آٹا، چینی، قلت اور مہنگائی، کیوں؟

آٹا، چینی، قلت اور مہنگائی، کیوں؟
آٹا، چینی، قلت اور مہنگائی، کیوں؟

  



وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب میں آٹے کی قلت نہیں،حکومت نرخوں میں اضافہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی،وزیراعلیٰ کا یہ انتباہ اپنی جگہ درست،لیکن بازار کی صورتِ حال مختلف ہے،جہاں تک ہمارے اس زندہ دِلوں کے شہر کا سوال ہے تو یہاں جن پوائنٹس پر ٹرک کھڑے ہیں۔ان پر نرخ بھی سرکاری ہیں، بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں پر بھی آٹا دستیاب ہے تو نرخ مقررہ پر مل جاتا ہے۔اگرچہ ان سٹوروں سے صرف آٹا نہیں خریدا جا سکتا، جو سفید پوش گراسری خریدتے ہیں ان کو دستیاب ہے تاہم ان حضرات کی اکثریت چکی آٹا خریدنا مفید جانتی ہے اور یہ آٹا کسی سرکاری نرخ پر دستیاب نہیں ہے۔

اس پانچ کلو والے آٹے کے نرخ270 روپے تھے جو اب 350 روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں،جبکہ عام چکی والوں نے جو کھلا آٹا فروخت کرتے ہیں،اب دو روپے فی کلو کم کر کے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی اور آٹا 76 سے78 روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں اور ان کے خریدار زیادہ تر دیہاڑی دار ہیں، جو ایک کلو سے دو یا تین کلو آٹا خرید کر ضرورت پوری کرتے ہیں کہ رولر فلور ملز والوں کا آٹا دس کلو سے چھوٹے تھیلے میں دستیاب نہیں ہے۔یہ دس اور بیس کلو والا ہی ہوتا ہے۔یوں تاحال کسی صارف کو سرکاری کوشش اور ہمت کا وہ فائدہ نہیں ہوا،جو حکومت کی پالیسی کے مطابق ہونا چاہئے۔

آٹے کی قلت اور مہنگائی کے دوران دو اور واقعات بھی ہو گئے،ایک تو یہ کہ چینی مافیا نے پھر سے اپنی تجوریاں بھرنا شروع کر دیں، جو چینی پچپن روپے فی کلو سے بڑھاتے بڑھاتے75روپے فی کلو کر دی گئی تھی، اس کے نرخوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا،اب یہ 80سے82 روپے فی کلو بک رہی ہے اور دیہات قصبات میں قلت پیدا کر دی گئی ہے،اس کا واضح مقصد بلیک مارکیٹنگ ہے۔ حکومت اس کا کوئی سدباب نہیں کر سکی کہ یہاں ”پَر“ جلتے ہیں اور جہاں سے یہ سینک آتا ہے،اس ”آگ“ کی وجہ سے مخالف بھی مستفید ہو رہے ہیں کہ شریفوں اور زرداریوں کی بھی شوگر ملیں ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس میں سے ایک مل پر پیارے دوست ”مرزا“ نے بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ بہرحال صارفین کی حالت خراب ہے اور وہ طفل تسلیوں سے مطمئن نہیں ہو سکتے کہ ان کی جیب ہلکی سے ہلکی تر ہو چکی اور سارے بجٹ خراب ہو گئے کہ چینی، آٹے کی قلت اور مہنگا ہونے کی وجہ سے ڈبل روٹی، بن سے بسکٹ اور مٹھائیاں تک مہنگی ہو گئی ہیں،رہتی سہتی کسر ہمارے میڈیا والے بھائیوں نے بھی پوری کی ہے،جنہوں نے مٹھائیوں کے نرخ اپنی مرضی سے بڑھا دیئے اور دکانوں سے معلوم ہی نہیں کِیا،دوسرا واقعہ دلچسپ ہے کہ دیکھا دیکھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور والوں نے بھی ایسوسی ایشن بنا کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی اور پیر کو اعلان کیا کہ منگل سے ہڑتال کر دی جائے گی۔ ان کا موقف یہ ہے کہ وہ سودا بازار سے خرید کر بیچتے ہیں۔اگر مارکیٹ مہنگی ہو گی تو ان کو بھی یہ اشیاء مہنگی ملیں گی،اِس لئے وہ مجبوراً قیمت زیادہ لیتے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کی جائے۔

ان مالکان کے مطابق وہ آٹا سے لے کر گراسری کی ہر آئٹم براہِ راست مل مالکان اور کمپنیوں سے خریدتے ہیں، یا پھر ٹھیکیدار مہیا کرتے ہیں۔یوں ان کے پاس پیک اشیاء کمپنی یا ملوں کے نرخ والی ہوتی اور خالص بکتی ہیں اگر لیور برادرز یا پنجاب رولر ملز اپنی اشیاء ضرورت اور خوردنی کے نرخ بڑھاتی ہیں تو لامحالہ ان سٹوروں پر بھی نرخ بڑھ جائیں گے۔یوں یہ ممکن نہیں کہ بازار سے زیادہ قیمت پر خرید کر سٹور پر سستے داموں بیچا جائے، لہٰذا ہڑتال کی جائے گی۔ یہ ہڑتال تو ممکن نہ ہو سکی،غالباً یہ ایسوسی ایشن کسی جنرل کونسل کے بغیر بنائی گئی تھی تاہم ان کا استدلال قابل ِ فکر اور غور ہے۔

ہمارے نزدیک یہ بات درست ہے کہ بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں پر بند اور پیک اشیاء براہِ راست مینو فیکچرز اور ٹھیکیداروں سے آتی اور ان کے خالص ہونے کا بھی یقین ہوتا ہے،جبکہ نرخ ان اشیاء کی پیکنگ پر درج ہوتے ہیں،اسی لئے سفید پوش حضرات ایسے سٹوروں سے گراسری خریدنا پسند کرتے ہیں۔اگر ان کو بھی شکایت ہو اور یہ بھی ہڑتال پر غور کریں تو حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک مثال یہ بھی ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے بکرے کے گوشت کی قیمت فروخت 900روپے فی کلو مقرر ہے،لیکن بازار میں کسی بھی دکان یا بڑے سٹور سے ان نرخوں پر گوشت نہیں ملتا۔بازار میں 1100روپے فی کلو بک رہا ہے تو بڑے سٹوروں میں بکرے کے الگ الگ حصوں کے الگ الگ نرخ ہیں،جو 1300 روپے فی کلو تک بھی ہیں،جب پرچون والے سے پوچھا تو اس کا موقف واضح ہے،اس کے مطابق وہ گوشت بکر منڈی سے لاتا ہے۔اگر انتظامیہ نے بازار میں یہ گوشت 900روپے فی کلو بکوانا ہے تو دکانداروں کو بکر منڈی سے تھوک میں بکرا 800 روپے فی کلو کے حساب سے ملنا چاہئے کہ وہ کرایہ بھاڑا اور دکان کا خرچہ اٹھا کر ہی بچوں کے لئے رزق حاصل کر سکتے ہیں،ان کے اس موقف میں وزن ہے،آج تک انتظامیہ والوں نے تھوک بیوپاریوں، منڈیوں اور مارکیٹوں سے پرچون تک اور پیداواری مراکز سے منڈیوں تک کے درمیان اعداد و شمار اکٹھے کئے،ان کا تجزیہ کیا اور نہ اس کے مطابق نرخ مقرر کئے ہیں۔ہر ضلعی انتظامیہ اپنے مطابق ہی کارروائی کرتی ہے، حالانکہ ضروری امر یہ ہے کہ پیداوار، کھپت، آمدورفت اور استطاعت سب کا تخمینہ لگا کر یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کس جگہ کتنی ضرورت ہے اور یہاں سپلائی کہاں سے آتی ہے تاکہ اس کے مطابق اشیاء کی فراہمی ضروری بنائی جائے۔

قیمتوں کے کنٹرول کے حوالے سے ہم یہاں اپنا پرانا تجربہ عرض کر دیتے ہیں،جس سے بخوبی اندازہ ہو گا کہ تدبیر الٹی ہو تو کام سیدھا نہیں ہو سکتا۔ یہ اغلباً1966ء کا زمانہ تھا، لاہور میں دو انتظامی افسر بہت مقبول و مشہور تھے۔محترم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لودھی صاحب اور سٹی مجسٹریٹ ناصر علی شاہ (مرحومین) اس زمانے ہی میں مہنگائی کا شور ہوا۔ گوشت، چینی،آٹے کا مسئلہ پیدا ہو گیا، تو سٹی مجسٹریٹ کی سربراہی میں پرائس کنٹرول کمیٹی بنائی گئی۔اس میں معززین شہر کی نمائندگی کے علاوہ بکر منڈی،میوہ+ سبزی منڈی (مرکزی) اور اکبری منڈی کے علاوہ کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی تھے، ضلعی انتظامیہ نے اخبار نویسوں کو بھی نمائندگی دی،ہم اور مرحوم احمد مظہر خان بھی شامل کئے گئے۔یہ کمیٹی اپنے بھرپور اجلاس میں ضرورت اور درآمد کا مکمل حساب لگاتی، پھر تھوک منڈی اور پرچون کے تناسب کے حوالے سے نرخ مقرر ہوتے، تھوک فروش اور پرچون والوں کی آپس میں خصوصی بات ہوتی اور صارفین کا موقف معززین پیش کرتے،اس کے بعد متفقہ نرخ مقرر ہوتے جو تھوک اور پرچون کے الگ الگ طے کئے جاتے اور اس میں معمولی سا فرق اتار چڑھاؤ کے حوالے سے بھی رکھا جاتا، یہ اجلاس ہفتے میں ایک روز ہوتا اور پھر حالات کا جائزہ لے کر نئے فیصلے بھی کئے جاتے۔یوں مسئلہ قریباً حل ہوا اور شکایات میں بہت کمی ہو گئی۔جب کبھی کسی تھوک یا پرچون والے کی پکڑ ہوتی تو معاملہ اس کمیٹی میں ہی طے ہوتا،اب جو شکایت پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ پوش علاقوں میں نرخ زیادہ لئے جاتے اور گاہک خوشی سے دے جاتے ہیں،بکرے کے گوشت والی دکانوں کی شکایت زیادہ آتی تھی، جب سید ناصر علی شاہ کسی مجسٹریٹ کو پڑتال کے لئے بھیجتے تو گلبرگ مین مارکیٹ والے گاہکوں سے گواہی دِلاتے کہ نرخ مقررہ وصول کئے جاتے ہیں،اس پر سید ناصر علی شاہ نے غور کیا اور ایک نیا طریقہ نکالا، جن دکانداروں کی شکایت ملتی ان کی دکان پر خود چھاپہ مارتے اور نرخ کا معاملہ نہ بنتا تو صفائی اور تجاوزات کے حوالے سے چالان کر کے جرمانہ کر دیتے۔ یوں اس کمیٹی نے 90سے95فیصد تک حالات پر قابو پا لیا تھا،لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے کہ فلور ملز والوں نے خود آٹے کے نرخ بڑھائے، خصوصاً چکی آٹا کے نام پر پانچ کلو والے تھیلے کے نرخ مسلسل بڑھاتے چلے گئے، کسی نے نہ پوچھا کہ ایسا کیوں، کیونکہ کہا یہ جاتا کہ یہ گندم بازار سے خریدی گئی تھی، ان کی پیروی میں چکی مالکان بھی نرخ بڑھاتے چلے گئے۔ فلور ملز کا چکی آٹا،270 روپے(پانچ کلو) سے بڑھ کر 230 روپے تک ہوا،چکی والوں نے 50روپے سے نرخ بڑھاتے بڑھاتے64روپے فی کلو کر دیئے اور گزشتہ دس دن میں یہ نرخ250 روپے اور 70روپے فی کلو کر دیئے گئے،یہ سب خود مل والوں نے کیا اور اب چینی کے نرخ بھی مل مالکان ہی کی طرف سے بڑھائے گئے ہیں اور یہ کون ہیں، کوئی راز والی بات نہیں، سب کو معلوم ہے۔ ان حالات میں بحران پر قابو تب تک نہیں پایا جا سکتا جب تک مل مالکان دیانتداری سے حالات ٹھیک نہ کرنا چاہیں،باقی سب عذر ہیں اور الزام لگتے ہیں تو وہ درست بھی ہوتے ہیں،اِس لئے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم اور کابیناؤں کو حالات کی گہرائی تک تجزیہ کر کے سب سٹیک ہولڈروں کو آن بورڈ لینا ہو گا اور سب کو ایک آنکھ سے دیکھنا ہو گا۔

مزید : رائے /کالم