹانے کی امریکی اہلیت بہت ناکافی ہے۔ بارودی سرنگیں صاف کرنے کے جہاز (Mine Sweepers) بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ شپ یارڈز میں مرمت کے لئے گئے ہوئے ہیں اور عرصہ ء دراز سے وہیں کھڑے ہیں۔

ایک اور پہلو جو امریکہ کو ایران پر کھلے حملے سے باز رکھ رہا ہے وہ ناٹو فورسز کی نارضامندی ہے۔ امریکی اتحادیوں (NATO) نے گزشتہ برسوں میں افغانستان میں جا کر دیکھ لیا تھا کہ افغان طالبان آسانی سے ہار ماننے والی نسل نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کئی ماہ تک افغانستان میں قیام کرکے اور اپنا جانی نقصان کروا کر واپس لوٹ گئے تھے۔ ناٹو کے یہ ممالک اب ایران کے خلاف آپریٹ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ٹرمپ نے ایران سے 2015ء کا جوہری معاہدہ ختم کرنے کی جو غلطی کی تھی اسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی ابھی تک ’بلنڈر‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اور امریکہ کا ٹریک ریکارڈ یہ بھی ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے، اکیلا نہیں جاتا، اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر جنگ میں کودتا ہے۔ لیکن عراق، شام اور یمن میں اس نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ ان ممالک میں ایران، پراکسی جنگوں کا ایک وسیع تجربہ رکھتا ہے۔

”دی نیویارک ٹائمز“ کے اس آرٹیکل کا اختتامی نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ امریکہ فی الحال ایران سے جنگ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا…… اللہ اللہ خیرسلا……

مزید : رائے /کالم