ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے ٹیکس وصولی کسی صورت قبول نہیں،علی رحمان

  ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے ٹیکس وصولی کسی صورت قبول نہیں،علی رحمان

  



بٹ خیلہ(بیورورپورٹ) ناظمین اتحاد کونسل سخاکوٹ کے سابق صدر اورٹریڈ یونین مجلس عاملہ کے چیئرمین علی رحمان خان نے کہا ہے ٹیکس فری زون ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے ٹیکس وصولی کسی صورت قبول نہیں کرینگے کیونکہ آئین نے ڈویژن بھر کے عوام کو ٹیکس کے نفاذ سے چھوٹ دی ہے لیکن اس کے باوجود ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے بجلی، گیس، ٹیلیفون بلز اور دیگر ضروریات زندگی کے آشیاء پر ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے وقت بھی حکومت نے ڈویژن کے عوام سے 2023سے قبل ٹیکس وصول نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اپنے ہی وعدے سے خلاف ورزی کر رہے ہیں جس سے عوام میں مایوسی اور بے چینی پھیل گئی ہے۔پریس کلب آفس میں نیوز کانفرنس کے دوران علی رحمان خان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ، سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے متاثرہ اور پسماندہ ڈویژن ہے جبکہ اُوپر سے ٹیکس کے اضافی بوجھ ڈال کر یہاں کے عوام کی کمر توڑی جارہی ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملاکنڈ ڈویژن میں نافذ کئے گئے ٹیکس کا فیصلہ واپس لیں بصورت دیگر ڈویژن بھر پر تاجر برادری اور عوام کیساتھ مل کر بھر پور احتجاجی تحریک شروع کرینگے۔ انہوں نے مذید کہا کہ موجودہ حکومت نے الیکشن سے قبل ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ترقی، خوشحالی اور روزگار کے جو سبز باغ دکھائے تھے اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں سے یکسر مُکر گئے ہیں اور عوام پر مہنگائی اور بے روزگاری کے بم گرائے جارہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی و صوبائی حکومت اور منتخب ممبران اسمبلی و وزراء سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کا فیصلہ لیں اور غریب عوام کی حالت زندگی بہتر بنانے کے لئے مہنگائی ختم کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر