محکمہ صحت میں ڈاکٹرز کی کمی پہلی ترجیح میں دور کر رہے ہیں،شہرام ترکئی

  محکمہ صحت میں ڈاکٹرز کی کمی پہلی ترجیح میں دور کر رہے ہیں،شہرام ترکئی

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبہ خیبر پختونخواکے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی کمی کو دور اور ادویات کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت نے فوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ محکمے میں پوسٹنگ ٹرانسفر کے لیے شفاف پالیسی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ اس سال کے وسط تک صوبے کی تمام آبادی کو صحت انصاف کارڈ بھی فراہم کئے جائیں گے۔ محکمہ صحت کے امور اور صوبائی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے ٹاسک کی تیز تر انجام دہی کے لئے ٹاسک منیجمنٹ سسٹم شروع کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت میں یہ اقدامات اٹھانے کا اعلان خیبرپختونخوا کے وزیر صحت شہرام خان ترکئی نے ہیلتھ سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر طاہر ندیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔صوبائی وزیر کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر محکمہ صحت کی باگ ڈور دوبارہ سنبھالی ہے اور صحت نظام کو بہتر کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا شروع کردیا گیاہے۔ ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر 1500 کے قریب ڈاکٹرز بھرتی کر رہے ہیں جن کے انٹرویوز آج سے شروع ہو رہے ہیں۔ یہ ڈاکٹرز جس ہسپتال میں بھرتی ہوں گے وہیں رہیں گے انہیں ٹرانسفر نہیں کیا جائے گا۔ بنیادی ہیلتھ کیئر اور چھوٹے ہسپتالوں میں عملے سمیت تمام سہولیات مہیا کریں گے تاکہ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہو اور عوام کو نزدیک ترین مرکز صحت میں سہولیات دستیاب ہوسکے۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ میں خودکار نظام لا رہے ہیں جس سے سفارش کلچر ختم ہوگا اور تمام تر تعیناتیاں اور تبادلے سو فیصد میرٹ پر ہوں گے۔ یہ عمل سال میں ایک دفعہ ہو گا اور ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے آن لائن درخواستیں لی جائیں گی تاکہ محکمہ کا کوئی ملازم خوا وہ ڈاکٹر ہو یا نرس یا کوئی دیگر اہلکارکسی کو دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ محکمہ صحت میں افسران و ملازمین کے کام اور زندگی کو آسان بنایا جائے گا تاکہ ان کی تمام تر توجہ مریضوں کے بہترین علاج معالجہ پر مرکوز ہو سکے۔ آن لائن نظام کے رائج ہونے سے صحت عملے کی حاضری بھی یقینی ہوگی۔ ٹریننگ اور دیگر مقاصد کے لیے چھٹیاں بھی سال میں ایک بار ہی حاصل کی جا سکیں گی۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح نئے آلات کی فراہمی اور خراب آلات کی مرمت سمیت صفائی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جو ہسپتال بن چکے ہیں وہاں عملے اور آلات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور جو تعمیر ہورہے ہیں ان پر جلد کام مکمل کیا جائے گا۔ ہسپتالوں کی شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی سکیم بھی جاری ہے جس سے کچھ ہسپتالوں میں 24 گھنٹے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ صوبے کے ہر شہری کودینے کے لیے اقدامات کو حتمی شکل دی جارہی ہیں اور اس سال جولائی تک یہ عمل کر لیا جائے گا۔ صوبہ خیبرپختونخوا کو اس معاملے میں ملک کے تمام صوبوں پر سبقت حاصل ہے۔ صحت انصاف کارڈ کے لیے پورے ملک کے بڑے ہسپتالوں کو پینل میں شامل کریں گے تاکہ شہری اپنی مرضی سے کسی بھی ہسپتال سے علاج کراسکیں۔ ٹاسک منیجمنٹ سسٹم کے حوالے سے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مذکورہ سسٹم سے صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ صحت کو ملنے والے ٹاسک بروقت اور آسان طریقہ کار سے مکمل کیے جا سکیں گے اور ان کی مانیٹرنگ بھی ہوگی۔ اس نظام سے جہاں وقت کی بچت ہوگی وہیں احکامات اور ٹاسک ٹریک ریکارڈ بھی مرتب ہوگا۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ آن لائن ڈرگ لائسنسنگ سسٹم بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر