پانی کے غیر قانونی کنکشنز کو رجسٹر ڈ کر کے مالی آمدن بڑھائی جائے: ریاض خان

  پانی کے غیر قانونی کنکشنز کو رجسٹر ڈ کر کے مالی آمدن بڑھائی جائے: ریاض خان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ریاض خان نے کہا ہے کہ اس وقت محکمہ پی ایچ ای ڈی صوبے میں عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہا ہے اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر جہاں کہیں عوامی شکایات ہیں ان کے بروقت حل کے لئے ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس وقت پورے خیبرپختونخوا میں تقریبا ہر گھر تک محکمہ پبلک ہیلتھ کے خدمات دی جا رہی ہیں لیکن اس ضمن میں محکمے کے ساتھ عوامی تعاون کی بھی ضرورت ہے تاکہ بہترین خدمات کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی نے محکمہ پی ایچ ای ڈی میں ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے پبلک ہیلتھ کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر مسعود رحمان کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ انجینئر بہرہ مندخان، چیف انجینئر نارتھ عبدالسمیع نے بھی شرکت کی۔ معاون خصوصی ریاض خان نے واٹر کوالٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بہترین اور معیاری پانی فراہم کرنے کے لئے محکمہ پبلک ہیلتھ روزانہ اقدامات اٹھا رہا ہے تاکہ عوام کو پانی کی بہترین کوالٹی فراہم کی جائے، اسی سلسلے میں کلورینیشن کا عمل بھی باقاعدگی سے کیا جاتا ہے، کیونکہ ان تمام سکیمز کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل اور ٹانک میں جاری سکیموں کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاض خان نے کہا کہ جاری ترقیاتی سکیموں پرریگولر بنیاد پر نظر رکھی جائے تاکہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔ جس سے نہ صرف عوام کو بروقت سہولت و آسانی ملے گی بلکہ بہترین طرز حکمرانی کی جانب پیش رفت بھی ممکن ہو سکے گی۔ ریونیو کلیکشن بارے انہوں نے کہا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے ریونیو کلیکشن کے لئے واضح احکامات ہیں کہ ہر محکمہ اس کے متعلق اقدامات اٹھائے لہذا محکمہ پبلک ہیلتھ بھی ریونیو کلیکشن بڑھانے کے لئے غیررجسٹرڈ پانی کنکشنز کے حوالے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور جہاں کہیں ایسے کنکشنز ہیں ان کی نشاندہی کی جائے اور انہیں رجسٹرڈ کیا جائے، جس سے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ریونیو کلکشن میں اضافہ کے ساتھ غیرقانونی پانی کے استعمال پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر