صدر ٹرمپ حکمران، ان ریپبلکن پارٹی کو پہلی کامیابی، ڈیمو کریٹک کی تحریک مسترد

    صدر ٹرمپ حکمران، ان ریپبلکن پارٹی کو پہلی کامیابی، ڈیمو کریٹک کی تحریک ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان،بیوروچیف) ریپبلکن پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کے مقدمے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اس تحریک کو مسترد کر دیا جس کے ذریعے وائٹ ہاؤس کو ہدایت کی جانی تھی کہ وہ صدر ٹرمپ کے یوکرائن کیساتھ معاملات کے بار ے میں دستاویزت اور شہادتیں سینیٹ کے سامنے پیش کرے۔ گزشتہ پہر مقد مے کے پہلے روز سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی لیڈ ر چک شمر نے یہ تحریک پیش کی تھی جسے پارٹی لائن کے مطابق ووٹنگ کے ذریعے 47 کے مقابلے پر 53 ووٹوں سے مستر د کر دیا گیا۔ اس طرح صدر ٹرمپ اور حکمران ریپبلکن پارٹی کو پہلی کامیابی حاصل ہو گئی اور اس سے ثابت ہو گیا ریپبلکن پارٹی کے تمام ارکان اس مقدمے میں اپنی پارٹی اور وائٹ ہاؤس کی خواہش کے مطابق ہی طرز عمل اختیار کریں گے۔ امریکی تاریخ میں کسی صدر کیخلاف مواخذے کے اس تیسرے مقدمے کے دوسرے روز بھی اکثریتی لیڈر مچ میکا نل کی طرف سے کارروائی کے ضوابط کے مطابق دونوں پارٹیوں کی طرف سے د لائل پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے ابتدائی منصوبے میں بحث کیلئے دو دن مخصوص کئے تھے تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے سخت دباؤ اور احتجاج کے بعد انہوں نے یہ عرصہ تین دن کر دیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے اس وقت مقدمے کی کارروائی تقریباً انہی خطوط پر ہونے کا امکا ن ہے جیسا سابق صدر بل کلنٹن کیخلاف ہوئی تھی۔ اکثریتی لیڈر کے ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد سات منیجرز اور صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کو بحث کیلئے کل چوبیس گھنٹے کا وقت ملے گا جو ان میں برابر تقسیم ہو گا۔ اس طرح یہ بحث تین دن تک محیط ہو گی اور ہر روز کا دورانیہ آٹھ گھنٹے کا ہو گا وہ اس بات پر بھی رضامند ہو گئے کہ ووٹنگ کے بغیر ہی ایوان نمائندگان کی مواخذے کی انکوائری کے مکمل مسو د ے کو شہادتی ریکارڈ میں شامل کر دیا جائے۔ تاہم اقلیتی لیڈر چک شمر نے ابھی ہار نہیں مانی جن کا کہنا ہے وہ اب بھی ا کثریتی لیڈر میکونل کی طر ف سے پیش کردہ ضابطے میں ترمیم کی تحریک پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے چک شمر نے سینیٹ پر زور دیا وہ پہلے ہونیوالی موا خذے کی کارروائیوں کی طرح متعلقہ گواہوں اور شہادتوں کو ضرور طلب کریں۔دوسرے روز کی کارروائی کا اہم ترین حصہ ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین اور ڈیمو کر یٹک پارٹی کے استغاثے کے سات منیجرز کے سربراہ ایڈم شیف کی طویل و مدلل تقریر تھی۔ انہوں نے مقدمے کے صدر اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس کو مخاطب کر تے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس اور تمام محکموں کو حکم دیں کہ وہ ان دستاویزات اور شہادتوں کو سینیٹ میں پیش کریں جو انہوں نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر روک رکھی ہیں۔ مسٹر شیف نے بتایا صدر ٹرمپ نے پہلے2016ء کے صدارتی انتخابات میں اپنی مخالف ہیلر ی کلنٹن کو نقصان پہنچانے کیلئے روس کی مدد سے ان کا ای میل ڈیٹا ہیک کروایا اور اب 2020ء کے صدارتی انتخابات میں ایک اہم مخالف امیدوار سابق نائب صدر جوبائیڈن کیخلاف کرپشن کا مقدمہ چلانے کیلئے یوکرا ئن کے صدر سے مدد طلب کی۔ اپنے ذاتی فائدے کے حصو ل کیلئے انہوں نے یوکرائن کو دی جانیوالی فوجی امداد کو ان سے تعاون سے مشروط کر دیا۔ اس کے بعد جب صدر ٹرمپ پکڑے گئے اور کا نگر یس نے ان کے غیر آئینی اقدام کی انکوائری شروع کی تو انہوں نے وائٹ ہاؤس اور دیگر محکموں کو دستاویزات اور شہادتیں فراہم کرنے سے منع کر دیا۔ مسٹر شیف نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے وجہ بتائی کہ آئین سازوں نے صدر کو بے پناہ اختیارات دینے کے بعد ان کے نا جا ئز استعمال اور کرپشن سے روکنے کیلئے مواخذے کی دفعا ت کیوں آئیں میں شامل کیں۔ قبل ازیں منگل کی سہ پہر جب مواخذے کے مقد مے کی کارروائی شروع ہوئی تو وہ ساری رات بلکہ صبح سویرے دو بجے تک جاری رہی۔ اس کے دوران دونوں اطراف نے جیسا سخت لہجہ استعمال کیا اس پر چیف جسٹس نے دونوں پارٹیوں کی سخت سرزنش کی۔ اقلیتی لیڈر چک شمر نے کہا ساری رات کارروائی جاری رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثریتی لیڈر مچ میکانل نے صدر ٹرمپ سے وعدہ کر رکھا ہے وہ اس کارروائی کو طول دینے کی بجائے جلد نمٹا دیں گے۔

مواخذہ کارروائی

مزید : صفحہ اول