چین میں کرونا وائر س سے 9افراد ہلاک، پاکستان میں ایڈ وائزری جاری

  چین میں کرونا وائر س سے 9افراد ہلاک، پاکستان میں ایڈ وائزری جاری

  



بیجنگ،اسلام آباد،واشنگٹن (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)چین میں محکمہ صحت کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اب تک نو افراد کی ہلاکت کی وجہ بننے والا نیا وائرس میوٹیشن یا تغیر کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس وبا کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ بیماری بنیادی طور پر سانس کی نالی کے ذریعے پھیلی۔لی بن نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک اس وائرس کے ٹرانسمیشن روٹ کو پوری طرح سے سمجھا جانا باقی ہے لیکن اس وائرس میں تغیر کی صلاحیت موجود ہونے کا امکان اور اس وبا کے مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ 2197 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے۔ وفاقی وزارت صحت نے کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کر دی۔وزارت صحت نے چین کے صوبے وہ ہان میں خطرناک کرونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کو اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی۔وائرس سے چین میں 1700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، اس وائرس سے ایسے افراد جن میں قوت مدافعت کم ہو وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے عالمی ادارہ صحت کا ہنگامی اجلاس جینیوا میں ہو رہا ہے۔امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ چائنا وائرس(کورونا وائرس) سے متاثرہ ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہائی میں ہے اور سی ڈی سی کے مطابق وہ 15 جنوری کو چین سے واپس امریکہ آیا تھا۔سی ڈی سی کے اعلامیے کے مطابق مریض نے واشنگٹن ریاست کے ایک ہسپتال میں اپنے علاج کے لیے رابطہ کیا تھا جہاں ان کی مرض کی تشخیص اور علاج ہوا۔مریض کے سفری ریکارڈ اور طبی علامات کو دیکھ کر ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ انھیں کورونا وائرس ہے۔ ان کے سائنسی تجزیے اور تجربے کرنے کے بعد 20 جنوری کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مریض کوکرونا وائرس ہے۔

کرونا وائرس

مزید : صفحہ اول