قبائلی عوام کو معدنی ذخائر پرلائسنس کا حق دیا ہے: واجد علی

  قبائلی عوام کو معدنی ذخائر پرلائسنس کا حق دیا ہے: واجد علی

  



ہنگو(بیورورپورٹ)موجودہ حکومت نے پہلی با ر ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترمیم کے بدولت مقامی لوگوں کو موجود معدنی ذخائر پر لائسنس کا حق دیاہے جس سے علاقے میں امن خوشحالی اور نئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے مقامی سطح پر تنازعات کے حل کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹی ہوگا معدنیات ہمیشہ سے ہی پورے ملک میں سرکار کے ملکیت میں رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ضلع اورکزئی واصل خان خٹک،انسپکٹر معدنیات سجاد نے اورکزئی ہیڈ کوارٹر جرگہ ہال میں معدنیات ایکٹ 2019کے ترمیمی بل کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر واجد علی خان،اسسٹنٹ کمشنر اپر اورکزئی حیدر حسین،تمام سرکاری محکموں کے افسران اور قبائلی عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقرررین نے کہاکہ کے پی کے اسمبلی نے 3نومبر 2019کو مینرل سیکٹر گوارننس ایکٹ 2019میں ترمیمی بل پاس کیا جس کے بعد حقائق سے لاعلمی کے باعث ایک منفی تاثر دیا جارہاہے حالانکہ ایسا نہیں ہے درحقیقت اس ترمیمی بل کے بنیاد پر ایکٹ میں شیڈول 8کا خصوصی اضافہ کیاگیاہے جوکہ نئی ضم شدہ قبائلی اضلاع کے متعلق ہے جس سے علاقے میں امن خوشحالی اور ملازمتوں کے کثیر مواقع پیدا ہونگے شیڈول 8میں کہاگیاہے مقامی باشندوں اور ملکان زمین کو لائسنس کا پہلا حق حاصل ہوگا جوکہ قوم اور قبیلہ اپنے مرضی سے کسی فرد کو بذریعہ جلسہ عام مینرل ٹائٹل کا موقع دیگیا ہے متعلقہ قوم کے حصے کا تعین مقامی ضلعی انتظامیہ کریگی پہلے سے جاری شدہ لائسنسیں جاری رہیں گے مقامی سطح پر مسائل کے حل کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹی ہوگی مقررین نے کہاکہ معدنیات ہمیشہ سے ہی پورے ملک میں سرکار کی ملکیت میں رہے ہیں اسی بنیاد پر لائسنس یا مینرل ٹائٹل کا اجراء ہوتاہے انہوں نے کہاکہ ائین پاکستان کے ارٹیکل 172شک دو میں درج ہیں اس ارٹیکل کے بنیاد پر مروجہ قوانین ریکولیشن اف مائنز اینڈ ائل فیلڈ اینڈ مینرل ڈویلپمنٹ گورنمنٹ کنٹرول ایکٹ 1948اور لینڈ روینیو ایکٹ 1967کے سکشن 49میں ہے جس کے تحت ہر قسم کے معدنیات اور کان پہلے ہی سے سرکار کے ملکیت ہے اسی شک کو ترامیمی ایکٹ کا حصہ بنایاہے تاکہ عوام کو اگاہی ہو کہ معدنیات اور معدنی کان کنی صوبائی حکومت کی ملکیت ہے ماضی میں بھی سابقہ فاٹا کے علاقوں میں ان ہی قوانین کے بدولت مینرل ٹائٹل کا اجراء ہوتارہاہے یہ کوئی نیاقانون نہیں ایکٹ میں ترمیم سے قبائل کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا اس لئے قبائلی عوام منفی پروپیگنڈوں پر کان نہ دھریں

مزید : پشاورصفحہ آخر