ٹیکس کا نظام مزید صاف و شفاف بنانے کیلئے پشاور میں انڈ یپنڈ نٹ پراپرٹی سروے کا آغاز

  ٹیکس کا نظام مزید صاف و شفاف بنانے کیلئے پشاور میں انڈ یپنڈ نٹ پراپرٹی سروے ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پخونخوا کے عوام و تاجر برادری کیلئے خوشخبری، ٹیکس کا نظام مزید صاف و شفاف بنانے کیلئے پشاور میں انڈیپنڈنٹ پراپرٹی سروے کا آغازمحکمہ ایکسائز کی جانب سے خیبر پختونخوا کے عوام اور تاجر برادری کیلئے ایک اور احسن اقدام اْٹھایا ہے۔ عوامی شکایات دور کرنے اور صاف و شفاف ٹیکس سسٹم کیلئے محکمہ ایکسائز نے پشاور میں پراپرٹی ٹیکس کیلئے انڈیپنڈنٹ سروے کا آغاز کیا ہے۔ سیکرٹری ایکسائز ظفر علی شاہ کے مطابق اس سے پہلے پراپرٹی ٹیکس سروے (ناپ تول) ٹیکسوں کا تعین محکمہ ایکسائز کے اہلکار کرتے تھے، جس پر پراپرٹی مالکان کے تحفظات، غلط اسسمنٹ اور ٹیکسوں کے غلط تعین کی شکایات موصول ہوتی تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس نظام کو سہل اور صاف و شفاف بنانے کیلئے پراپرٹی ٹیکس سروے کی ذمہ داری بذریعہ ٹینڈر غیر جانبدار پرائیوٹ کمپنی کو دی گئی ہے۔ جس سے عوام کے تحفظات اور شکایات دور ہونگی۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز سید فیاض علی شاہ کا کہنا ہے کہ انڈیپنڈنٹ سروے کے صاف و شفاف اسسمنٹ (تعین) سے نہ صرف چھوٹے پراپرٹی مالکان پر غلط اور اضافی ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوگا، بلکہ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے انھیں ٹیکس نیٹ سے نکال دیا جائیگا۔اور ان بڑے پراپرٹی مالکان جو ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں لیکن ٹیکس چوری کرتے ہیں یا کسی بھی طرح کی بدعنوانی کے زریعے کم ٹیکس جمع کرتے ہیں انھیں قانون کے مطابق صاف شفاف طریقے سے ٹیکس نیٹ میں شامل کر دیا جائیگا۔ اس سروے سے پشاور کی تمام پراپرٹیز کا آن لائن اندراج جی آئی ایس لوکیشن پر ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ای پیمنٹس کا نظام رائج کیا جائے گا جس سے سارا نظام اٹومیٹ ہوجائے گا۔ سید فیاض علی شاہ کے مطابق اس سروے سے نہ صرف چھوٹے پراپرٹی مالکان پر ٹیکسس کا بوجھ کم ہوگا بلکہ صوبائی محاصل میں اضافہ ہوگا۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے عوام الناس سے درخواست کی ہے کہ انڈیپنڈنٹ سروے کے اہلکاروں سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ انڈیپنڈنٹ سروے کا مقصد آپ کی شکایات و تحفظات دورکرنا غلط اور غیر قانونی اضافی ٹیکسوں کا خاتمہ اور ایک صاف شفاف پراپرٹی ٹیکس نظام متعارف کرنا ہے۔جی آئی ایس سروے ابتدائی طور پر پشاور میں جاری ہے جبکہ نوشہرہ اور مردان کیلئے ٹینڈرز مشتہر کئے جاچکے ہیں جس پر جلد ہی کام شروع کیا جائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر