کھیوٹ اور انتقال کے 800سے زائد کیس لٹک گئے شہریوں کی جائیدادیں متنازعہ

کھیوٹ اور انتقال کے 800سے زائد کیس لٹک گئے شہریوں کی جائیدادیں متنازعہ

  



لاہور(عامر بٹ سے) ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کے افسران کی اضافی ڈیوٹیاں اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے انتظامی افسران کی مبینہ غفلت کے باعث کھیوٹ ایشو، مٹیشن ایشو اور مسنگ انتقالات کے 800 سے زائد کیس عوام کے گلے پڑگئے۔ محکمہ ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین کی غلطیوں کے سبب عو ام الناس کی صاف شفاف جائیدادیں جہاں متنازعہ ہوگئیں وہاں ان کی درستگی کرواتے ہوئے عوام الناس کی کثیر تعداد بھی اراضی ریکارڈ سنٹر میں خوار ہونے پر مجبور، روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کی چھ تحصیلوں کی حدود میں آنیوالے اراضی ریکارڈ سنٹر میں کھیوٹ ایشو، مٹیشن ایشو اور انتقالات کے 800سے زائد کیس التوا کا شکار ہیں، اراضی ریکارڈ سنٹرز کا سٹاف اس تاخیر اور سنگین غلطیوں کی ذمہ داری محکمہ ریونیو کے سٹاف پر ڈالنے لگا جبکہ محکمہ ریونیو سٹاف نے ان تاخیری حربوں اور التواء کے شکار ہونے والے کیسز کو اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف کی بد نیتی قرار دیدیا۔ روزنامہ پاکستان سے ملنے والی معلومات کے مطابق تحصیل سٹی میں کھیوٹ ایشو کے 46 جبکہ مٹیشن ایشو کے 54 کیس سامنے آئے ہیں تحصیل کینٹ میں کھیوٹ ایشو کے 12 مٹیشن ایشو کے 188،تحصیل شالیمار میں کھیوٹ ایشو کے 3مٹیشن ایشو کے 50کیس،رائیونڈ میں کھیوٹ ایشو کے 22مٹیشن ایشو کے 85کیس تاخیر کا شکار ہوئے۔ تحصیل پاجیاں میں کھیوٹ ایشو کے 30اور مٹیشن ایشو کے 85، تحصیل ماڈل ٹاؤن میں کھیوٹ ایشو کے 10 مٹیشن ایشو کے 101 اورمسنگ انتقالات کے 10کیسز بھی رونما ہوئے ایک عرصہ ہو چکا ہے ۔دوسری جانب ریونیو سٹاف نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آگاہی دی ہے کہ ڈی جی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی معظم اقبال سپرا یا ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال کھیوٹ ایشو، مٹیشن ایشو، انتقالات کے معاملات پر اگر انکوائری کروالیں تو 100 سارے حقائق سامنے آ جائیں۔ دوسری جانب اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف کا کہنا ہے کہ یہ وہ غلطیاں اور خامیاں ہیں جو ریونیو سٹاف کی جانب سے میسر ہوئی ہیں ہم ان کا ازالہ کر رہے ہیں۔ اراضی ریکارڈ سنٹر میں آنیوالی عوام کا کہناتھا کہ دونوں محکموں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی ہمارے لیے وبا ل جان بن چکی ہے۔ ہم کئی کئی ماہ سے کچہریوں کے چکر لگا لگا کر فٹبال بن چکے ہیں اور ہزاروں روپے کرایہ جات کی نذر ہوگئے ہیں ہمار ی صاف شفاف جائیدادیں ان کی وجہ سے متنازعہ بن چکی ہیں خواری ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ یہ کیسا سسٹم ہے جو کہ فوری ریلیف دینے کی بجائے ہمیں خوار کرنے پر مجبور کر رہا ہے ہماری دونوں محکموں کے سربراہ سے اپیل ہے کہ وہ سائلین کی دادرسی کے لیے بھی عملی اقدامات کریں۔ ترجمان پی ایل آر اے کا کہنا ہے کہ روزنامہ پاکستان کی نشاندہی کا نوٹس لیا جائے اور اس پر تفصیلی آگاہی بھی دی جائے گی۔

ریونیو

مزید : میٹروپولیٹن 1 /رائے