پولیس اسے چکر دے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو: جسٹس عالیہ نیلم

پولیس اسے چکر دے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو: جسٹس عالیہ نیلم

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے قراردیاہے کہ پولیس والے عدالتوں کو چکر دینے بند کردیں،پولیس نے عام شہریوں کو چکردینا وتیرہ بنا رکھا ہے،پولیس عدالت کو بھی چکر دینے کی کوشش کرتی ہے،چکر اسے دیئے جائیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو،جسٹس عالیہ نیلم نے یہ ریمارکس لاپتہ شہری حامد رضااعوان کی بازیابی کے لئے اس اہلیہ کی طرف سے دائردرخواست کی سماعت کے دوران سی سی پی اولاہور ذوالفقارحمید کو مخاطب کرکے دیئے،فاضل جج نے اس کیس میں پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کو طلب کرلیا۔حبس بے جا کی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ حامد اعوان نامی شہری کو گھرسے اٹھا لیا گیا،شہری کے اغواء کا تھانہ ہربنس پورہ لاہورمیں مقدمہ درج کرایا گیامگرپولیس کارروائی نہیں کررہی، پولیس نے درخواست کے مطابق مقدمہ درج نہیں کیا، خدشہ ہے کہ پولیس خود خاوند کو غائب کرنے میں ملوث ہے، سی سی پی اولاہور کی طرف سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ حامد رضااعوان پولیس کے پاس نہیں ہے،مغوی کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا، تلاش جاری ہے، پتہ نہیں مغوی زندہ بھی ہے کہ نہیں، اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور محکمہ داخلہ کو خطوط لکھے ہیں، خط میں ملک بھر کے ہسپتالوں، ڈیڈ ہاؤسز ودیگر مقامات سے تلاش کے لئے کہا ہے،مغوی کی بازیابی اور شناخت کے لئے ڈی این اے بھی کرائیں گے، جس پرفاضل جج نے کہا کہ پولیس نے عام شہریوں کو چکردینا اپناوتیرہ ہ بنا رکھا ہے، عدالت کو چکر دینے بند کریں،چکراسے دیئے جائیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو،ایک بندہ گھر سے اٹھایا گیا اور پولیس پردہ داری کررہی ہے،پردہ داری کرنے والے خود کو مشکلات کا شکار نہ بنائیں،گھر سے اٹھانے والوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں، بتایا جائے سی ٹی ڈی کی وردی کا رنگ کون سا ہے؟سرکاری وکیل نے عدالتی استفسار پربتایاسی ٹی ڈی والے سادہ لباس میں ہوتے ہیں، جس پرعدالت نے کہا کہ عینی شاہد کے مطابق سادہ لباس والے بھی بندہ اٹھانے والوں میں شامل تھے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوطلب کرلیا۔

جسٹس عالیہ نیلم

مزید : صفحہ آخر