تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے جامعات اور کالجوں کی مدد کریں گے،یاسر ہمایوں

تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے جامعات اور کالجوں کی مدد کریں گے،یاسر ہمایوں

  



لاہور(پ ر)یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پی ایچ ای سی کے باہمی اشتراک سے سٹیک ہولڈرز کانفرنس، صوبائی وزیربرائے ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفرازنے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ آڈیٹوریم کمپلیکس میں منعقدہ اس کانفرنس کی سربراہی چیئرمین پی ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے کی۔وائس چانسلریو ای ٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹرسید منصور سرورنے مہمانان کا استقبال کیا۔کانفرنس میں پنجاب کی26پبلک سیکٹر جامعات کے وائس چانسلرزاور تقریبا 773پرنسپلز نے شرکت کی۔اس کانفرنس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے معیار،موثرحکمت عملی،کو آرڈینیشن اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق حکومتی پالیسیوں سے متعلق امور پر تعمیری آراء حاصل کرنا تھا۔ڈاکٹرفضل احمد خالد نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کانفرنس کا مقصد آپ کو ان تمام مسائل سے آگاہ کرنا ہے جن کاپی ایچ ای سی کو سامنا ہے اور آپ کی رائے کے بغیر ان مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ہم نے آج تمام وائس چانسلرز اور پرنسپلز کو اس لئے مدعو کیا ہے کہ کمیونٹی کالجز اور کانسٹیٹوینٹ کالجز کے سٹیٹس پر بات چیت کر کے اس حوالے سے گذشتہ چند روز سے پھیلائی جانے والی خبروں کی تصیح کرنا ہے۔اس موقع پر راجہ یاسرہمایوں سرفراز نے تمام وائس چانسلرز اور پرنسپلز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔اس سلسلے میں تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کو جو بھی مدد درکار ہو گی ہم انکی مدد کریں گے۔کالجز ڈسٹرکٹس کو نہیں دئیے جا رہے نا ہی انکا سٹرکچر تبدیل ہو گااس قسم کی کوئی تبدیلی نہیں لائی جا رہی۔بی ایس یا بی اے کے وہ 4سالہ پروگرام جو صرف 38کالجز میں پڑھائے جا رہے تھے اب 74کالجز میں پڑھائے جائیں گے۔ہائیر ایجوکیشن حاصل کرنے کا پہلا مقصد علم حاصل کرنا اور اسکے بعد ملازمت حاصل کرنا ہے۔لیکن موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ہمارے زیادہ تر گریجوایٹس کو دنیا میں پذیرائی نہیں ملتی خصوصا ہمارے ایسے کالجز سے پاس طلباء جو کسی بہت ہی معروف ادارے سے فارغ التحصیل نہیں ہوتے انکو خاطرمیں نہیں لایا جاتا۔لہذا ہمیں اس نظام کو بہتر کرنا ہے تاکہ بڑی تعداد میں اعلیٰ کوالٹی کے گریجوایٹس پیدا کریں جو کے کالج سیکٹر میں اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔ہمارے کالج سیکٹر کی کوالٹی اور یونیورسٹیوں کی ٹریننگ اس لیول کی ہونی چاہیے کہ دنیا میں انکو پذیرائی کی جائے۔اسکے ساتھ ساتھ اعلیٰ اور معیاری سستی تعلیم کا بندوبست بھی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2سالہ بی اے کروانے والے کالجز کا الحاق انکے ڈویژن میں موجود یونیورسٹی سے کر دیا جائے گا اور وہ کمیونٹی کالجز کہلائیں گے۔اس کے علاوہ پہلے سے پڑھائے جانے مضامین میں کچھ ٹیکنیکل مضامین کے کریڈٹ آورز شامل کر دئیے جائیں گے جس سے وہ طلباء ڈگری مکمل کرتے ہی ملازمت حاصل کر سکیں گے۔ساتھ ہی اگر کچھ طلباء پڑھائی جاری رکھنا چاہتے ہوں تو وہ اپنی اسی ڈگری کی بنیاد پر آگے 4سالہ پروگرام میں داخلہ لینے کے بھی اہل ہوں گے۔ہمیں بہترین کوالٹی درکار ہے۔ہم گذشتہ ایک سال سے انڈر گراؤنڈ اس معاملے پر بہت محنت کررہے ہیں اس لئے دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری لائی جا رہی ہے۔2سالہ ڈگری جن کالجوں میں چل رہی ہے وہ ویسے ہی چلے گی صرف نام تبدیل ہو گا،اساتذہ وہی رہیں گے،مضامین بھی وہی ہونگے،بس تھوڑا سا سٹرکچر تبدیل ہو گا۔ایسو سی ایٹ ڈگری کروانے والے ان کالجز کے پرنسپلز اور اساتذہ کی ٹریننگ پی ایچ ای سی کرے گا۔سالانہ سسٹم کی جگہ اب سمسٹر سسٹم متعارف کرایا جائے گاکیونکہ سالانہ سسٹم میں طلباء پورے دو سال پڑھائی سے دور رہتے ہیں اور امتحانات کے قریب ٹیوشن لے کر پڑھ لیتے ہیں جبکہ سمسٹر سسٹم میں انکی باقاعدہ مانیٹرنگ ہوتی ہے جس میں مڈٹرم امتحانات،کوئز،پراجیکٹس اور آخری ٹرم کے امتحانات طلباء کو پڑھائی سے جوڑے رکھتے ہیں۔لہذا طلباء بھی سارا سال چست رہتے ہیں۔کانفرنس کے اختتام پر سوال و جواب سیشن ہوا جس میں پنجاب کے تمام گورنمنٹ کالجوں سے آئے گئے پرنسپلز نے اپنے مسائل بیان کئے اور اپنی تجاویز دیں۔راجہ یاسر ہمایوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایسو سی ایٹ ڈگری متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ سی ٹی آئی سسٹم کے ذریعے ہائیرنگ کو بھی ختم کر دیا جائیگا اور مستقل اساتذہ کی بھرتی کی جائے گی۔ خصوصا 4سالہ کالجز میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا مکمل سٹاف موجود ہو گا اور مستقل ہو گا۔ہماری کوشش ہے کہ ہر شہر میں علاقائی لحاظ سے اسکے مقامی لوگوں کی ہی بھرتی کی جائے۔

یاسر ہمایوں

مزید : میٹروپولیٹن 1 /رائے