قبائل وکلاء کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے رولز میں ترامیم مسترد

  قبائل وکلاء کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے رولز میں ترامیم مسترد

  



پشاور (سٹی رپورٹر)ضم قبائلی اضلاع کے وکلاء نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019میں قبائلی ضم شدہ اضلاع کیلئے اے ڈی آر کمیٹی کے رولز میں ترامیم مسترد کرتے ہوئے اسکو ایف سی آر کی دوسری شکل قررار دیکر مذکورہ ترامیم کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے فی الفور ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر ان غیر قانونی ترامیم کے خلاف ہر فورم پر اُٹھانے کا اعلان بھی کیا ہے اور حکومت کی جانب سے ایکٹ میں کیئے گئے ترامیم کے حوالے سے عوام میں بیداری مہم چلانے کا بھی اعلان کیا گیا اس بات کا فیصلہ گزشتہ روز قبائیلی اضلاع کے بار ز ایسو سی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس میں ہوا جس صدارت خیبر ڈسٹرکٹ بار کے صدر تاج محل آفریدی نے کی اجلاس میں ضم قبائیلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں وکلاء نے شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ طور پر قرار ددیں منظور ہوئی جس کی تحت مذکورہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019میں قبائلی اضلاع کے حوالے سے ترمیم مسترد کیا گیا اور اس ترامیم کے متعلق نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے ایسو سی ایشن نے اگاہی مہم چلانے کیساتھ ساتھ28جنوری کو بوقت 11بجے پشاور ہائی کورٹ بار روم میں تمام ضم شدہ اضلاع کے صدر اور جنرل سیکرٹری بمعہ ممبران اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے جسمیں مذکورہ بلدیاتی ترایم کے حوالے سے خیبر پختونخوا بار کونسل کو اپنے تھٖظات سے اگاہ کریگی جبکہ ضم شدہ اضلاع میں جنرل باڈی اجلاس بھی بلایا جائے گا۔واضح رہے کہ مذکورہ ترامیم کو پہلے ہی عدالت غیر قانونی قرار دے چکی ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر