ہماری جماعت حکومت کی مخالف نہیں اتحادی ہے، شجاعت حسین

ہماری جماعت حکومت کی مخالف نہیں اتحادی ہے، شجاعت حسین

  



لاہور(خصوصی رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ہماری جماعت کا حکومت کے ساتھ اتحاد ہے، ہمیں محض اتحادیوں کی کیٹگری میں نہ رکھا جائے، ہماری پارٹی کے لیڈر چودھری پرویزالٰہی اور طارق بشیر چیمہ حکومت کی اصلاح کیلئے بات کرتے ہیں۔ وہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کے ہمراہ لاہور بار کے نومنتخب صدر جی اے خان طارق اور دیگر نومنتخب عہدیداروں کی قیادت میں ان کی رہائش گاہ پر ملنے والے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہماری باتوں کو مخالفت کے زمرے میں نہیں لینا چاہئے، ہم تنقید نہیں کرتے بلکہ تجاویز دیتے ہیں، ہماری تجاویز اور باتوں سے حکومت کو استفادہ کرنا چاہئے کیونکہ ہم بطور اتحادی اپنی تجاویز سے حکومت کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بعض حواری ہمارے کلپ دکھا کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے بار کے نومنتخب صدر اور دیگر ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ عوام کو فوری اور سستا انصاف ان کی دہلیز پر ملے، وکلاء نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جب بھی موقع ملا ہم نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو یکساں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے نہ صرف اقدامات کئے بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کروایا۔ اس موقع پر سینئر قانون دان جہانگیر اے جھوجہ، عالمگیر ایڈووکیٹ، ارشد جہانگیر جھوجہ، آصف محمود چیمہ اور سید محمد اسلم رضوی بھی موجود تھے۔ صدر جی اے خان طارق نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے وفد کا تعارف کروایا جن میں سینئر نائب صدر رانا نعیم، نائب صدر کرم نظام راں، جنرل سیکرٹری ریحان خان میو، سیکرٹری سلطان حسن ملک، جوائنٹ سیکرٹری میاں اسامہ، فنانس سیکرٹری علی عمران بھٹی، لائبریری سیکرٹری رضا محمود، صدر کینٹ بار میاں سخاوت اور نائب صدر ماڈل ٹاؤن بار ندیم ضیا بٹ بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی نے بطور وزیراعلیٰ وکلاء کو پنجاب بار کونسل کی عمارت بنا کر دی، وکلاء کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں فری علاج و ادویات کی سہولت فراہم کی، ان کے دور میں وکلاء برادری بہت خوش تھی یہی وجہ ہے کہ وکلاء برادری میں آپ کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے اور آپ کی خدمات کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

شجاعت حسین

مزید : صفحہ آخر