پنجاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

پنجاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
پنجاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

  



پنجاب آج کل سیاست کی رزم گاہ تو ہے ہی، تاہم تجربہ گاہ بھی بنا ہوا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنانے کا جو تجربہ کیا، وہ ابھی تک ایک تجربہ ہی چلا آ رہا ہے، حالانکہ ڈیڑھ سال بعد تو لوگوں کو یقین ہو جانا چاہئے کہ پنجاب کے حاکم عثمان بزدار ہی ہیں۔ کچھ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ برقرار رہنے کی سب سے زیادہ دعائیں پنجاب میں تعینات بیورو کریٹس مانگ رہے ہیں۔ انہیں شہباز شریف کی دس سالہ سخت گیر حکمرانی کے بعد عثمان بزدار کی شکل میں ایک ایسا حاکمِ اعلیٰ ملا ہے جو ان کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں۔

اب تو کپتان نے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو مکمل اختیارات کے ساتھ پنجاب میں تعینات کر دیا ہے۔ اس وقت صوبے میں چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں کہ پنجاب کے اصل وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہیں یا عظیم سلمان؟ …… حکم تو چیف سیکرٹری کا چل رہا ہے، البتہ اس پر ٹھپہ عثمان بزدار لگا دیتے ہیں۔ واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ 22 ارکان اسمبلی نے جو فارورڈ بلاک بنایا ہے، وہ عثمان بزدار کے خلاف نہیں، بلکہ اس بیورو کریٹ تسلط کے خلاف ہے جو پنجاب میں قائم ہو چکا ہے اور جس میں وزراء، ارکانِ اسمبلی، حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ بھی بے اختیار ہو کر رہ گئے ہیں …… اگر اس فارورڈ بلاک کے مطالبات پر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ عثمان بزدار کو ہٹانے کے حق میں نہیں، البتہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے حلقوں کے لئے ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے اور بیورو کریسی اور پولیس ان کی بات نہیں سنتی۔ کپتان پنجاب کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں، اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ وہ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بھی اسی لئے لائے تھے کہ ان کے پردے میں پنجاب کو اسلام آباد سے چلایا جاتا رہے گا۔

مگر یہ تجربہ شروع دن سے ناکام نظر آ رہا ہے، بات بن نہیں رہی، اُلٹا تحریک انصاف کا سیاسی امیج برباد ہو رہا ہے۔ حالت زیادہ خراب ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے صوبے کو چلانے کی بجائے اپنے بھروسے کے چیف سیکرٹری کے ذریعے حکمرانی کرنے کی ٹھان لی، گویا اس طرح وہ ایک نیا محاذ کھول بیٹھے۔ اب چیف سیکرٹری کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو،وہ سیاسی جوڑ توڑ تو نہیں کر سکتا، کرے گا تو مزید مسائل پیدا ہوں گے۔

اس تجربے کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں کہ پنجاب میں بغاوت کی سی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ بغاوت عثمان بزدار کے خلاف نہیں، بلکہ اس تجربے کے خلاف ہے، جو اسلام آباد سے پنجاب پر مسلط کیا گیا ہے…… اگر پاکستان میں کوئی سمجھتا ہے کہ وہ بیورو کریٹس کے ذریعے اچھی حکمرانی دے سکتا ہے، تو اس سے زیادہ خوش فہم کوئی اورنہیں۔ ہمارے ہاں سارا بگاڑ ہی بیورو کریسی کا پیدا کردہ ہے۔ انہیں عوامی زبان میں ایسے ہی کاٹھے انگریز نہیں کہا جاتا۔ ان کا کام حکمرانی کرنا ہے اور انہوں نے ایک دن بھی قائد اعظمؒ کا وہ فرمان پلے نہیں باندھا کہ سرکاری ملازم عوام کے خادم ہیں۔ انہیں تربیت ہی عوام پر حکمرانی کی دی گئی ہے، اس لئے اگر کوئی یہ تجربہ کرے کہ عوامی نمائندوں کو بے بس اور بے اختیار کر کے وہ اچھی حکمرانی قائم کر سکتا ہے تو یہ بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ پنجاب جیسے صوبے کا حاکم ایک نئے اور نا تجربہ کار شخص کو بنا کر معجزے کا انتظار تو کیا جا سکتا ہے،مگر معجزہ رونما کبھی نہیں ہو سکتا۔

صرف یہی نہیں کہ ایک شخص کو اگر بے اختیار بھی رکھا جائے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بھی اپنے آقا کی طرف دیکھے تو نظام کیسے چل سکتا ہے؟ عثمان بزدار میں بڑی صلاحیتیں ہوں گی، وہ وسیم اکرم پلس بھی ہوں گے، مگر بات یہ ہے کہ آپ ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر کیسے اعلیٰ پرفارمنس کی توقع کر سکتے ہیں؟ جب صوبے کو وفاق چلائے گا تو وزیر اعلیٰ کا کردار سوائے ایک ڈاکئے کے کیا رہ جائے گا؟ جب سے پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے، ارکان اسمبلی ذلیل و خوار ہو گئے ہیں۔ ان کی کوئی سنتا ہی نہیں،اسی وجہ سے وہ اپنے حلقے کے عوام کو ملتے نہیں،جبکہ سارا نزلہ عثمان بزدار پر گرایا جاتا رہا ہے کہ وہ ارکان اسمبلی کو وقت نہیں دیتے، حالانکہ اندر کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی بے اختیاری کے باعث ارکان اسمبلی سے دور رہتے ہیں، کیونکہ ان کے مطالبات پورے کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ نہ کسی افسر کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی فنڈز جاری کر سکتے ہیں۔ یہ 22 ارکان اسمبلی در حقیقت اس صورت حال میں پھٹنے والا ایک لاوا ہے۔ اس کا واضح پیغام صرف وزیر اعظم عمران خان کے لئے ہے، عثمان بزدار نہ اس کا ہدف ہیں اور نہ ہی ان کی تبدیلی اس فارورڈ بلاک کا مقصد ہے۔

کیا وزیر اعظم عمران خان یا ان کی طرف سے قائم کیا گیا مانیٹرنگ نظام اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ پنجاب میں نئے چیف سیکرٹری یا آئی جی کی تعیناتی کے بعد حالات میں کتنی تبدیلی آئی، گڈ گورننس کتنی بہتر ہوئی؟…… یہ آٹے کا بحران ہی اس کا جواب دینے کے لئے کافی ہے کہ سب سے بڑے زرعی صوبے میں لوگ آٹے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پورا زور لگانے کے باوجود بیورو کریسی آٹے کی سپلائی کو بحال نہیں کرا سکی۔ اُدھر پولیس کی کارکردگی دیکھیں تو اس کا حال جوں کا توں ہے۔

آج بھی قبضہ کرانے کے لئے اس کا استعمال جاری ہے، پنڈی میں مندرہ کا واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ وارداتیں ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں، خود صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن وامان کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ خانیوال میں ایک ایس ایچ او گھر میں گھس کر لڑکی کو ماں کے سامنے برہنہ ڈانس پر مجبور کرتا ہے، اسے کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ ڈکیتی، قتل و غارت گری، اغواء اور دیگر جرائم میں کیا کمی آئی ہے؟ کوئی اس کے اعداد و شمار بھی جاری کرے۔ پہلے تو کہا جاتا تھا کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے پولیس خراب ہو گئی ہے، اب تو ارکان اسمبلی یہ دہائی دے رہے ہیں کہ پولیس والے ان کی بات ہی نہیں سنتے، پھر بھی یہ بری حالت کس وجہ سے ہے؟ بدقسمتی سے حکمرانی کوئی اور کر رہا ہے اور سارا الزام عثمان بزدار پر آتا ہے۔ کسی دن ایسا نہ ہو کہ وہ پھٹ پڑیں اور پریس کانفرنس میں یہ اعلان کریں کہ مَیں بے قصور ہوں، میرے پاس تو اختیارات ہی نہیں، سب کچھ تو چیف سیکرٹری اور آئی جی کے ہاتھوں میں ہے، مجھے تو صرف شو پیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ ایسا ہی مشورہ وفاقی وزیر فواد چودھری وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو دے چکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کی طرف سے گھر بھیجنے کا انتظار کئے بغیر خود ہی گھر چلے جائیں تاکہ سارا جھگڑا ہی ختم ہو جائے……شاید یہی وہ صورت حال ہے جس میں کئی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ یہ افواہ تو بہت ہی گرم ہے کہ چودھری پرویز الٰہی آئندہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہو سکتے ہیں۔

مَیں ذاتی طور پر اسے سب سے زیادہ نامعتبر افواہ سمجھتا ہوں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پنجاب میں ایک مضبوط وزیر اعلیٰ نہیں چاہتے، یہ تو بالکل ہی نہیں چاہتے کہ وہ ہو بھی کسی دوسری سیاسی جماعت سے۔ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان پنجاب سے دستبردار ہو جائیں جو ظاہر ہے نا ممکن سی بات ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو وفاقی کابینہ میں لینے سے انکار دیا تھا، ذرائع اس کی وجہ یہی بتاتے ہیں کہ مونس الٰہی کے بارے میں ان کی رائے مثبت نہیں اور انہیں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ من مانی کرنے کے عادی ہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لانے کی کوشش کرے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ چودھری پرویز الٰہی صرف وزارت اعلیٰ کے لئے اس کے ساتھ مل جائیں۔ اس سے انہیں بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ق) یہ کہہ چکی ہے کہ تحریک انصاف سے اتحاد ہم نہیں، صرف عمران خان ہی ختم کر سکتے ہیں، جو ظاہر ہے نہیں کریں گے۔ اب یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف کے 22 ارکان اسمبلی کے فارورڈ بلاک کو مسلم لیگ (ن) اپنے ساتھ ملا کر پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لا سکتی ہے، کیا حمزہ شہباز شریف کے بارے میں جو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اس کا کوئی امکان موجود ہے؟ بظاہر تو سب کچھ ممکن ہے، کیونکہ نمبر گیم میں بہت تھوڑا فرق ہے، تاہم فی الوقت ایسے حالات نہیں کہ شریف خاندان کو اقتدار مل سکے۔ یہ خبریں پہلے سے گردش کر رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ایک فارورڈ بلاک بن چکا ہے، جس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر کے اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا ہے، اس لئے پنجاب میں سیاسی صورت حال خاصی پیچیدہ ہے، تاہم ایک چیز واضح ہے کہ پنجاب ایک اچھی حکومت سے محروم ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس پہلو پر سنجیدہ توجہ نہیں دے رہے۔

مزید : رائے /کالم